سنڈے واکرز: گلیوں میں گھومنے والے فوٹوگرافروں کی تصویروں کی نمائش | فن و ثقافت | DW | 08.12.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

فن و ثقافت

سنڈے واکرز: گلیوں میں گھومنے والے فوٹوگرافروں کی تصویروں کی نمائش

پاکستان کے شہر لاہور میں ایسے نوجوان فوٹوگرافروں کی تصویروں کی نمائش کی گئی جو اتوارکو صبح سویرے اکھٹے ہو کر شہر کی گلیوں میں گھومتے ہیں۔ یہ سنڈے واکرز اپنے کیمرے کی آنکھ سے عام لمحات کو خاص بنا دیتے ہیں۔

’آوارہ گرد کی ڈائری‘ کے عنوان سے منعقد جانے والی اپنی نوعیت کی اس منفرد نمائش کا اہتمام انہی نوجوانوں کی تنظیم ’سنڈے واکرز‘  نے ٹورازم ڈیویلپمنٹ کارپوریشن پنجاب (ٹی ڈی سی پی) کے تعاون سے کیا۔  اس تصویری نمائش کو دیکھنے کے لیے آنے والے سینکڑوں افراد میں ملک کے نامور فوٹو گرافر بھی موجود تھے جنہوں نے نوجوان فوٹوگرافرز کو فوٹوگرافی کے حوالے سے مفید مشورے دیے۔ اس نمائش کا افتتاح فوٹو گرافی کا شوق رکھنے والی ایک غیر معروف اور کم عمر فوٹو گرافر لڑکی شہر بانو نے کیا۔
فوٹو گرافی کی اس نمائش میں آٹھ فوٹو گرافرز کی چالیس تصاویر  کو نمائش کے لیے منتخب کیا گیا۔ اس نمائش کے ایک منتظم اور نوجوان فوٹو گرافر محمد اسلم گوجر نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ’ٹی ڈی سی پی‘  نے نمائش لگانے کے لیے انہیں بلا معاوضہ جگہ دی ہے جبکہ اس نمائش میں شرکت کرنے والے ہر فوٹوگرافر پر تین ہزار روپے فی کس اخراجات آئے اور یہ اخراجات ہر بچے نے اپنے جیب خرچ سے ادا کیے ہیں۔ محمد اسلم کے بقول ’’یہ پہلا موقع ہے کہ ہمیں ٹی ڈی سی پی سے نمائش کے لیے جگہ ملی ہے، اس سے پہلے ہونے والی چار نمائشوں کو جگہ نہ ملنے کی وجہ سے گلیوں میں ہی لگایا گیا تھا۔‘‘

سنڈے واکرز کی منفرد تصویریں
یہ پہلا موقعہ ہے کہ ’سنڈے واکرز‘ کی نمائش میں لاہور سے باہر کے علاقوں میں لی جانے والی تصویروں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ گوردوارہ جنم الستھان میں لی جانے والی ایک تصویر میں ایک سکھ یاتری تقسیم  ہند سے پہلے کے اپنے شناسا چہرے تلاش کرتا پھر رہا ہے، ایک دوسری تصویر میں دریائے راوی کے کنارے غروب آفتاب کے منظر کو کیمرے میں محفوظ کیا گیا۔ ایک اور تصویر میں رش والے چوک میں بڑی سی لاٹھی کے ساتھ سڑک پار کرنے والے بوڑھے شخص کے عزم اور ہمت کوسامنے لایا گیا۔ باپ کی شفقت ظاہر کرتی ایک تصویر میں ایک باپ اپنے بچے کو اٹھائے جا رہا ہے، بچے کے ہاتھ میں ابھی خریدا گیا غبارہ ہے اور بچے کی خوشی والد کی مسرتوں میں اضافہ کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک تصویر گھر کی کھڑکی سے باہر جھانکتے ہوئے بچے کی حسرتوں کو سامنے لا رہی ہے۔


