سوڈان میں بعض ′اسلامی قوانین′ کے خاتمے کا فیصلہ | حالات حاضرہ | DW | 13.07.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

سوڈان میں بعض 'اسلامی قوانین' کے خاتمے کا فیصلہ

افریقی ملک سوڈان نے غیر مسلموں کو شراب پینے کی اجازت دینے کے ساتھ ہی مرتد کی سزائے موت کو ختم کرنے اور خواتین کے ختنے جیسی روایت پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سوڈان کی نئی حکومت نے گزشتہ تقریبا ًچالیس برسوں سے نافذ سخت اسلامی قوانین میں بعض نرمیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ غیر مسلموں کو ہنگامہ اور فساد برپا نہ کرنے کی شرط پر شراب پینے کی اجازت دی جائے گی۔

 سوڈان میں شرعی قوانین کے مطابق مرتد کی سزا موت ہے تاہم ملک کے وزیر انصاف نصیر الدین عبد الباری نے ایسے قوانین میں اصلاحات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کو ختم کیا جائے گا اور خواتین کے ختنے جیسی روایات پر پابندی عائد کی جائے گی۔

سوڈان میں عمر البشیرکی حکومت کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے تھے جس کے بعد تقریباً تیس برس بعد ان کے اقتدار کا خاتمہ ہوا اور نئی حکومت کے اقتدار میں آنے کے ایک برس بعد ان اصلاحات کا اعلان کیا گیا ہے۔

ملک کے وزیر انصاف نصیرالدین عبد الباری نے سرکاری ٹی وی پر ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ اب سوڈان ''غیر مسلوں کو اس شرط پر شراب پینے کی اجازت دیتا ہے کہ وہ اس سے امن امان کو خراب نہیں کریں گے اور سر عام شراب پینے سے گریز کریں گے۔''

 سوڈان کے سابق صدر جعفر النمیری نے سن 1983 میں ملک میں شرعی قوانین کا نفاذ کرتے ہوئے شراب پر پابندی عائد کر دی تھی۔ انہوں نے شراب پر پابندی کا اعلان کرتے ہوئے دارالحکومت خرطوم میں وہسکی کی بوتلیں دریائے نیل میں غرق کردی تھیں۔  شرعی قوانین کے مطابق مسلمانوں کے لیے شراب پینا حرام ہے تاہم مسلم اکثریتی ملک سوڈان میں مسیحی برادری کی بھی ایک بڑی تعداد رہتی ہے۔

سوڈان نے مرتد ہونے کی سزائے موت کو ختم کرنے اور خطے میں خواتین کے ختنے کے چلن کو بھی ختم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ افریقی ممالک میں مسلم اور عیسائی برادری سمیت تقریبا ًتمام مذاہب کی خواتین کے ختنے کی روایت عام ہے۔ بچوں کی فلاح و بہود کے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کی 2014 کی ایک رپورٹ کے مطابق  86 فیصد سے بھی زیادہ سوڈانی خواتین اس رسم کا شکار بنتی ہیں۔

حکومت نے ان اصلاحات کے تحت اس قانون میں بھی تبدیلی کا وعدہ کیا ہے جس کے تحت خواتین کو اپنے بچوں کے ساتھ باہر سفر پر جانے کے لیے اپنے مردوں سے اجازت لینی پڑتی ہے۔ اب ایسے سفر کے لیے خواتین کو اپنے شوہروں سے اجازت نامہ حاصل کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

بشیر حکومت کے خاتمے کے بعد قائم ہونے والی سوڈان کی عبوری حکومت میں وزیر انصاف عبد الباری نے ارتداد سے متعلق کہا، ''کسی بھی شخص کو کسی فرد یا پھر گروپ پر کفر کا فتوی صادر کرنے کا حق نہیں ہے۔۔۔ اس سے معاشرے کا تحفظ اور سکیورٹی کے خطرے میں پڑنے کا خدشہ ہے اوراس سے انتقامی قتل و غارت گری کو فرغ ملتا ہے۔''

ایک طویل احتجاج کے بعد ملک کی فوج اور مظاہرین کے درمیان ہونے والے ایک معاہدے کے تحت قائم ہونے والی عبوری حکومت اب تک اس طرح کی کئی اصلاحات کا اعلان کر چکی ہے۔ یہ حکومت باقاعدہ حکومت کے قیام سے پہلے تین برسوں کے لیے ہے اور اس دوران اس حکومت نے اپنے آئین میں اسلامی حکومت جیسے الفاظ کو نکال دیا ہے۔ اس سے قبل کی سوڈانی حکومت اپنے آپ کو اسلامی ریاست کہتی تھی۔

  اس ماہ کو اوئل میں انسانی حقوق کی علم بردار تنظیموں کی قیادت میں ہونے والے مظاہروں کے دوران اقتدار میں زیادہ سے زیادہ عوامی شراکت داری کا مطالبہ کیا گیا تھا جس کے بعد حکومت نے اس سمت میں بھی کئی اصلاحات کا وعدہ کیا ہے۔

ص ز/ ج ا (روئٹرز اے ایف پی)

DW.COM