سفارتکار مصنفہ کیسے بنیں؟ | وجود زن | DW | 03.04.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

وجود زن

سفارتکار مصنفہ کیسے بنیں؟

امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں پاکستان کی قونصل جنرل کی حیثیت سے تعینات محترمہ عائشہ فاروقی کی ایک کتاب کی رونمائی حال ہی میں شہر ڈیلاس میں ہوئی۔ اس کتاب میں انہوں نے اپنی زندگی کے تجربات کو قلمبند کیا ہے۔

’’میوزنگز آف اے نومیڈ‘‘ یعنی ’’ ایک خانہ بدوش کا عالم محویت‘‘ کے عنوان سے شائع ہونے والی اس کتاب کے اجراء کی تقریب منعقد ہوئی ٹیکساس کے شہر ڈیلاس میں۔ اس تقریب کا اہتمام امریکا کی سینٹرل آغا خان کاؤنسل ’’اسماعیلی جماعت خانہ‘‘ اور ڈیلس انسٹیٹیوٹ آف ہیومینیٹیز اینڈ کلچرکے اشتراک سے کیا گیا۔

"Musings of a Nomad" زندگی کے مختلف پہلوؤں پر لکھے گئے مضامین کا مجموعہ ہے. بقول عائشہ فاروقی، ان کی یہ کتاب ان کی سوانح عمری کی حیثیت رکھتی ہے۔ ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ کتاب ان کی ذات کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا " مذہب، زبان، اور ثقافتی اعتبارسے ہم ایک دوسرے سے الگ سہی مگر انسانیت کا رشتہ ہم سب کو جوڑے ہوئے ہے اور ہمیں اس بات کو یاد رکھنا چاہیے"-

اپنی کتاب کی رونمائی کی تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا،" میں پچھلے بیس سالوں سے ایک ڈپلومیٹ کی زندگی گزار رہی ہوں۔ اس طرز زندگی سے میں نے بہت کچھ سیکھا بہت سفر کیا اور اس خانہ بدوشی کی زندگی نے مجھے مختلف زاویوں سے زندگی کے مختلف پہلوؤں کو دیکھنے کا ڈھنگ دیا"۔ عائشہ فاروقی نے اپنی اس کتاب میں اپنی ذاتی زندگی اور اپنے جذبات کا جس طرح کُھل کر اظہار کیا ہے وہ غیر معولی اور قابل ستائش ہے۔ 

ڈی ڈبلیو کی نمائندہ مونا کاظم شاہ نے جب ان سے سوال کیا کہ ايک سفارتکار اور ایک خاتون ہوتے ہوئے انہوں نے نہایت بہادری کا مظاہرہ اس انداز میں کیسے کیا توعائشہ فاروقی نے اس سوال کے جواب میں مسکراتے ہوئے کہا،" آپ نے یہاں بہادری کا لفظ استعمال کیا، کچھ لوگ اسے بیوقوفی بھی کہیں گے مگر میرے لیے یہ میری روح کے ساتھ ایک مکالمہ تھا، جب میں نے لکھنا شروع کیا تو مجھے لگا کہ اس سے مجھے خود کو سمجھنے میں بہت مدد ملی ہے-"

زندگی کے پیچ و خم کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا،" کئ سوال ایسے ہوتے ہیں جنہیں ہم صرف اپنی تنہائی میں اپنے آپ سے کرتے ہیں، میں اس کتاب کے ذریعے لوگوں کی مدد کرنا چاہتی تھی تاکہ وہ اپنے اندر کے چیلنجز کا مقابلہ کرسکيں اورانہیں اپنے آپ کو سمجھنے میں مدد ملے-"

اپنی کتاب کے ایک باب پر گفتگو کرتے ہوئے عائشہ فاروقی نے کہا کہ تنہائی پسند ہونا اور تنہا ہونے میں بہت فرق ہے۔ اُن کے بقول،" ہم اکثر ان دونوں کیفیات کا فرق بھول جاتے ہیں"۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اپنے کمزور لمحوں کو لفظوں میں اتارنا اور پھر ان لفظوں کو دنیا کے سامنے عام کر دینا اتنا آسان بھی نہیں ہے۔ وہ کہتی ہیں،" لیکن اگر ہم سچائی سے کام نہیں لیں گے تو ہمیں کوئی سنے گا نہیں اور اگر ہمیں کوئی سنے گا نہیں تو ہم اپنی مختلف شناخت نہیں بنا سکتے اور اگر آپ چاہتے ہیں کہ کوئی آپ کو سمجھے یا آپ کی کتاب کو پڑھے تو آپ کو مختلف ہونا ہوگا"۔

ویڈیو دیکھیے 01:07

سفارتکار مصنفہ کیسے بنیں؟

اس تقریب کے اختتام پر لوگوں نے عائشہ فاروقی سے ان کی کتاب پر آٹوگراف لیے اور ان کی اس کاوش کو بہت سراہا۔ عائشہ فاروقی مستقبل میں ایک اور کتاب لکھنے کا ارادہ رکھتی ہیں جو پاکستانی سیاست کے ارد گرد گھومے گی۔

Audios and videos on the topic

ملتے جلتے مندرجات