سعودی ولی عہد کی پاکستان آمد، مقصد دوستی يا ذاتی مفادات؟ | حالات حاضرہ | DW | 17.02.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

سعودی ولی عہد کی پاکستان آمد، مقصد دوستی يا ذاتی مفادات؟

شہزادہ محمد بن سلمان اپنے اولين دورے پر پاکستان پہنچ گئے ہيں۔ وہ پاکستان ميں وسيع تر سرمايہ کاری کرنے والے ہيں تاہم ماہرين کا کہنا ہے کہ ان کے ايشيائی ملکوں کے اس دورے کے مقاصد ميں ذاتی اور اقتصادی فوائد بھی کارفرما ہيں۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد پہنچ گئے ہيں جہاں ان کے شاندار استقبال کے ليے کئی دنوں سے تيارياں جاری تھيں۔ پاکستانی وزير اعظم عمران خان ملکی کابينہ کے کئی ارکان سميت فوجی سربراہ جنرل قمر جاويد باجوہ کے ہمراہ نور خان ايئر بيس پر ان کے استقبال کے ليے موجود تھے۔ اس موقع پر سعودی شہزادے کو فوجی دستوں کی جانب سے ’گارڈ آف آنر‘ بھی پيش کيا گيا۔ سعودی ولی عہد اپنے خصوصی طيارے پر اتوار سترہ فروری کی شام کے وقت پہنچے۔ ان کی آمد سے کچھ دير قبل ہی سعودی وزير مملکت عادل الجبير بھی اسلام آباد پہنچ چکے تھے۔ سعودی ولی عہد کی آمد ہفتے کے روز متوقع تھی تاہم وہ ايک روز کی تاخير سے آج اتوار کو پاکستان پہنچے۔

محمد بن سلمان اتوار سترہ فروری سے پير اٹھارہ فروری تک پاکستان ميں ہوں گے۔ اس دوران وہ پاکستانی صدر عارف علوی، وزير اعظم عمران خان اور فوجی چيف جنرل قمر جاويد باجوہ سے ملاقاتيں کريں گے۔ علاوہ ازيں میڈیا رپورٹوں کے مطابق وہ پاکستان ميں دس بلين ڈالر کی سرمايہ کاری کا اعلان بھی کریں گے۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ پر نشر کردہ رپورٹوں کے مطابق اس دوران دفاع او معيشت کے متعدد معاہدوں کو حتمی شکل دی جائے گی اور يہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انہيں پاکستان کے اعلٰی ترين سويلين ايوارڈ سے بھی نوازا جائے گا۔

پاکستان کے بعد سعودی ولی عہد بھارت جائيں گے، جہاں ان کی وزير اعظم نريندر مودی اور وزير برائے پيٹروليم دھرمندرا پردھان سے ملاقاتيں طے ہيں۔ بعد ازاں آئندہ جمعرات اور جمعے کو چين کے دورے کے ساتھ ان کا يہ دورہ اختتام پذير ہو گا۔ سعودی ولی عہد کو ملائيشيا اور انڈونيشيا کے بھی مختصر دورے کرنے تھے تاہم ان دوروں کی منسوخی کے بارے ميں اعلان ہفتے کو بغير کوئی وجہ بيان کيے کر ديا گيا۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان خطے کا دورہ ايک ايسے موقع پر کر رہے ہيں جب روايتی حريف ممالک پاکستان اور بھارت کے مابين حاليہ پلوامہ حملے کے تناظر ميں سخت کشيدگی پائی جاتی ہے۔ بھارتی حکومت نے پاکستان پر اس گروہ کی پشت پناہی کا الزام عائد کيا ہے، جس کا جنگجو اس حملے ميں ملوث تھا۔ دريں اثناء سعودی عرب کے حريف ملک ايران نے بھی پاکستان پر ايک ايسے گروہ کی معاونت کا الزام لگايا ہے، جو مشرقی ايران ميں حملے کرتا رہتا ہے۔

دورے کے مقاصد کيا ہيں؟

سياسی تجزيہ کاروں کے مطابق پچھلے سال دسمبر ميں جنوبی امريکی ملک ارجنٹائن ميں منعقدہ ترقی يافتہ ملکوں کے گروپ ’جی ٹوئنٹی‘ کے اجلاس ميں شرکت کے بعد ولی عہد محمد بن سلمان کا سب سے طويل بين الاقوامی دورہ مغربی رياستوں کے ليے درست وقت پر يہ پيغام ہے کہ ان کے ايشيا ميں اب بھی دوست ہيں۔ سنگاپور کے ’راجارتنم اسکول آف انٹرنيشنل اسٹڈيز‘ سے وابستہ محقق جيمز ايم ڈورسی کا ماننا ہے کہ اس دورے کا مقصد يہ ثابت کرنا ہے کہ ولی عہد، سعودی بادشاہ کے بعد رياض حکومت کے سب سے اعلٰی نمائندہ ہيں اور بين الاقوامی سطح پر اب بھی ان کی ساکھ ہے۔

چينی ’انسٹيٹيوٹ برائے انٹرنيشنل اسٹڈيز‘ ميں مشرق وسطٰی سے متعلق محکمے کے ڈائريکٹر لی گوؤفو کے مطابق سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے تناظر ميں مغربی ممالک ميں اب بھی شہزادہ سلمان کے حوالے سے تحفظات پائے جاتے ہيں اور ايسے ميں ان ممالک کے دورے ذرا مشکل ثابت ہو سکتے ہيں۔ انہوں نے مزيد کہا، ’’مغربی ممالک کے دورے نہ کرنے کا يہ مطلب نہيں کہ وہ مشرقی ممالک بھی نہ جا سکيں۔ يہ بھی اہم ہے کہ رياض حکومت اپنی حکمت عملی تبديل کر رہی ہے اور ايشيا ہی اب آئندہ کی سفارت کاری ميں مرکزی توجہ کا حامل خطہ ہے۔‘‘

’امريکن انٹرپرائز انسٹيٹيوٹ‘ سے وابستہ کيرن ينگ کہتی ہيں، ’’خليجی خطے ميں توانائی اور بنيادی ڈھانچے کی بہتری کے ليے سرمايہ کاری کا بلواسطہ ذريعہ ايشيا ہے اور مستقبل ميں عالمی اقتصاديات ميں ترقی بھی ايشيا ہی سے ہو گی۔‘‘ ان کے بقول صرف سعودی عرب ہی نہیں بلکہ دیگر خلیجی ممالک کا جھکاؤ ايشيا کی جانب بڑھے گا جو کہ ایک ’منطقی‘ رجحان ہے۔

ع س / ش ح، نيوز ايجنسياں

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات