سوات کا نوجوان باکسر، جنوبی افریقہ کی قومی ٹیم میں | کھیل | DW | 16.03.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

سوات کا نوجوان باکسر، جنوبی افریقہ کی قومی ٹیم میں

19سالہ نوجوان یاسین احمد خان نے کک باکسنگ کے میدان میں دھوم مچادی ہے۔ یاسین احمد جنوبی افریقہ کے قومی ٹیم کی جانب سے کھیلتے ہوئے اب تک دو عالمی ٹائٹل اپنے نام کر چکے ہے۔

یاسین احمد کی کک باکسنگ میں ان کامیابیوں پر علاقے کے لوگوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے اور اسے پاکستان کے لیے ایک بڑا اعزاز قرار دیا ہے ۔

جنوبی افریقہ کی نیشنل باکسنگ ٹیم میں کھیلنے والے سوات کی وادی مانیار کے رہائشی یاسین احمد خان نے چار سال قبل افریقہ کے شہر ویلکم میں کک باکسنگ شروع کی تھی۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے یاسین احمد کا کہنا تھا کہ وہ اپنے والدین کے ہمراہ آٹھ سال کی عمر میں جنوبی افریقہ منتقل ہوئے تھے، ’’مجھے وہاں تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیل کود کا بھی بہت شوق تھا اور کک باکسنگ بچپن سے ہی میری پسند تھی۔ چار سال قبل باقاعدہ کک باکسنگ کا آغاز کیا اور شروع میں کلب ٹورنامنٹ میں حصہ لے کر اپنا لوہا منوایا۔‘‘

Yaseen Ahmad Khan

یاسین احمد جنوبی افریقہ کی قومی ٹیم میں شامل ہیں

یاسین احمد نے مزید کہا، ’’پہلی بار 2013 میں صوبائی چمپئین شپ کا ٹائٹل اپنے نام کیا اور اس کے بعد افریقہ کی قومی ٹیم میں میری سلیکشن ہوئی ۔‘‘

2015 کے آخر میں یاسین احمد نیشنل ٹائٹل جیت کر انٹر نیشنل مقابلوں کے لیے منتخب ہوئے اور 2016 میں امریکا میں منعقد ہونے والے یو ایس اوپن مارشل آرٹس چمپئین شپ میں افریقہ کی نمائندگی کرتے ہوئے دو عالمی ٹائٹل جیت کر نہ صرف افریقہ کا پرچم بلند کیا بلکہ پاکستانی نژاد ہونے کی وجہ سے اپنے پاکستان کے لیے بھی باعث فخر ثابت ہوئے ۔

یاسین احمد نے بتایا کہ عالمی ٹائٹل جیتنے کے بعد افریقہ کے لوگوں کی جانب سے اسے بہت پیار ملا، اسی طرح پاکستان میں بھی پذیرائی حاصل ہوئی، ’’میری خواہش ہے کہ کک باکسنگ کے میدان میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنے ملک وقوم کا نام روشن کر سکوں‘‘۔

عالمی ٹائٹل جیتنے کے بعد سوات آمد پر یاسین کے رشتہ داروں اور علاقے کے لوگوں نے نہ صرف بڑی گرم جوشی سے ان کا استقبال کیا بلکہ ان کی جیت کو علاقے اور ملک کے لیے باعث فخر بھی قرار دیا۔ یاسین کے چچا خورشید احمد نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ہمارے لیے بڑی خوشی کی بات ہے کہ یاسین جنوبی افریقی کک باکسنگ کی قومی ٹیم میں کھیل رہا ہے اور وہاں پر رہتے ہوئے اپنے ملک و قوم کا نام روشن کر رہا ہے۔‘‘

یاسین احمد سوات میں بھی اپنی پریکٹس جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ مینگورہ شہر میں قائم کک باکسنگ اکیڈمی میں روزانہ پریکٹس کرتے ہیں اور دیگر کھلاڑیوں کے لیے حوصلہ افزائی کا باعث بن رہے ہیں۔ کک باکسنگ ایسوسی ایشن خیبر پختونخواہ کے صدر شفی الرحمان کا کہنا ہے کہ یاسین کی افریقہ میں کک باکسنگ کے میدان میں کامیابی پر نہ صرف خوشی ہو رہی ہے بلکہ یہاں پر یاسین احمد کی موجودگی سے دیگر کھلاڑیوں کی بھی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے، ’’اگر حکومت مارشل آرٹس اور خصوصاً کک باکسنگ پر توجہ دے تو یاسین احمد کی طرح اس وادی میں اور بھی ٹیلنٹ موجود ہے جو آگے چل کر ملک کے لیے بڑا کارنامہ انجام دے سکتے ہیں۔‘‘