سندھ میں ایچ آئی وی، قیمت بچوں کو ادا کرنا پڑ رہی ہے | معاشرہ | DW | 14.06.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

سندھ میں ایچ آئی وی، قیمت بچوں کو ادا کرنا پڑ رہی ہے

پاکستانی صوبہ سندھ میں استعمال شدہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال کی وجہ سے پھیلنے والے ایچ آئی وی انفیکشنز کی سب سے بھاری قیمت بچوں کو ادا کرنا پڑ رہی ہے۔

پاکستانی صوبے سندھ میں بچوں میں ایچ آئی وی کی بیماری نے شہزادو شار کو اکثر دوا یا خوراک میں سے ایک منتخب کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ان کے پانچ سالہ بیٹے میں سن 2019 میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی تھی۔ اس سے قبل ایک ڈاکٹر نے صوبہ  سندھ کی طبی تاریخ کے ایک بدترین میڈیکل اسکینڈل کو بے نقاب کیا تھا۔ اس ڈاکٹر نے بتایا تھا کہ استعمال شدہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کا سبب بنا ہے۔

’میں کیوں زندہ رہا‘

ایڈز: مزید آگاہی کی اشد ضرورت

صوبائی وزارت صحت کے مطابق دو برسوں میں مجموعی طور پر 15 سو سے زائد افراد میں ایچ آئی وی تشخیص کیا گیا۔ رتوڈیرو میں اسی تناظر میں آیچ آئی وی کی جانچ اور علاج کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا مرکز قائم کیا گیا۔ اس مرکز سے ایچ آئی وی کے مریضوں کو زندگی بچانے والی ادویات مفت مل رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندانوں کو اضافی اخراجات خود اٹھانا پڑتے ہیں۔

شہزادو شار اپنے بیٹے کی مسلسل بخار پیٹ اور گردوں میں درد کا بتاتے ہوئے کہتے ہیں، ''وہ کہتے ہیں کہ اضافی ٹیسٹ کے لیے پرائیویٹ ہسپتالوں میں جاؤ۔ مگر ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں۔‘‘

رتو ڈیرو سے فقط چند کلومیٹر کے فاصلے پر سبہانی شار گاؤں میں قریب 30 بچے ایچ آئی وی کا شکار ہیں۔ پاکستان کے پبلک ہسپتال، جو زیادہ تر بڑے شہروں میں قائم ہیں، عموماﹰ غیرمعمولی رش کا شکار رہتے ہیں، جس کی وجہ سے دیہات سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کو نجی ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے جب کہ ان دیہاتیوں میں سے زیادہ تر ہسپتالوں کی بھاری فیس ادا نہیں کر سکتے۔ ایسے میں بہت سے لوگ غیر سند یافتہ ڈاکٹروں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔

ویڈیو دیکھیے 01:47

ایچ آئی وی کا مکمل خاتمہ، سائنسدان کامیاب

آغا خان یونیورسٹی سے وابستہ ڈاکٹر فاطمہ میر، جو اس حوالے سے اعدادوشمار پر تحقیق میں مصروف ہیں، بتاتی ہیں کہ ایچ آئی وی کی تشخیص سے اب تک کم از کم پچاس بچے فوت ہو چکے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقے میں کم اور عدم خوراکی بھی بچوں میں اموات کا سبب ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس وبا کے پھیلاؤ کی وجہ رتو ڈیرو کا ایک مشہور چائلڈ اسپیشلسٹ مظفر گھانگرو تھا۔ اس ڈاکٹر کو گرفتار کیا گیا تھا، مگر ان دنوں یہ ضمانت پر رہا ہے۔ گھانگرو تاہم ان الزامات کو رد کرتے ہیں۔