سوتیلے باپ کا ظلم، دس سالہ بیٹی حاملہ | معاشرہ | DW | 07.05.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

سوتیلے باپ کا ظلم، دس سالہ بیٹی حاملہ

جنوبی امریکی ملک پیراگوائے میں اس واقعے نے ایک ہنگامہ بپا کر دیا ہے، جس میں ایک سوتیلے باپ نے اپنی دس سالہ بیٹی کو ہوس کا نشانہ بنایا اور وہ حاملہ ہو گئی۔ ملکی وزیرِ صحت نے اسقاط حمل کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔

Symbolbild Kindesmissbrauch

’پیراگوائے میں روزانہ دَس سے لے کر چَودہ سال تک کی عمر کی دو لڑکیاں بچے جنتی ہیں‘‘

اس لڑکی کو گزشتہ مہینے ہسپتال میں داخل کروایا گیا تھا اور ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ اس لڑکی کے پیٹ میں کوئی رسولی ہے۔ بعد میں پتہ چلا کہ اُس کے پیٹ میں ایک بچہ ہے۔ مزید طبی معائنوں اور جانچ پڑتال سے پتہ چلا کہ اس بچے کا باپ کوئی اور نہیں بلکہ اسی لڑکی کا سوتیلا باپ تھا۔

لڑکی کی والدہ کو اس جرم میں اپنے شوہر کی معاونت پر حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ اس لڑکی کا بیالیس سالہ سوتیلا باپ گلبیرٹو بینیٹس زاراتے اپنا جرم منظرِ عام پر آنے کے بعد گھر چھوڑ کر فرار ہو گیا ہے۔ ملک بھر میں اُس کی تلاش بڑے پیمانے پر جاری ہے۔

اقوام متحدہ کی تنظیم چلڈرنز فنڈ نے کہا ہے کہ اگرچہ اس تازہ واقعے پر پیراگوائے میں زبردست ہلچل پائی جاتی ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس غریب جنوبی امریکی ملک میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات عام ہیں۔ بچوں کی بہبود کے عالمی ادارے یونیسیف کی چائلڈ پروٹیکشن آفیسر آندریا سِڈ نے بتایا:’’پیراگوائے میں روزانہ دَس سے لے کر چَودہ سال تک کی عمر کی دو لڑکیاں بچے جنتی ہیں۔ یہ کیسز جنسی زیادتی کا نتیجہ ہوتے ہیں، بچوں کے ساتھ بار با ر ہونے والی ایسی جنسی زیادتیوں کا، جن سے بچانے کے لیے کوئی بروقت اور مناسب اقدامات نہیں کیے جاتے۔‘‘

آندریا سِڈ کا مزید کہنا تھا:’’کم سن لڑکیوں پر مناسب توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔ یہ چیز ہمارے لیے باعثِ تشویش ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ اس تازہ واقعے کی روشنی میں بچوں کو خاندان کے اندر ہونے والی جنسی زیادتیوں سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔‘‘

اس تازہ واقعے نے پیراگوائے میں اسقاطِ حمل کے موضوع پر بھی ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پیراگوائے کے آئین میں اَسقاطِ حمل کی اجازت صرف اُس صورت میں ہے، جب حمل کی وجہ سے ماں کی جان کو کوئی خطرہ ہو۔

پیراگوائے کے وزیرِ صحت انتونیو باریوس خود بھی بچوں کے امراض کے ماہر ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اس بچی کو اسقاطِ حمل کی اجازت دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ اُس کا حمل تیئیس ویں ہفتے میں داخل ہو چکا ہے:’’اگر اسقاطِ حمل درکار تھا تو یہ بیس ویں ہفتے سے پہلے پہلے ہوجانا چاہیے تھا۔‘‘

پیراگوائے کے ’غریبوں کا ہسپتال‘ کہلائے جانے والے کلینیکل ہسپتال کے سربراہ نے کہا ہے کہ یہ لڑکی بڑے آپریشن کے ذریعے بچے کو جنم دے گی تاکہ کسی بھی طرح کی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔ اُن کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال نو سے لے کر پندرہ سال تک کی عمر کی چَودہ لڑکیوں نے اس ہسپتال میں بچے جنے اور اُنہیں کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔

بدھ کے روز ایک عدالت نے لڑکی کی ماں کی وہ درخواست رَد کر دی، جس میں اسقاطِ حمل کے امکانات پرغور کرنے کے لیے طبی ماہرین کی ایک ٹیم مقرر کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔

انسانی حقوق کی علمبردار تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مقامی دفتر نے سوشل میڈیا پر "#NinaEnPeligro" یعنی ’لڑکی خطرے میں‘ کے نام سے ایک تحریک شروع کی ہے، جس میں حکومت پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس لڑکی کو بچے کو جنم دینے پر مجبور کرتے ہوئے اُس کے انسانی حقوق پامال کیے جا رہے ہیں۔ آج کل اس لڑکی کو اسنسیون نامی شہر کے ریڈ کراس ہسپتال میں طبی اور نفسیاتی امداد دی جا رہی ہے۔