سلفیوں کو مسجد بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، بوخم حکام | معاشرہ | DW | 22.08.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

سلفیوں کو مسجد بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، بوخم حکام

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق جرمن صوبے ’نارتھ رائن ویسٹ فیلیا‘ کے شہر بوخم میں سلفیوں کو ایک مسجد کی تعمیر کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

مقامی میڈیا کے خیال میں اس مجوزہ مسجد کی تعمیر کے پیچھے اِسی شہر میں مقیم اسامہ بن لادن کے مبینہ سابق محافظ کی کوششیں کار فرما ہیں۔

جرمن خبر رساں ادارے ’ڈی پی اے‘ کے مطابق جرمن شہر بوخم کے حکام کا کہنا ہے کہ شہر کی ایک عمارت کو مسجد میں تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ شہری انتظامیہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ انہیں ایک عمارت کو مسجد میں تبدیل کرنے کی درخواست موصول ہوئی ہے تاہم یہ درخواست اسامہ بن لادن کے مبینہ سابق محافظ سمیع اے کی جانب سے داخل نہیں کرائی گئی۔ ترجمان کے مطابق اس سلسلے میں پولیس اور آئنی تحفظ کے ادارے کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے۔

Salafist Sami A.

اسامہ بن لادن کے مبینہ سابق محافظ سمیع اے

ایک مقامی اخبار ’WAZ‘ نے لکھا ہے کہ جس عمارت کو مسجد میں تبدیل کرنے کی اجازت طلب کی گئی ہے، وہاں پہلے سے ہی عبادت کا سلسلہ جارہی ہے تاہم ابھی تک اس عمارت میں کوئی بھی تعمیراتی رد و بدل نہیں کی گئی۔

اسامہ بن لادن کا مشتبہ سابق باڈی گارڈ گزشتہ آٹھ برس سے جرمنی میں آباد ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے جرمن حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ تیونس سے تعلق رکھنے والے سمیع نے جرمن خاتون سے شادی کر رکھی ہے اور اس کے تین بچے بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسے جرمنی سے واپس تیونس بھیجنے میں قانونی پیچیدگیاں حائل ہیں۔

جرمن صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا NRW کے آئینی واچ ڈاگ ادارے کی ترجمان نے بتایا، ''ہم جانتے ہیں کہ 2000ء کے اواخر میں سمیع پاکستان اور افغانستان میں وقت گزار چکا ہے، جہاں وہ اسامہ بن لادن کے ایک محافظ کے طور پر کام کرتا رہا تھا۔‘‘

Salafisten Islamisten in Deutschland Koran Verteilung

رواں برس قرآن کی جلدیں مفت تقسیم کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا

NRW کی وزارت داخلہ کی ترجمان نے مزید کہا کہ اگرچہ سمیع کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے تاہم وہ 2006ء سے روزانہ کی بنیادوں پر مقامی تھانے میں حاضری دیتا ہے۔

رواں برس قرآن کی جلدیں مفت تقسیم کرنے اور پولیس سے جھڑپوں میں حصہ لینے کے بعد سے جرمن حکومت سلفی مسلمانوں کی نگرانی میں سختی لے آئی ہے۔ جرمنی میں قرآن کے نسخے عام لوگوں ميں مفت تقسيم کرنے کو سیاسی اور حکومتی حلقوں میں شک کی نگاہ سے دیکھا گیا تھا۔ بظاہر قرانی نسخے مذہبی آزادی کے تحت بانٹے جا سکتے ہیں ليکن سلفيوں کے شدت پسندانہ طرز عمل کی وجہ سے بھی اس کی شديد مخالفت کی جا رہی ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق جرمنی کی چار ملین کی مسلمان آبادی میں چار ہزار افراد سلفی نظریات کے ماننے والے ہیں۔

ia/ab (dpa)