سنیما کی بندش کا ایک سال، دس ہزار بے روزگار ملازمین پریشان | فن و ثقافت | DW | 16.03.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

فن و ثقافت

سنیما کی بندش کا ایک سال، دس ہزار بے روزگار ملازمین پریشان

پاکستان میں سنیما کی بحالی کی جو تحریک 2014ء میں شروع ہوئی تھی، کورونا کی عالمی وباء نے اس سلسلے میں کی گئی تمام محنت پر پانی پھیر دیا۔ اب اس صنعت سے بالواسطہ اور بلاواسطہ منسلک دس ہزار افراد ایک سال سے بےروزگار ہیں۔

مارچ 2020ء کے وسط میں کورونا کی عالمی وباء کے سبب دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی لاک ڈاؤن نافذ ہوا، جس کے نتیجے میں پاکستان بھر میں سنیما بند کر دیے گئے اور یہ تاحال بند ہیں۔ اگرچہ گزشتہ اکتوبر کے آخری ہفتے میں ملک میں چند سنیما گھر آزمائشی طور پر چند ہفتوں کے کھولے گئے مگر وباء کی دوسری لہر کے ساتھ یہ ایک بار پھر بند ہو گئے اور اس صنعت سے وابستہ افراد کے لیے تا حال امید کی کوئی کرن نظر نہیں آرہی۔

گھر کا سامان بھی فروخت کر چکا ہوں

منظر جاوید (نام خواہش پر تبدیل کیا)، کراچی کے ایک بڑے سنیما گھر میں کام کرتے تھے، اب وہ گزشتہ کئی ماہ سے بےروزگار ہیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ مارچ 2020 ء میں سنیما بند ہوئے تو عیدالاضحی تک تو ان کی ملازمت برقرار رہی اور انہیں تنخواہ بھی ملتی رہی، مگر اس کے بعد مالکان کی جانب سے ان سے معذرت کر لی گئی اور کہا گیا کہ جب سنیما کھلیں گے تو آپ کو واپس ضرور بلائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ تقریباً 300 افراد کا روزگار ختم ہوا، جن میں سے کچھ کو تو کہیں کوئی مل گیا مگر اکثریت آج بھی بےروزگار ہے،''ہم سب 20 سے 25 ہزار روپے تنخواہ لیتے تھے، ایسے میں ہمارے پاس بچت کرنے کا موقع بھی نہیں تھا، اب حال یہ ہے کہ گھر کی چیزیں بیچ کر یا ادھار لےکر گزارا کر رہے ہیں۔‘‘

سنیما کی بحالی کی کوشش

تو کیا پاکستان میں وباء کے ایک سال بعد سنیما کی صنعت کی بحالی کے لیے کچھ کیا جا رہا ہے تاکہ ان افراد کا روزگار بحال ہو سکے۔؟مانڈوی والا انٹرٹینمنٹ سنیماز کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ندیم مانڈوی والا نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ آج کے دور میں سنیما کو عالمی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے،''اس وقت پوری دنیا میں سنیما بند ہیں، اب ان کے کھلنے کا عمل کیسے شروع ہو گا، اس پر سوچا جا رہا ہے‘۔

ندیم مانڈوی والا نے اس صورتِ حال پر تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ سنیما کو ہر ہفتے ایک فلم چاہیے ہوتی ہے،'' بالی وڈ پر پاکستان میں پابندی ہے اس لیے ہمیں ہالی وڈ کی جانب دیکھنا ہو گا، جب ہالی وڈ کھلے گا اور وہاں سے نئی اور بڑی فلمیں ریلیز ہونا شروع ہو جائیں گی تو پاکستان میں بھی اس پر عمل شروع ہو جائے گا۔‘‘

ندیم مانڈوی والا کے مطابق اس وقت مغربی ممالک میں عوام کو ویکسین لگانے کا عمل تیزی سے جاری ہے جس سے امید کی جا سکتی ہے کہ آئندہ چند ماہ میں ایک کثیر تعداد کو ویکسین لگ چکی ہو گی، جس سے وائرس کو قابو کرنے میں مدد ملے گی اور اس طرح کاروبارِ زندگی رواں ہوجائے گا۔

