سوڈان کے باغی لیڈر خلیل ابراہیم کی ہلاکت | حالات حاضرہ | DW | 25.12.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سوڈان کے باغی لیڈر خلیل ابراہیم کی ہلاکت

سوڈان کے صدر عمر البشیر کو اندرون ملک اور بیرون ملک کئی طرح کے دباؤ کا سامنا ہے۔ اندرون ملک انہیں ایسے حکومت مخالف مسلح گروپوں کے اتحاد کا سامنا ہے جو ان کی حکومت ختم کرنے کے درپے ہیں۔

default

شمالی افریقی ملک سوڈان کی سرکاری نیوز ایجنسی اور سرکاری میڈیا نے اعلان کیا ہے کہ صدر عمر البشیر کی وفادار فوج نے اہم باغی لیڈر خلیل ابراہیم کو ہلاک کردیا ہے۔ سوڈان نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق سرکاری فوج نے شمالی کردوفان ریاست کے علاقے واد بندہ میں لڑائی کے دوران خلیل ابراہیم نامی رہنما کو ہلاک کیا۔ خلیل ابراہیم حرکتہ العدل و المساوات (Justice and Equality Movement) نامی تحریک کا سربراہ تھا۔ اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

تین روز قبل حکومت مخالف فورسز نے کہا تھا کہ وہ ملکی دارالحکومت خرطوم کی جانب پیش قدمی کر رہی ہیں تاکہ صدر عمر البشیر کی حکومت کا تختہ الٹا جا سکے۔ حرکتہ العدل و المساوات (JEM) کی مرکزی قیادت کے قریبی ذرائع کا خیال ہے کہ اس خبر میں صداقت ضرور ہے۔ شمالی کردوفان کے گورنر نے بھی حکومت مخالف باغیوں کی جلتی موٹر گاڑیوں کی تصدیق کی ہے۔ لڑائی کا مقام جنوبی سوڈان کی سرحد کے قریب بتایا گیا ہے۔

سوڈان کے سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق حکومتی فوج نے خلیل ابراہیم کے ساتھ براہ راست لڑائی اس وقت لی جب وہ جنوبی سوڈان کی جانب روانہ تھا۔ اس کے علاوہ حرکتہ العدل و المساوات کے دیگر اہم کمانڈروں کو بھی اس جھڑپ میں ہلاک کر دیا گیا۔ حکومتی ترجمان کے مطابق خلیل ابراہیم کی تنظیم کے اراکین نے مختلف علاقوں میں لوٹ مار کا سلسلہ مچا رکھا تھا اور اس مناسبت سے ان کی سرکوبی کے لیے کارروائی کی گئی۔ اسی فوجی ایکشن میں خلیل ابراہیم کی ہلاکت ہوئی ہے۔

Sudan Sudan People's Liberation Movement-North

سوڈانی صدر عمر البشیر کو مسلح باغی گروپوں کا سامنا ہے

خلیل ابراہیم کی تحریک JEM کے لندن میں مقیم ترجمان کے مطابق تنظیم کی فوج نے خرطوم کی جانب پیش قدمی شروع کر رکھی ہے۔ ترجمان جبریل آدم بلال کے مطابق حرکتہ العدل و المساوات کی فوجیں دارفور کے مشرق سے شمالی کردوفان سے 120کلومیٹر کی مسافت پر واقع دارالحکومت خرطوم کی جانب روانہ ہیں۔

اسی برس جولائی میں صدر عمر البشیر کی حکومت نے دارفور میں امن و سلامتی کے معاہدے دوحہ پیکٹ پر دستخط کیے تھے۔ یہ معاہدہ حرکتہ العدل و المساوات کے باغی گروپ لبریشن اینڈ جسٹس موومنٹ کے ساتھ طے پایا تھا۔ اس دستاویز پر حرکتہ العدل و المساوات کے علاوہ سوڈان لبریشن آرمی کے دو گروپوں نے دستخط نہیں کیے تھے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس

اشتہار