سقوط کابل کے دوران جنگی جرائم کا انکشاف | حالات حاضرہ | DW | 15.12.2021

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

سقوط کابل کے دوران جنگی جرائم کا انکشاف

انسانی حقوق کے تحفظ کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنشنل نے ایسے واقعات رپورٹ کیے ہیں، جن سے انکشاف ہوتا ہے کہ سقوط کابل سے قبل اور بعد میں طالبان جنگجو مبینہ طور پر جنگی جرائم کے مرتکب ہوئے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں عالمی حمایت یافتہ حکومت کے گرنے کے عمل کے دوران رونما ہونے والے جنگی جرائم اور شہریوں پر ڈھائے گئے مظالم کے ذمہ داران میں مبینہ طور پر طالبان جنگجو، امریکی فوج اور افغان سکیورٹی فورسز تینوں فریق ہی ملوث رہے۔

انسانی حقوق کی معتبر عالمی تنظیم ایمنسٹی کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں برس اگست میں سقوط کابل سے قبل یہ تینوں فریقین ایسے حملوں کی ذمہ دار ہیں، جن کے نتیجے میں افغان شہری بڑے پیمانے پر متاثر ہوئے۔

بدھ کو شائع کی گئی اس رپورٹ میں طالبان جنگجوؤں پر الزام عائد کیا گیا کہ افغان حکومت کا تختہ الٹنے کے عمل کے دوران وہ جنگی جرائم کے مرتکب بھی ہوئے۔ رپورٹ میں ایسے واقعات بیان کیے گئے ہیں، جن کے مطابق طالبان مبینہ طور پر پرتشدد واقعات اور ماورائے عدالت ہلاکتوں میں بھی ملوث رہے۔

اس رپورٹ میں ایسی شہری ہلاکتوں کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے، جو افغان سکیورٹی فورسز اور امریکی فوج کی طرف سے زمینی یا فضائی کارروائیوں کی وجہ سے ہوئیں۔

ایمسنٹی کی سیکرٹری جنرل اگنس کالامار کی طرف سے جاری کیے ایک بیان میں کہا گیا کہ کابل حکومت کے گرنے سے کچھ ماہ کے قبل بالخصوص کابل میں بارہا جنگی جرائم کا ارتکاب کیا گیا اور طالبان جنگجوؤں نے بے دریغ خون بہایا جبکہ افغان اور امریکی فورسز کی کارروائیوں کے نتیجے میں بھی شہری مارے گئے۔

طالبان کی کارروائیاں جنگی جرائم کے زمرے میں

 سقوط کابل سے قبل اور بعد کے واقعات کا احاطہ کرنے والی اس رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ طالبان نے  کابل کی عمل داری سنبھالنے سے قبل اگست اور جولائی میں اپنی پرتشدد کارروائیوں میں تیزی پیدا کر دی تھی۔

بتایا گیا ہے کہ اس دوران طالبان جنگجوؤں نے نسلی اور مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ ساتھ ایسے افراد کو بھی چن چن کر تشدد کا نشانہ بنایا جو سابق افغان فوجی تھے یا جن پر یہ شک تھا کہ وہ افغان حکومت سے ہمدردی رکھتے ہیں۔ الزام ہے کہ اس دوران اس انتہا پسند گروہ نے متعدد افراد کو ہلاک بھی کر دیا۔

اس رپورٹ میں چھ ستمبر کے اس واقعے کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے، جب طالبان جنگجوؤں نے پنچشیر صوبے کے دارالحکومت بازارک پر حملہ کیا تھا۔ پنجشیر وادی میں پناہ لیے ہوئے طالبان مخالف ایک مقامی گروہ کے ساتھ ایک مختصر لڑائی کے بعد طالبان نے لگ بھگ بیس افراد کو گرفتار کر لیا تھا۔

مزید بتایا گیا ہے کہ ان قیدیوں کو دو دن حراست میں رکھا گیا اور انہیں متعدد مرتبہ کبوتر خانوں میں بھی بند کیا گیا۔ انہیں کھانے کو کچھ نہ دیا گیا، ان پر تشدد کیا گیا حتیٰ کہ انہیں پینے کا پانی اور طبی امداد بھی نہیں دی گئیں۔ ان پر نفیساتی تشدد کرتے ہوئے انہیں ہلاک کرنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پنجشیر میں کم از کم چھ شہریوں کو حراست میں لیا گیا اور ان کے سر اور سینے پر گولیاں مار کر انہیں ہلاک کر دیا گیا۔ رپورٹ میں ان واقعات کو جنگی جرائم کے زمرے میں بیان کیا گیا ہے۔

امریکی اور افغان فضائیہ حملوں میں شہری ہلاکتیں

اس رپورٹ میں رواں برس ہونے والے کم ازکم چار فضائی حملوں میں اٹھائیس شہریوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ ان حملوں میں ہلاک  ہونے والوں میں پندرہ مردوں کے علاوہ خواتین اور بچے بھی شامل تھے جبکہ چھ افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔

انکشاف کیا گیا ہے کہ بہت زیادہ امکان ہے کہ ان میں سے تین حملے امریکی فضائیہ نے کیے۔ بتایا گیا ہے کہ ان کارروائیوں میں زیادہ تر شہری ہی مارے گئے کیونکہ  گنجان آباد شہری علاقوں پر بمباری کی گئی تھی۔

اس رپورٹ میں ایک نوسالہ بچی کا بیان بھی شامل کیا گیا ہے، جس میں اس نے بتایا کہ جب پہلا بم گرا تو اس کی نیند ٹوٹ گئی اور اس کے والد نے کہا کہ کہیں چھپ جاؤ تاہم اسی اثنا ایک اور بم گرا ، جس کے نتیجے میں اس کا بھائی، انکل، آنٹی اور بہن ماری گئی۔

اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق سن دو ہزار اکیس کی پہلی ششماہی کے دوران ایک ہزار چھ سو انسٹھ افراد ہلاک ہوئے جبکہ زخمیوں کی تعداد ساڑھے تین ہزار سے زائد رہی۔

ان اعدادوشمار کے مطابق افغانستان میں سن دو ہزار بیس کے مقابلے میں رواں برس ہلاکتوں اور زخمی ہونے والے افراد کی تعداد میں سینتالیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔

یو این ہیومن رائٹس کونسل کی نائب کمشنر نادا الناشف نے منگل کے دن ہی ایک رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسی باوثوق اطلاعات ملی ہیں کہ افغانستان میں اگست میں طالبان کی عمل داری کے بعد سے اب تک کم از کم سو افراد کو ماورائے عدالت ہلاک کیا گیا۔

ع ب ،  ک م (خبر رساں ادارے)

ویڈیو دیکھیے 03:06

افغانستان میں طالبان کی مختصر تاریخ

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات