سندھ: سرکاری ادویات کی نجی میڈیکل اسٹورز پر فروخت | معاشرہ | DW | 26.06.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

سندھ: سرکاری ادویات کی نجی میڈیکل اسٹورز پر فروخت

پاکستان کا صوبہ سندھ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق کورونا وائرس سے اس وقت سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے۔ مگر حکومت کی طرف سے سرکاری ہسپتالوں کو جو ادویات فراہم کی جاتی ہیں وہ پرائیویٹ میڈیکل اسٹور پر فروخت ہوتی پائی گئی ہیں۔

کورونا کی وبا ان دنوں پاکستان کے ہر حصے میں ہی تیز رفتاری سے پھیل رہی ہے۔ مگر ملک کا جنوب مغربی صوبہ سندھ حکومتی اعداد وشمار کے مطابق اب تک اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہے جہاں اب تک 76 ہزار سے زائد افراد اس وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ یہاں ہلاکتوں کی تعداد 1200 سے تجاوز کر چکی ہے۔

کورونا متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے سبب کراچی سمیت صوبہ سندھ کے اکثر ہسپتالوں میں کورونا متاثرین کو علاج معالجے کی سہولیات ملنا مشکل ہو رہی ہیں۔ اسی حوالے سے حکومت کو تنقید کا بھی سامنا ہے کہ وہ عوام کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہو رہی ہے۔

دوسری طرف حکومت کی طرف سے سرکاری ہسپتالوں کو جو ادویات اور دیگر ساز و سامان فراہم کیا جاتا ہے، سندھ کے بعض شہروں میں اس کے پرائیویٹ میڈیکل اسٹوروں پر فروخت ہونے کے بھی واقعات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔

Pakistan Karachi Polizei holt gestohlene Medikamente zurück

پولیس کے مطابق پکڑی جانے والی ان ادویات میں زیادہ ترجان پچانے والی ادویات شامل ہیں جبکہ ایسی ادویات بھی ہیں جو کورونا کے مریضوں کو استعمال کرائی جاتی ہیں۔

ضلع لاڑکانہ میں بھی ان دنوں سرکاری ادویات کی بلیک میں فروخت کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ اس ضمن میں اب تک کروڑں روپے مالیت کی ادویات برآمد کی جا چکی ہیں۔

صرف ضلع لاڑکانہ میں اب تک کورونا کے 1400 سے زائد کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر لاڑکانہ ڈاکٹر اطہر شاہ کے مطابق کرونا سے متاثرین میں 42 ڈاکٹرز بھی شامل ہیں۔ ایسے میں حکومت سندھ کی جانب سے لاڑکانہ کے ہسپتالوں میں ایک ارب روپے اور ڈسڑکٹ ہیلتھ آفس کو مختلف ہسپتالوں اور بنیادی ہیلتھ سنٹرز وغیرہ کے لیے سالانہ چھ کروڑ روپے کی ادویات فراہم کی جاتی ہیں تاکہ مریضوں کو علاج معالجے کے مفت سہولت فراہم کی جا سکے۔ تاہم حکومت کی طرف سے فراہم کی جانے والی یہ ادویہ حیران کُن طور پر شہر میں موجود نجی میڈیکل اسٹورز پر فروخت ہوتی رہی ہیں۔

سندھ: اسکول وڈیروں کے اصطبل تو کہیں مویشیوں کے باڑے

سندھ، راشن تقسیم کا معاملہ اسکینڈل بن گیا

کراچی میں اموات کی شرح میں اضافہ، کیا سبب کورونا ہی ہے؟

لاڑکانہ پولیس کا کہنا ہے کہ کروڑوں روپے مالیت کی سرکاری ادویات نجی میڈیکل اسٹورز پر فروخت ہونے میں سرکاری افسران کی مبینہ ملی بھگت بھی شامل ہے۔ اے ایس پی رضوان طارق کے مطابق، ''دو پرائیویٹ گوداموں سے دو کروڑ کی سرکاری ادویات برآمد ہوئی تھیں اور ساتھ ہی تین ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کی نشاندہی پر ایک مقامی قبرستان میں بھی چھاپہ مارا گیا جہاں سے سرکاری ادویات کے 25 کارٹن برآمد کیے گئے ہیں۔‘‘

اے ایس پی رضوان طارق کے مطابق اس تمام معاملے میں مقامی محکمہ صحت کے اہلکار بھی شامل ہیں جن کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

پولیس کے مطابق پکڑی جانے والی ان ادویات میں زیادہ ترجان پچانے والی ادویات شامل ہیں جبکہ ایسی ادویات بھی ہیں جو کورونا کے مریضوں کو استعمال کرائی جاتی ہیں۔ ان تمام دوائیوں کے کارٹنز پر واضح طور پر سندھ حکومت کی 'ناٹ فار سیل‘ کی مہر لگی ہوئی تھی۔

ویڈیو دیکھیے 19:49

کورونا سے نمٹنے کے لیے سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کے اقدامات

ایک مقامی صحافی شہزاد علی خان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ انہوں نے کچھ عرصہ قبل ایسے عناصر کی نشاندہی کی تھی جو اس عمل میں ملوث ہیں اور اس کے لیے انہوں نے ویڈیو ثبوت بھی جمع کیے تھے تاہم اس پر بروقت کارووائی نہیں کی گئی تھی۔ شہزاد علی کے مطابق، ''یہ یہاں پر اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے جس میں پولیس نے ایسی کارووائی کی ہے کیونکہ درحقیقت یہ ڈرگ انسپکٹر کا کام ہے لیکن سندھ حکومت کا یہ شعبہ نہایت کمزور ہے۔ میڈیکل اسٹورز پر اگر ڈرگ انسپکٹرز اپنی چیکنگ کرتے تو ان کے سامنے یہ بات اب تک آجانا چاہیے تھی کیونکہ یہ کام کافی عرصے سے چل رہا ہے۔ حالات یہاں اس حد تک ہیں کہ ڈاکٹرز کے مطابق آپریشن تھیٹرز میں جو ادویات مفت مہیا ہونا چاہییں وہ تک وہاں موجود نہیں۔ سندھ حکومت اپنی جانب سے ادویات فراہم کر رہی تھیں اور درمیان کا جو عملہ ہے وہ ان کو غائب کر رہا تھا۔ یہ معاملہ صرف لاڑکانہ کا نہیں بلکہ پورے صوبے میں ایسا ہوتا رہا ہے تاہم انتظامیہ نے اب سے پہلے کبھی اس پر کارروائی نہیں کی۔‘‘

واضح رہے کہ اس سلسلے میں تحقیقات کو بڑھانے کے لیے سندھ حکومت کی طرف سے ایک جے آئی ٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جو اپنا کام تیزی سے کر رہی ہے۔