سمندر کی تہہ میں مردہ ماں کے سینے سے چمٹے بچے کی لاش: غوطہ خور رو پڑے | مہاجرین کا بحران | DW | 19.10.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

مہاجرین کا بحران

سمندر کی تہہ میں مردہ ماں کے سینے سے چمٹے بچے کی لاش: غوطہ خور رو پڑے

اطالوی غوطہ خور ایک کشتی کی غرقابی کے بعد لاپتا ہونے والے پناہ گزینوں کی تلاش میں سمندر کی تہہ میں اترے تو ایک منظر نے انہیں رلا دیا۔ زیر آب ایک کم سن بچہ اپنی موت کے دس روز بعد بھی اپنی ماں کے سینے سے چمٹا ہوا تھا۔

ویڈیو دیکھیے 02:18

ایک بے نام ایلان کردی

گزشتہ ہفتے تیونس سے اٹلی کی جانب محو سفر پناہ گزینوں کی ایک کشتی بحیرہ روم میں ڈوب گئی تھی۔ اس کشتی میں پچاس سے زائد افراد سوار تھے، جن میں سے بائیس کو ریسکیو کر لیا گیا تھا۔ دیگر اٹھائیس افراد سمندر میں لاپتا ہو گئے تھے۔

اطالوی کوسٹ گارڈز کی ٹیم نے اس کشتی کی غرقابی کے مقام کے قریب ان لاپتا افراد کی تلاش کا کام شروع کیا۔ لکڑی کی بنی یہ کشتی سمندر کی تہہ میں ساٹھ میٹر (قریب دو سو فٹ) کی گہرائی میں ایک ویڈیو روبوٹ کے ذریعے دیکھ لی گئی تھی۔

تہہ آب الٹی ہوئی کشتی کے نیچے ممکنہ طور پر کئی پناہ گزینوں کی لاشیں موجود تھیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے تھے۔ اس کے بعد لاشیں نکالنے کے لیے اطالوی ساحلی محافظوں کی ایک ٹیم کے غوطہ خور سمندر میں اترے۔

ایلان کی موت کے بعد سے مزید 77 مہاجر بچے سمندر میں ڈوب گئے

غوطہ خوروں کے مطابق کشتی کے نیچے سے لاشیں نکالتے ہوئے ایک منظر نے انہیں ہلا کر رکھ دیا۔ دس روز قبل ڈوب کر ہلاک ہو جانے والے ان افراد میں سے ایک خاتون نے اپنے ایک نومولود بچے کو بھینچ کر اپنے سینے سے لگا رکھا تھا۔

اطالوی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے غوطہ خوروں کی ٹیم کے سربراہ روڈولفو رائیٹیری نے بتایا، ''سمندر کی تہہ میں ممکنہ طور پر اپنی ماں کے سینے سے چمٹے اس چھوٹے سے بچے کی لاش دیکھ کر میرا دل ٹوٹ گیا۔‘‘

ایلان کردی کی یاد

غوطہ خوروں نے سمندر کی تہہ میں اس بچے کی لاش ملنے کا جو منظر بیان کیا، اس نے ایک مرتبہ پھر سے ایلان کردی کی یاد تازہ کر دی ہے۔ سن 2015 میں کم سن ایلان کردی کی لاش ترکی کے ایک ساحل سے ملی تھی۔

خود سمندر میں ڈوب جانے والا ایلان کردی اب دوسروں کو بچائے گا

ایلان کردی کی لاش کی تصویر نے دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا اور یہ تصویر بڑی تعداد یورپ کا رخ کرنے والے پناہ گزینوں اور ان کے باعث پیدا ہونے والے بحران کی علامت بن گئی تھی۔

یورپی یونین اور ترکی کے مابین معاہدے کے بعد سے بحیرہ ایجیئن کے سمندری راستوں کے ذریعے ترکی سے یونان کا رخ کرنے والے پناہ کے متلاشی افراد کی تعداد مسلسل کم ہوئی ہے۔ لیکن حالیہ برسوں کے دوران سمندری راستوں کے ذریعے شمالی افریقہ سے اٹلی اور اسپین کا رخ کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

لامپےڈوسا ایک اطالوی جزیرہ ہے اور زیادہ تر تارکین وطن شمالی افریقی ممالک کے ساحلوں سے اسی جزیرے کی طرف سفر کرتے ہیں۔ یہ سمندری راستے طویل اور انتہائی خطرناک تصور کیے جاتے ہیں۔

بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق صرف رواں برس کے پہلے نو ماہ کے دوران ہی مزید 994 افراد بحیرہ روم کے پانیوں میں ڈوب کر ہلاک ہو چکے ہیں۔

مہاجرت: کتنے بچے مارے جائیں گے؟

اس واقعے کے بعد بھی لامپےڈوسا میں پناہ کے متلاشی افراد کی آمد کا سلسلہ جاری ہے اور جمعہ اٹھارہ اکتوبر کے روز بھی سولہ افراد ایک چھوٹی سے کشتی کے ذریعے بحیرہ روم کا طویل سفر کر کے لامپےڈوسا پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔

اطالوی وزارت داخلہ کے مطابق اس برس اب تک پناہ کے متلاشی 7939 افراد مختلف سمندری راستوں کے ذریعے اٹلی پہنچ چکے ہیں۔

ش ح / م م (روئٹرز، ڈی پی اے، اے پی)

DW.COM

Audios and videos on the topic