سعودی ولی عہد کی آمد: پاکستان، بھارت کو سرمایہ کاری کی امید | حالات حاضرہ | DW | 13.02.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

سعودی ولی عہد کی آمد: پاکستان، بھارت کو سرمایہ کاری کی امید

سعودی ولی عہد کے اپنے ہاں دوروں سے پاکستان اور بھارت دونوں ہی نئی سرمایہ کاری کی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔ توقع ہے کہ محمد بن سلمان آئندہ دنوں میں ان دونوں ہمسایہ حریف ممالک میں نئی سعودی سرمایہ کاری کے اعلانات کریں گے۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اپنے والد شاہ سلمان کے ساتھ

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اپنے والد شاہ سلمان کے ساتھ

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد اور بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سے بدھ تیرہ فروری کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ خلیجی بادشاہت سعودی عرب مستقبل میں تیل کی برآمدات پر اپنے بہت زیادہ انحصار میں کمی کی جو سوچ اپنائے ہوئے ہے، اسی سوچ کے تحت شہزادہ محمد بن سلمان کی طرف سے پاکستان اور بھارت میں توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں ریاض حکومت کی طرف سے بہت بڑی نئی سرمایہ کاری کے اعلانات متوقع ہیں۔

Flagge Pakistan und Indien

پاکستان اور بھارت دونوں کو سعودی سرمایہ کاری کی امید

سعودی ولی عہد اپنے اس غیر ملکی دورے کے دوران پاکستان اور بھارت کے علاوہ ممکنہ طور پر چین، ملائیشیا اور انڈونیشیا بھی جائیں گے۔ اس دورے کی خاص بات یہ بھی ہے کہ یہ سعودی عرب پر کی جانے والی اس بھرپور بین الاقوامی تنقید کے بعد محمد بن سلمان کا اس خطے کا پہلا دورہ ہے، جس کی وجہ گزشتہ برس اکتوبر میں ترکی کے شہر استنبول کے سعودی قونصل خانے میں ریاض حکومت کے ناقد سعودی صحافی جمال خاشقجی کا ہولناک قتل بنا تھا۔

پاکستانی حکام کے مطابق پرنس محمد بن سلمان، جنہیں ان کے نام کے ابتدائی حروف کی وجہ سے میڈیا میں مختصراﹰ ایم بی ایس (MBS) بھی کہا جاتا ہے، آئندہ ویک اینڈ پر پاکستان میں زیادہ تر ایک ریفائنری اور بجلی کے شعبے سے متعلق چند دوطرفہ معاہدوں پر دستخط کریں گے۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اس موقع پر مفاہمت کی جن دستاویز پر دستخط کیے جائیں گے، وہ قابل تجدید توانائی کے علاوہ معدنی وسائل اور پیٹروکیمیکل کے شعبوں کے کئی منصوبوں سے متعلق ہوں گی۔

روایتی حلیف مسلم ممالک

پاکستان اور سعودی عرب روایتی طور پر ایک دوسرے کے حلیف اور آپس میں بہت قریب رہے ہیں۔ اس کا کئی دیگر باتوں کے علاوہ ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ اکتوبر 2018ء میں جمال خاشقجی کے قتل کے بعد اُسی مہینے سعودی عرب میں جو بڑی سرمایہ کاری کانفرنس منعقد ہوئی تھی، اس میں شرکت کرنے والی چند بہت اہم غیر ملکی شخصیات میں پاکستانی وزیر اعظم عمران خان بھی شامل تھے۔ دنیا کے کئی رہنماؤں اور بڑی بڑی کاروباری کمپنیوں کے اعلیٰ نمائندوں نے تب خاشقجی کے قتل کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اس کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا تھا۔

ریاض حکومت نے پچھلے سال اکتوبر کے اواخر میں پاکستان کی شدید مشکلات کا شکار معیشت میں بہتری کے لیے اسلام آباد کوچھ ارب ڈالر کے قرضے کی پیشکش بھی کی تھی۔ اس کے علاوہ سعودی عرب پاکستانی صوبہ بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں ایک ریفائنری اور پیٹروکیمیکل کمپلیکس کی تعمیر کا اعلان بھی کر چکا ہے۔ اس منصوبے کی مالیت تقریباﹰ 10 ارب ڈالر ہو گی۔ گوادر وہی پاکستانی شہر ہے، جہاں چین کی مدد سے ایک بہت بڑی بندرگاہ بھی تعمیر کی گئی ہے۔

سعودی بھارتی ’اسٹریٹیجک پارٹنرشپ‘

پاکستان کے بعد سعودی ولی عہد اگلے ہفتے سعودی کاروباری شخصیات کے ایک وفد کے ساتھ بھارت جائیں گے۔ نئی دہلی میں ملکی وزارت خارجہ کے مطابق شہزادہ محمد بن سلمان کو اس دورے کی دعوت بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے دی تھی۔

نریندر مودی سعودی ولی عہد کو ارجنٹائن میں گزشتہ برس نومبر میں ہونے والی جی ٹوئنٹی کی سربراہی کانفرنس میں مل چکے ہیں۔ سعودی عرب بھارت کو خام تیل مہیا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ لیکن نئی دہلی اور ریاض آپس کے تعلقات کو توانائی کے شعبے سے بہت آگے تک لے جا چکے ہیں۔

بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق  دونوں ممالک آپس میں ایک اسٹریٹیجک پارٹنرشپ پر بھی اتفاق کر چکے ہیں۔ اسی لیے نئی دہلی اور ریاض کے مابین اشتراک عمل توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے، دفاع اور سلامتی سمیت بہت سے متنوع شعبوں کا احاطہ کرتا ہے۔

محمد بن سلمان کے اس دورے کے دوران وزیر اعظم مودی کو یہ توقع بھی ہو گی کہ سعودی عرب بھارت کے قومی سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر فنڈ (NIIF) میں ابتدائی سرمایہ کاری کا اعلان بھی کرے گا۔ اس کے علاوہ خود سعودی حکومت اس خواہش کا اظہار بھی کر چکی ہے کہ وہ بھارت میں زرعی شعبے میں بھی ایسی سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہے، جس کے نتیجے میں حاصل ہونے والی پیداوار سعودی عرب برآمد کی جایا کرے گی۔

م م / ع س / روئٹرز

DW.COM