 سنیما میں دکھائیں کیا؟

سنی پیکس ڈسٹری بیوشن  کے جنرل منیجر مرزا سعد بیگ کا کہنا تھا کہ سنیما کھولنے کا دارومدار اس پر ہے کہ سنیما میں دکھایا کیا جائے،'' ایسے میں جب فلمیں ہی ریلیز  نہیں ہو رہیں تو سنیما کھول کر کیا کریں گے۔ پچھلی مرتبہ جب کورونا کی وباء کے پھیلاؤ میں کمی آئی تھی تو حکومت نے 50 فیصد افراد کو سنیما ہال میں بٹھا کے فلم کی نمائش کی اجازت دی تھی، اب ایسے میں بہت سے سنیما اپنا کاروبار نہیں چلا سکتے ہیں کیونکہ اس طرح اخراجات پورے نہیں ہوتے۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ جو پاکستانی فلمیں تیار ہیں ان کے پروڈیوسرز بھی 50 فیصد گنجائش پر اپنی فلمیں لگانے میں دلچسپی نہ رکھیں کیونکہ اس طرح ان کی آمدنی بری طرح متاثر ہو گی۔

واضع رہے کہ پاکستان میں سنیما گھروں کے خاتمے کا سلسلہ 90 کی دہائی میں شروع ہوا تھا اور رواں صدی کے آغاز میں ملک میں گنتی کے چند سنیما گھر ہی بچے تھے۔

2014 ء میں سنیما کی ازسرنو بحالی کے لیے جو کوششیں کی گئی ان سے سنیما گھروں کی تعمیر نو شروع ہوئی اور اس میں ملک میں ملٹی پلیکس سمیت کل 160 سنیما اسکرینز ہیں۔

صورتحال مزید مشکل ہونے کا امکان

مرزا سعد بیگ کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال تو کورونا کی نذر ہو گیا، اس سال عید پر سنیما کھلنے کا امکان تھا مگر اب مشکل محسوس ہوتا ہے،'' تاہم اگر عید پر صورتحال ایسی ہی رہی تو سنیما اور اس سے منسلک افراد کا مستقبل بہت مخدوش ہوجائے گا، شاید اس سے لوگوں کو کوئی اور کام ڈھونڈنا پڑے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ایک موہوم سی امید وفاقی حکومت کی جانب سے فلم پالیسی کے اعلان سے وابستہ ہی جس میں حکومت کی جانب سے کچھ بڑے اقدامات کی توقع ہے۔

فلم پالیسی

یاد رہے کہ پاکستان کی وفاقی حکومت نے ملک میں فلم اور سینما کی ترویج کے لیے ایک مربوط پالیسی جاری کرنے کا اعلان کررکھا ہے اور اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے مختلف افراد سے تجاویز اور مشورے بھی طلب کیے گئے ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے اس سلسے میں ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ فلم پالیسی کا بنیادی خاکہ بن چکا ہے اور اب اس کی جزیات پر کام ہو رہا ہے ،''کیونکہ پالیسی روز روز نہیں بنتی اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ ایک ہی مرتبہ جامع پالیسی کا اجراء کیا جائے جس باضابطہ اعلان عنقریب متوقع ہے۔‘‘

ایسے وقت میں جب ملک بھر میں ریستوران کے اندر کھانا کھانے پر پابندی ہو، شادی کی تقریب بھی کھلے آسمان تلے ہی منعقد کرنے کی اجازت ہو، وہاں ایک بند ہال میں فلم کی نمائش کرنا ظاہر ہے ممکن نہیں۔ ماہریں کے مطابق اب جب پڑوسی ملک بھارت سے سنیما کھلنے اور نئی فلموں کی نمائش کی خبریں آرہی ہیں تو ایسے میں کچھ امید ہو چلی ہے کہ شاید پاکستان میں بھی سنیما گھر دوبارہ آباد ہو سکیں۔

ویڈیو دیکھیے 03:01

پاکستانی سنیما گھروں میں فلم ’پرے ہٹ لّو‘ کے ایک سو دن مکمل

 

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات