سن 2018 افغان جنگ ميں شہريوں کے ليے سب سے خونريز سال | حالات حاضرہ | DW | 24.02.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

سن 2018 افغان جنگ ميں شہريوں کے ليے سب سے خونريز سال

جنگ زدہ ملک افغانستان ميں مسلح کارروائيوں کے دوران گزشتہ برس قريب گيارہ ہزار شہری ہلاک يا زخمی ہوئے۔ سن 2018 کو افغانستان جنگ ميں شہريوں کے ليے سب سے خونريز سال قرار ديا جا رہا ہے۔

افغانستان ميں گزشتہ برس يعنی 2018ء کے دوران مسلح تصادم کے مختلف واقعات ميں مجموعی طور پر 10,933 شہری ہلاک يا زخمی ہوئے۔ يہ انکشاف ’يونائٹڈ نيشنز اسسٹنس مشن‘ کی جانب سے اتوار چوبيس فروری کو جاری کردہ سالانہ رپورٹ ميں کيا گيا ہے۔ اس ادارے کی جانب سے شورش زدہ ملک افغانستان ميں ہلاکتوں کا ريکارڈ جمع کرنے کا عمل نو برس قبل 2009ء ميں شروع کيا گيا تھا اور اس وقت سے لے کر اب تک گزشتہ برس شہریوں کے ليے سب سے خونريز ثابت ہوا۔ رپورٹ کے مطابق دہشت گرد گروہ ’اسلامک اسٹيٹ‘ کے اضافی خود کش حملے اور امريکی حمايت يافتہ کوليشن فورسز کے زيادہ فضائی حملے زخمی يا ہلاک ہونے والے شہريوں کی تعداد ميں اضافے کا سبب بنے۔

يہ رپورٹ ايک ايسے موقعے پر جاری کی گئی ہے جب افغانستان ميں قريب سترہ برس سے جاری جنگ کے خاتمے اور وہاں قيام امن کے ليے کوششيں جاری ہيں۔ پچھلے سال ستمبر ميں زلمے خليل زاد کی خصوصی امريکی مندوب برائے افغانستان کی تعيناتی کے بعد افغان امن عمل ميں تيزی آئی ہے۔ افغان طالبان مذاکرات کے کئی ادوار ميں حصہ لے چکے ہيں اور اگلا دور پير پچيس فروری سے قطر ميں شروع ہو رہا ہے۔

’يونائٹڈ نيشنز اسسٹنس مشن‘ کی جانب سے جاری کردہ سالانہ رپورٹ کے مطابق شہريوں کے زخمی ہونے يا ہلاکت کا سبب بننے والے تريسٹھ فيصد حملوں ميں شدت پسند ملوث تھے۔ ان ميں سے سينتيس فيصد ميں طالبان جنگجو ملوث تھے اور بيس فيصد کا ذمہ دار اسلامک اسٹيٹ يا داعش کو ٹھہرايا گيا۔ شہريوں کے زخمی ہونے يا ہلاکت کا سبب بننے والے چھ فيصد حملوں ميں ديگر حکومت مخالف گروہ ملوث پائے گئے۔ رپورٹ ميں انکشاف کيا گيا ہے زخمی يا ہلاک ہونے والے شہريوں ميں سے چوبيس فيصد کابل حکومت، مغربی دفاعی اتحاد نيٹو و اس کے اتحاديوں کی باغيوں کے خلاف مسلح کارروائيوں کے دوران نشانہ بنے۔ يہ بھی بتايا گيا ہے کہ سن 2017 کے مقابلے ميں سن 2018 ميں سويلينز کے زخمی يا ہلاک ہونے کے واقعات ميں اضافہ نوٹ کيا گيا۔

رپورٹ ميں شامل معلومات کے مطابق پچھلے سال خود کش حملوں اور فضائی حملوں ميں 3,804 شہری ہلاک اور 7,189 شہری زخمی ہوئے۔ افغانستان ميں ’يونائٹڈ نيشنز اسسٹنس مشن‘ نے ہلاک يا زخمی ہونے والے شہريوں کی تعداد کے بارے ميں رپورٹ مرتب کرنے کا عمل سن 2009 ميں شروع کيا تھا۔ اس وقت سے لے کر اب تک لگ بھگ بتيس ہزار سويلينز ہلاک اور ساٹھ ہزار کے قريب زخمی ہو چکے ہيں۔

ع س / ع آ، نيوز ايجنسياں

DW.COM