سن 2019 کے اختتام پر عالمی آبادی پونے آٹھ ارب | معاشرہ | DW | 21.12.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

سن 2019 کے اختتام پر عالمی آبادی پونے آٹھ ارب

اندازہ لگایا گیا ہے کہ سن 2019 کے اختتام پر دنیا کی آبادی پونے آٹھ ارب کے قریب پہنچ جائے گی۔ یہ بات فاؤنڈیشن برائے عالمی آبادی نامی جرمن ادارے نے اپنی ایک رپورٹ میں بتائی ہے۔

یکم جنوری سن 2019 سے اکتیس دسمبر تک دنیا کی مجموعی آبادی میں اضافہ آٹھ کروڑ تیس لاکھ (تراسی ملین) تک رہنے کا یقینی امکان ہے۔ یہ تعداد جرمنی کی کُل آبادی کے تقریباﹰ برابر بنتی ہے۔ جرمن ادارے DSW کے مطابق عالمی آبادی میں اضافے کی موجودہ رفتار 156 بچے فی منٹ بنتی ہے۔

یہ اضافہ اسی رفتار سے جاری رہا تو اگلے چار برسوں میں دنیا کی آبادی یقینی طور پر آٹھ بلین سے تجاوز کر جائے گی۔ فاؤنڈیشن برائے ورلڈ پاپولیشن (DSW) نے کرہ ارض پر انسانی آبادی میں اضافے سے متعلق اپنی رپورٹ میں یہ بھی بتایا ہے کہ دیگر براعظموں کے مقابلے میں افریقہ میں آبادی بڑھنے کی شرح انتہائی غیرمعمولی ہے۔

ڈی ایس ڈبلیو کے مطابق براعظم افریقہ کی مجموعی آبادی اگلے بیس برسوں میں دوگنا ہو جائے گی۔ اس وقت ایک عام افریقی ماں اوسطاً 4.4 بچوں کو جنم دیتی ہے، جو باقی ماندہ دنیا میں عام ماؤں کی اوسط 2.4 کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔

Flüchtlingskrise in Bosnien und Herzegowina

رواں صدی کا پہلا نصف پورا ہونے تک دنیا کی نصف سے زائد آبادی صرف نو ممالک میں رہ رہی ہو گی

ورلڈ پاپولیشن سے متعلق ایک رپورٹ رواں برس جون میں اقوام متحدہ نے بھی جاری کی تھی۔ اس رپورٹ میں عالمی ادارے کے ماہرین نے دنیا کی آبادی میں اضافے کی شرح پر حیرانی کا اظہار کیا تھا۔ اسی رپورٹ کے مطابق سن 2050 تک دنیا کی آبادی نو ارب ستر کروڑ تک پہنچ جائے گی۔

اقوام متحدہ کی اسی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ رواں صدی کا پہلا نصف پورا ہونے تک دنیا کی نصف سے زائد آبادی صرف نو ممالک میں رہ رہی ہو گی۔ یہ ممالک بھارت، نائجیریا، پاکستان، جمہوریہ کانگو، ایتھوپیا، تنزانیہ، انڈونیشیا اور امریکا بتائے گئے تھے۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا گہا تھا کہ غالب امکان یہ ہے کہ سن 2027 تک بھارت آبادی کے لحاظ سے چین کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کا سب سے بڑا ملک بن جائے گا۔

زلکے جان (ع ح ⁄ م م)

ویڈیو دیکھیے 02:13

بھارت: کئی ملین آسامی مسلمانوں کو ملک بدری کا خوف

DW.COM