سونیا گاندھی امریکہ میں زیر علاج | حالات حاضرہ | DW | 04.08.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

سونیا گاندھی امریکہ میں زیر علاج

بھارتی کانگریس پارٹی کی سربراہ سونیا گاندھی کے ترجمان کے مطابق کانگریس کی چونسٹھ سالہ رہنما کی امریکہ میں سرجری کی جائے گی۔

سونیا گاندھی کے مطابق وہ سیاست میں نہیں آنا چاہتی تھیں

سونیا گاندھی کے مطابق وہ سیاست میں نہیں آنا چاہتی تھیں

بھارتی حکمران جماعت کانگریس پارٹی کے ترجمان جناردھن دوئویدی نے جمعرات کو بتایا کہ سونیا گاندھی کی امریکہ میں سرجری کی جائے گی، تاہم انہوں نے سرجری کی نوعیت بتانے سے گریز کیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کانگریس کے ترجمان نے کہا کہ ڈاکٹروں کے مشورے پر سونیا گاندھی کو امریکہ بھیجا گیا ہے، جہاں وہ امکاناً دو یا تین ہفتے قیام کریں گی۔ سونیا گاندھی کی غیر حاضری میں پارٹی کی قیادت سونیا گاندھی کی شراکت کے ساتھ ان کے فرزند راہول گاندھی کریں گے۔

Der Generalsekretär der indischen Kongresspartei Rahul Gandhi und seine Schwester Priyanka Gandhi

سونیا گاندھی کے فرزند راہول گاندھی آئندہ انتخابات میں کانگریس کے لیے اہم کردار ادا کریں گے

خیال رہے کہ بھارت کے تہلکہ نیوز میگزین نے ٹوئٹر ویب سائٹ پر جمعرات کے روز یہ خبر لگائی تھی کہ سونیا گاندھی کو نیو یارک کے سب سے بڑے نجی کینسر ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔

اطالوی نژاد سونیا گاندھی سابق بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی کی بیوہ ہیں۔ راجیو گاندھی کو انیس سو اسی کی دہائی میں قتل کر دیا گیا تھا۔ راجیو گاندھی ایک اور سابق بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے فرزند اور گاندھی خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ کانگریس جماعت کے کئی بار اقتدار میں آنے کے باوجود سونیا گاندھی نے وزیر اعظم بننے سے انکار کیا۔ امکان ہے کہ آئندہ انتخابات میں کانگریس کی کامیابی کی صورت میں ان کے فرزند راہول گاندھی وزارت عظمیٰ کے امیدوار ہو سکتے ہیں۔

کانگریس کے ترجمان دوئویدی کے مطابق سونیا گاندھی کی غیر حاضری میں پارٹی امور چار اراکین پر مشتمل ایک گروپ چلائے گا، جس میں راہول گاندھی بھی شامل ہیں۔

سونیا گاندھی لوک سبھا کے انتہائی اہم اجلاس میں شرکت نہیں کر پائیں گی۔ اس اجلاس میں کرپشن جیسے دیگر اہم مسائل پر بحث کی جائے گی۔

رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM