سعودی گیمز میں خواتین ایتھلیٹس بھی حصہ لیں گی | کھیل | DW | 27.02.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

سعودی گیمز

سعودی گیمز میں خواتین ایتھلیٹس بھی حصہ لیں گی

سعودی عرب میں آئندہ ماہ ’سعودی گیمز‘ کا بین الاقوامی اسپورٹس ایونٹ منعقد ہوگا، جس میں چھ ہزار سے زائد مرد و خواتین ایتھلیٹس شرکت کریں گے۔ اس نوعیت کی بڑی تقریبات سے یہ قدامت پسند عرب ملک اپنی ساکھ بہتر بنانا چاہتا ہے۔

ریاض میں تیئس مارچ سے سعودی گیمز کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔ چالیس سے زائد کھیلوں کے مقابلے یکم مارچ تک جاری رہیں گے۔ سعودی گیمز میں تیراکی، تیر اندازی، ایتھلیٹکس، بیڈمنٹن، اور باسکٹ بال کے مقابلوں میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی حصہ لیں گی۔ کھیلوں کے امور کے سعودی وزیر شہزادہ عبدالعزیز بن ترکی نے سعودی گیمز کا اعلان کرتے ہوئے کہا، 'ان کے لیے سعودی مملکت کی تاریخ میں کھیلوں کے سب سے بڑے ایونٹ کا اعلان کرنا باعث فخر ہے۔‘  سعودی گیمز میں فاتح ایتھلیٹس کو سونے کے تمغے کے ساتھ ساتھ ایک ملین سعودی ریال کے انعام سے بھی نوازا جائے گا۔

سعودی حکام ملک میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے سلسلے میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ حکام بڑے پیمانے پر کھیلوں اور تفریحی تقریبات منعقد کر رہے یں تاکہ ملکی ساکھ کو بھی بہتر بنایا جا سکے۔

واضح رہےسعودی بادشاہ شاہ سلمان نے حال ہی میں کھیلوں کی صنعت کی اقتصادی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے علیحدہ وزارت کھیل قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ شہزادہ عبد العزیز کو وزارت کھیل کی نئی ذمہ داری اس لیے بھی سونپی گئی ہے کیونکہ سعودی عرب ملک میں فٹ بال کی بڑی لیگز سے لے کر خواتین کی ریسلنگ تک کے اربوں ڈالر کے مقابلوں کی میزبانی کر رہا ہے۔

سعودی عرب رواں ہفتے دنیا کے امیرترین گھوڑوں کی دوڑ کی میزبانی بھی کرے گا۔ اس کے علاوہ سعودی حکام نے رواں ہفتے خواتین کی فٹ بال لیگ کا بھی آغاز کیا ہے۔ سن 2018 سے پہلے سعودی خواتین کو فٹ بال اسٹیڈیم میں بطور تماشائی داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔

سعودی عرب انسانی حقوق کی  پامالیوں کے واقعات کی وجہ سے بھی عالمی سطح پر تنقید کی زد میں رہا ہے۔ انسانی حقوق کے سرگرم کارکنان ان تقریبات کو 'اسپورٹس واشنگ‘ قرار دے رہے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کےایک حالیہ بیان کے مطابق گزشتہ چند ماہ سے سعودی حکام کھیلوں کی رنگا رنگ تقریبات کو تعلقات عامہ کے آلے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں اور وہ اس کے ذریعے اپنے بین الاقوامی امیج کو بہتر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ع آ / ک م/ ایجنسیاں

ویڈیو دیکھیے 03:22

کیا عبایا اسلامی لباس ہے؟

DW.COM