اپنی مدد آپ کے تحت فوٹو گرافی
’سنڈے واکرز‘  نامی اس چھوٹی سی تنظیم کا وجود سن دو ہزار سولہ میں اُن ’نان پرافیشنل‘  اور ’نان کمرشل‘  نوجوان فوٹوگرافر بچوں کے ہاتھوں عمل میں آیا جو اپنے ٹیلنٹ کے اظہار کے لیے کوئی مناسب پلیٹ فارم نہ ملنے پر رنجیدہ تھے۔ ان کے پاس وسائل تو نہیں تھے لیکن فوٹو گرافی کا شوق بدرجہا اتم موجود تھا۔ انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت فوٹو گرافی کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا فیصلہ کیا۔

’پاکستان کے لوگوں نے میرا دل موہ لیا‘
محمد اسلم کے بقول پچھلے کئی سالوں سے یہ نوجوان فوٹو گرافرز صبح سویرے اپنے کیمرے لے کر نکلتے ہیں، اور شہر کی گلیوں اور بازاروں میں گھوم پھر کر اچھے سے اچھے مناظر تلاش کرتے ہیں۔ ’’ کبھی ہم اندرون شہر چلے جاتے ہیں، کبھی راوی کنارے پہنچتے ہیں ، کبھی سبزی منڈی منزل ٹھہرتی ہے اور کبھی نہر والا راستہ ہمارے قدموں کے نیچے ہوتا ہے۔‘‘


سنڈے واکرز میں طالب علم پیش پیش
اس نمائش میں جن بچوں نے شرکت کی ان میں گورنمنٹ کالج لاہور کے شعبہ گرافک ڈیزائن کے سترہ سالہ طالب علم محمد وقاص احمد بھی شامل تھے۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے وقاص کا کہنا تھا کہ سنڈے واکرز کے دوستوں سے مل کر فوٹو گرافی کرتے ہوئے باہمی بات چیت کے ذریعے اپنی خامیوں کو جاننے اور اچھی فوٹو گرافی کی نئی تکنیک کا پتہ چلا ہے۔ ان کے بقول، وہ نہیں جانتے کہ وہ اپنی فوٹو گرافی کی صلاحیت کو کیسے مارکیٹ کرسکتے ہیں۔


نیشنل کالج آف آرٹس میں ’ویزوئل کمیونیکیشن ڈیزائن‘  کی اسما نامی ایک طالبہ کا کہنا تھا کہ آرٹ ایک ایسی قوت ہے جو انسانوں کے رویے بدل دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسما کے مطابق حکومت کو نوجوان فنکار اور فوٹوگرافروں کی حوصلہ افزائی کرنی چائیے تاکہ پاکستانی معاشرے کو مزید پرامن اور مزید بہتر بنایا جا سکے۔
ایک سوال کے جواب میں سنڈے واکرز کے مختلف ارکان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ان تصویروں کے ذریعے وہ نا صرف اپنے شوق کی تکمیل کر رہے ہیں بلکہ سماجی مسائل کو اجاگر کرکے ان کے حل کے لیے بھی کوششیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے انتظامی حکام سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ امن و امان کی صورتحال بہتر ہوجانے کے باوجود بادشاہی مسجد، شاہی قلعہ اور مزار اقبال جیسے متعدد تاریخی مقامات کی تصویریں بنانے پر پابندی عائد ہے۔  ان کے بقول ان تصویروں سے پاکستان کا تشخص مزید بہتر ہوگا اور سیاحت کو بھی فائدہ ہوسکتا ہے۔
لاہور کے علاقے نیو گارڈن ٹاؤن میں واقع ’ٹی ڈی سی پی‘  کی عمارت میں سات دسمبر کو شروع ہونے والی یہ دو روزہ نمائش اتوار کی شام تک جاری رہی۔

DW.COM

Audios and videos on the topic