سنتھیا رچی کیس،′کچھ سالوں بعد ثبوت کہاں سے لائیں‘ | معاشرہ | DW | 06.08.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

سنتھیا رچی کیس،'کچھ سالوں بعد ثبوت کہاں سے لائیں‘

پاکستان میں ایک مقامی عدالت نے سنتھیا رچی کی سینیٹررحمان ملک کے خلاف درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔ امریکی بلاگر نے الزام عائد کيا تھا کہ پاکستان کے سابق وزير داخلہ رحمان ملک نے انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔

سنتھیا گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستانی شہ رخیوں میں ہیں۔ اس امریکی شہری کا کہنا تھا کہ 2011ء  میں اس وقت کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے ان کا ریپ کیا تھا۔ اسی حوالے سے سنتھیا نے ایک ٹی وی انٹرویو میں یہ بھی بتایا تھا کہ انہیں رحمان ملک کی جانب سے ڈھائی ہزار ڈالر دیے گئے تھے۔

سنتھیا رچی کے الزمات کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے حق میں اور ان کے خلاف بھی مہم چلائی گئی۔ کچھ کا کہنا تھا کہ سنتھیا کے الزمات کو سنجیدگی سے لیا جائے لیکن کچھ پاکستانی صحافیوں اور تجزیہ کاروں کی جانب سے اسے محض الزام تراشی ٹھہرایا گیا۔

کراچی سے صحافی فہمیدہ یوسفی نے اس کیس سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا،''جب بھی کوئی خاتون کسی مرد پر ریپ کا الزام لگاتی ہے تو یہ بہت سنگین نوعیت کا الزام ہوتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں جب خاتون کوئی ایسی بات کرتی ہے تو اس کے کردار کشی شروع کر دی جاتی ہے۔ سنتھیا کے کیس میں یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ وہ امریکی شہری ہیں، وہ کئی مرتبہ پاکستان آئیں، پاکستان کی طاقت ور شخصیات کے ساتھ رابطے میں رہیں اور پھر نو سال کے بعد ان کی جانب سے رحمان ملک پر ریپ کرنے کا الزام لگایا گیا۔ اسی کے ساتھ انہوں نے پی ٹی ایم، پی ایم ایل نون اور ٹی وی چینلز پر بھی الزمات لگائے جس کی وجہ سے کچھ عوامی حلقوں میں ان کو بہت زیادہ ہمدردری حاصل نہیں ہوئی۔‘‘

اس کیس سے متعلق لاہور میں مقیم سیاسی تجزیہ کار اور وکیل یاسمین آفتاب علی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،''پولیس کا کہنا تھا کہ 2011ء کے اس مبینہ واقعے سے متعلق ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جو اس بات کی تصدیق کر سکے کہ یہ واقعہ پیش آیا۔ پوری دنیا میں ایک قانون ہے، جس کے تحت اگر آپ ایک شکایت کسی ایک ادارے میں لے جائیں اور وہاں آپ اپنی درخواست سے متعلق شواہد پیش نہ کر پائیں تو آپ ایک شخص کے خلاف شکایت کو بار بار مختلف فورمز پر نہیں لے جاسکتے، اس کیس میں بس یہی کہنا کافی ہو گا۔‘‘

اس کیس سے متعلق سنتھیا رچی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،’’میں نے صرف غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ پولیس اور میرے وکیل  کی جانب سے مجھے بتایا گیا کہ ان پر پاکستان پیپلز پارٹی اور رحمان ملک کی جانب سے دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ اس کیس کی تحقیقات نہ کی جائیں۔ جس وقت میرا ریپ ہوا میں ’ریڈ زون‘ میں تھی جہاں سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں، پولیس کے پاس گاڑیوں اور وہاں موجود غیر ملکیوں کی فہرست ہوتی ہے۔ اگر بات ثبوت کی ہے تو پاکستان میں ثبوت موجود ہیں جس کی بنیاد پر ایک غیر جانبدارانہ تفتیش کی جا سکتی ہے۔‘‘

صرف مجھے ہی نہیں اور خواتین کو بھی انصاف ملنا چاہیے، میشا شفیع

بلوچستان یونیورسٹی میں جنسی ہراسانی کا اسکینڈل

اسلام آباد کے صحافی زاہد گشکوری کہتے ہیں،''کچھ پاکستانی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ رحمان ملک سے متعلق کیس میں کوئی ایسا ٹھوس ثبوت نہیں ملا ہے، جس کی بنیاد پر سنتھیا کے الزامات کی تصدیق کی جاسکے۔ ‘‘ زاہد کہتے ہیں کہ سنتھیا پر یہ بھی الزمات لگائے گئے کہ انہیں پاکستانی فوج یا پی ٹی آئی کی حمایت حاصل ہے تاہم پی ٹی آئی اور آئی ایس پی آر دونوں نے اپنے آپ کو اس کیس سے دور رکھا، ایسا لگتا ہے کہ  انہوں نے اس کیس کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور اسی لیے یہ کیس اپنی موت آپ مرتا ہوا نظر آرہا ہے۔

تاہم خواتین کے حقوق کی علمبردار اسلام آباد کی صدف خان اس کیس کے فیصلے سے ناخوش نظر آتی ہیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں کہا،''ریپ ایک بہت سنگین جرم ہے، ریپ کے متاثرین کے لیے  ہمشہ یہ ممکن نہیں ہوتا کہ وہ اسی وقت قانونی راستہ اختیار کریں۔ سنتھیا سے متعلق عدالت کا حالیہ فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان میں قانون میں ترامیم کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی شخص کچھ سالوں بعد سامنے آتا ہے تو وہ کہاں سے ثبوت لائے؟ ایسے میں کیا لائحہ عمل اختیار کیا جانا چاہیے ؟ ہمیں اس حوالے سے بحث کرنا ہوگی۔ ‘‘ 

سنتھیا سے متعلق مختلف فورمز پر تین سے چار کیسز کی تحقیق جارہی ہے۔ رحمان ملک کے خلاف کیس کے علاوہ ایک کیس میں عدالت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ سنتھیا جن کا ویزا تیس اگست کو ختم ہو رہا ہے، انہیں ملک بدر کر دیا جائے۔ ایک کیس ایف آئی اے کے سائبر کرائم  ونگ کے پاس ہے، جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے سنتھیا رچی پر بے نظیر بھٹو کے خلاف سوشل میڈیا پر تضحیک آمیز کلمات لکھنے پر کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 02:55

زندہ جلائی گئی طالبہ کا اہل خانہ، انصاف کے لیے منتظر