سنگاپور کی تاریخ کے خوفناک جرائم میں سے ایک، ملزمہ کا اعتراف | معاشرہ | DW | 24.02.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

سنگاپور کی تاریخ کے خوفناک جرائم میں سے ایک، ملزمہ کا اعتراف

سنگاپور میں گھریلو ملازمین سے انتہائی بدسلوکی اور پھر قتل کے ایک خوفناک واقعے میں مرکزی ملزمہ نے اعتراف جرم کر لیا ہے۔ بھارتی نژاد ملزمہ نے اپنی غیر ملکی ملازمہ کو اس طرح قتل کیا، جس کی شاید ہی کوئی دوسری مثال موجود ہو۔

سنگاپور جنوب مشرقی ایشیا کی ایک ایسی بہت چھوٹی سی لیکن انتہائی امیر شہری ریاست ہے، جہاں ایشیا کے زیادہ تر غیر ممالک سے آ کر گھروں میں کام کرنے والے ملازمین کی تعداد تقریباﹰ ڈھائی لاکھ بنتی ہے۔ یہ ملازمین زیادہ تر خواتین ہوتی ہیں اور ان سے بدسلوکی کے واقعات بھی کوئی نئی بات نہیں ہیں۔

سنگاپور میں مسلمانوں پر کرائسٹ چرچ جیسے حملوں کا منصوبہ، بھارتی نژاد لڑکا گرفتار

لیکن 40 سالہ گائتری موروگیان نے جس طرح کے جرائم کا ارتکاب میانمار سے تعلق رکھنے والی اپنی 24 سالہ ملازمہ کے ساتھ کیا، اس کی سنگاپور میں غیر ملکیوں کے خلاف جان لیوا جرائم کی تاریخ میں شاید ہی کوئی دوسری مثال موجود ہو۔

اٹھائیس مختلف الزامات

گائتری موروگیان نے سماعت کے دوران عدالت کو بتایا کہ وہ اپنی گھریلو ملازمہ پیانگ گائے ڈون کے قتل کی مرتکب ہوئی تھی۔ ملزمہ نے اعتراف جرم کرتے ہوئے ایک مقامی عدالت میں دیے گئے اپنے بیان میں کہا کہ اس نے مقتولہ ملازمہ پر چھری سے حملے کیے تھے، اسے ڈنڈوں سے پیٹا تھا، اس کا جسم استری سے جلایا تھا اور پھر اس کا گلا اتنا دبایا تھا کہ پیانگ گائے ڈون کا انتقال ہو گیا تھا۔

فیس بک نے سنگاپور حکومت کے حکم کے آگے سرجھکا دیا

سنگاپور میں "فیک نیوز" کے قانون پر عملدرآمد شروع

موروگیان کو قتل کے اس ایک جرم سے متعلق اپنے خلاف انتہائی سنگین نوعیت کے 28 مختلف الزامات کا سامنا ہے۔ منگل کے روز حتمی اعتراف جرم کے بعد عدالت نے اسے مجرم قرار دے دیا۔ عدالت ملزمہ کے لیے سزا کا اعلان بعد میں کرے گی، جو کم از کم بھی عمر قید ہو سکتی ہے۔

ملزمہ کا شوہر پولیس افسر

عدالت میں پیش کردہ دستاویزات کے مطابق ملزمہ گائتری موروگیان اور اس کے شوہر نے، جو ایک پولیس افسر ہے، پیانگ گائے ڈون کو اپنے ہاں 2015ء میں اس لیے ملازم رکھا تھا کہ وہ ان کی چار سالہ بیٹی اور ایک سالہ بیٹے کی دیکھ بھال کر سکے۔

سنگاپور: ہاتھی دانت ریکارڈ تعداد میں سمگل کرنے کی کوشش ناکام

اس کے بعد ایک سال سے بھی زیادہ عرصے تک گائتری موروگیان اپنی اس ملازمہ کو ہر روز پیٹتی رہی۔ کبھی کبھی تو دن میں کئی کئی مرتبہ اور اس جرم میں گائتری کی 61 سالہ ماں بھی شامل ہو جاتی تھی۔

'پاگلوں کی طرح‘ تشدد

یہ انہی خوفناک مظالم اور تشدد کا نتیجہ تھا کہ پیانگ گائے ڈون جولائی 2016ء میں اس وقت انتقال کر گئی تھی، جب ایک روز ملزمہ گائتری اسے 'پاگلوں کی طرح‘ کئی گھنٹوں تک 'پیٹتی، اس پر حملے کرتی، اسے ایذا پہنچاتی اور اس کا جسم استری سے جلاتی‘ رہی تھی۔

سب سے مہنگے اور سب سے سستے شہر کون سے ہيں؟

مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا، ''یہ بات عدالت کے لیے گہری تشویش کا باعث ہونا چاہیے کہ کوئی انسان، وہ بھی ایک عورت کسی دوسری عورت سے، اس طرح کا شیطانی اور غیر انسانی سلوک کس طرح کر سکتی ہے؟‘‘

موت کے وقت وزن صرف چوبیس کلوگرام

عدالتی ریکارڈ کے مطابق گائتری موروگیان پیانگ گائے ڈون پر اتنا ظلم کرتی تھی کہ اسے کھانے کے لیے خوراک بہت کم دی جاتی تھی، سونے کے لیے وقت بھی بہت ہی کم اور ملزمہ کے گھر ملازمت کے صرف ایک سال کے اندر اندر میانمار سے تعلق رکھنے والی اس جوان عورت کا جسمانی وزن تقریباﹰ 40 فیصد کم ہو گیا تھا۔

’ملازمائیں برائے فروخت‘

آخری دنوں میں تو مقتولہ پر اتنا ظلم کیا گیا تھا کہ موت کے وقت اس کا جسمانی وزن صرف 24 کلو گرام رہ گیا تھا۔

سزائے موت کے بجائے عمر قید کا مطالبہ

سنگاپور میں جرم ثابت ہونے پر کسی بھی قاتل کو عام طور پر سزائے موت سنائی جاتی ہے لیکن استغاثہ کی طرف سے گائتری موروگیان کے لیے عمر قید کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ملزمہ کئی طرح کے جسمانی اور ذہنی مسائل کا شکار رہی ہے، جن میں سے ایک ڈپریشن بھی تھا۔

سنگاپور میں پہلی مسلم خاتون صدر منتخب

پولیس کے مطابق اسی قتل کے سلسلے میں گائتری کے شوہر کو بھی اپنے خلاف کئی طرح کے الزامات کا سامنا ہے کیونکہ اس کے گھر پر غیر ملکی ملازمہ کے خلاف جرائم کا ارتکاب اس کی موجودگی میں بھی ہوتا رہا اور اسے یہ سلسلہ اس لیے بھی رکوانا چاہیے تھا کہ وہ سنگاپور پولیس کا ایک افسر ہے۔

م م / ع ا (اے ایف پی، ٹی ایس ٹی)