سعودی وزیر خارجہ کا دورہ: استحکام کے حوالے سے بیان زیر بحث | حالات حاضرہ | DW | 27.07.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

سعودی وزیر خارجہ کا دورہ: استحکام کے حوالے سے بیان زیر بحث

سعودی وزیر خارجہ پاکستان کے دورے پر ہیں، جہاں علاقائی استحکام کے حوالے سے ان کا بیان ناقدین کی مرکز نگاہ ہے۔ اس بیان کے بعد یہ بحث ہو رہی ہے کہ آیا ریاض یمن میں پھر عسکری مدد کی درخواست کرنے کا خواہاں ہے۔

Pakistan Saudischer Kronprinz Mohammed bin Salman zu Besuch

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ، فائل فووٹو (سن2019)

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود نے اسلام آباد میں اپنے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی اور انہوں نے ایک بیان میں یہ بھی کہا کہ سلامتی اور استحکام کے بغیر معاشی خوشحالی نہیں آ سکتی اور دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خطے میں استحکام کے حوالے سے کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

روزنامہ ڈان کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک نے علاقائی مسائل پر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے، چاہے وہ کشمیر کا ہو فلسطین کا ہو یا یمن کا ہو۔ شہزادہ فیصل کا کہنا تھا کہ انہوں نے تعلقات کے معاشی پہلو پر بہت زیادہ توجہ مرکوز کی ہے لیکن ناقدین کا خیال ہے کہ اس دورے کا مقاصد معاشی امور سے بالا ہیں۔

یمن کی خانہ جنگی میں کردار

کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ سعودی عرب اب بھی پاکستان سے یمن میں کوئی عسکری کردار ادا کرنے کی توقع کر رہا ہے اور اسی امید پر شاید سعودی وزیر پاکستان آئے ہیں۔

اسلام آباد کی پریسٹن یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات سے وابستہ ڈاکٹر امان میمن کا کہنا ہے سعودی عرب کے لیے یمن کا مسئلہ انتہائی اہم ہے۔

یہ بھی پڑھیے: یمن: سعودی فوجی کارروائی ایک خطرناک کھیل

میمن نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، "سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یمن (جغرافیائی اعتبار سے ) پاکستان سے بہت دور ہے۔ پاکستان اس حوالے سے کیا کردار ادا کر سکتا ہے اگر کوئی کردار بنتا ہے، تو وہ صرف عسکری حوالے سے بنتا ہے۔ سعودی نقطہ نظر سے یمن کا استحکام اس بات سے وابستہ ہے کہ حوثی باغی ہتھیار پھینکیں اور حکومت کی رٹ کو تسلیم کریں جس کو بین الاقوامی ادارے بھی تسلیم کرتے ہیں جبکہ ایران کا نقطہ نظر اس حوالے سے بالکل مختلف ہے۔‘‘

امان میمن کے بقول اس حوالے سے ریاض چاہتا ہے کہ پاکستان کوئی عسکری کردار ادا کرنے کی حامی بھر دے، ''سعودی عرب نے اس طرح کی درخواست 2014  میں بھی کی تھی لیکن اس وقت نواز شریف کی حکومت نے اس کو مسترد کردیا تھا۔ اس وقت کیوں کہ پاکستان کے معاشی حالات نسبتاً بہتر تھے لیکن اب ریاض کو معلوم ہے کہ پاکستان کے معاشی حالات بہت برے ہیں۔ ورلڈ بینک ان کو کوئی امداد نہیں دے رہا۔ آئی ایم ایف پاکستان کے حوالے سے کوئی نرمی نہیں کر رہا۔ امریکا اور مغرب سے بھی تعلقات اتنے اچھے نہیں کہ وہ معاشی طور پر پاکستان کی مدد کر سکیں تو سعودی عرب معاشی مجبوری کو پیش نظر رکھ کر پاکستان کو ایک بار پھر یمن میں کودنے کی دعوت دینا چاہتا ہے۔‘‘

افغانستان میں جنگ بندی

کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ سعودی شہزادے کے دورے کے مقاصد میں صرف مشرق وسطیٰ نہیں بلکہ دوسرے علاقے بھی شامل ہیں۔ پشاور یونیورسٹی کے ایریا اسٹڈی سینٹر کے سابق سربراہ ڈاکٹر محمد سرفراز خان کا کہنا ہے کہ یہ بات پیش نظر رکھنا چاہیے کہ ریاض اور واشنگٹن کے تعلقات انتہائی قریب ہیں اور کئی معاملات میں ریاض کا مطالبہ واشنگٹن کی خواہشات کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:جنرل باجوہ کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات

خان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''امریکا کی خواہش ہے کہ افغانستان میں جنگ بندی ہو جبکہ افغان طالبان اس سے انکاری ہیں۔ سعودی عرب کو پتہ ہے کہ پاکستان کا اثر رسوخ افغان طالبان پر ہے تو ممکنہ طور پر سعودی عرب امریکی خواہش لے کر آیا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان ایران روس اور چین میں قربت بڑھ رہی ہے کیونکہ سعودی عرب امریکی کیمپ میں ہے اس بات کا قوی امکان ہے کہ سعودی شہزادہ پاکستان کو خبردار کرنے آئے ہوں کہ یہ قربت مغربی ممالک اور سعودی عرب سے تعلقات کو متاثر کر سکتی ہے۔‘‘

اعتدال پسند مذہبی تشریح

ڈاکٹر سرفراز کا کہنا ہے کہ سعودی عرب مذہب کی سخت گیر تشریح کے اب خلاف ہوتا جا رہا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ جو ممالک اس سے قریب ہیں وہاں بھی اب اعتدال پسندی اختیار کی جائے۔

انہوں نے کہا، ''کیوں کہ پاکستان میں بھی مولویوں کی اکثریت مذہب کی ایک ایسی تصور پر یقین رکھتی ہے جو سخت گیریت کی طرف لے جاتا ہے لیکن سعودی عرب اب اس تشریح کے خلاف ہو چکا ہے، اس لیے ممکنہ طور پر سعودی عرب پاکستان کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ ترک ماڈل کی بجائے سعودی مذہبی ماڈل اپنائے۔ اس کے علاوہ ریاض یہ بھی چاہتا ہے کہ پاکستان افغان طالبان کو اسلام کی سخت گیریت پر مبنی تشریح سے روکے اور ماضی میں وہاں جو غیر انسانی سزا دی جاتی تھی یا مجسمہ توڑے جاتے تھے ایسا کوئی عمل نہ دہرایا جائے، کیونکہ اس طرح نہ صرف اس خطے کے انتہا پسندوں کی حوصلہ افزائی ہو گی بلکہ مڈل ایسٹ میں بھی اسلامی شدت پسندوں کی تحریک کو جلا ملے گی۔‘‘

پاکستان غیر جانبدار رہے گا

قائد اعظم یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات سے وابستہ ڈاکٹر ظفر نواز جسپال  کا کہنا ہے کہ پاکستان غیر جانبدار رہے گا۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''یمن کے مسئلے پر پاکستان ماضی میں بھی یہ بات واضح کر چکا ہے کہ پاکستان عسکری حوالے سے اس میں ملوث نہیں ہوگا اور 2014 کا جو فیصلہ ہے وہ برقرار رہے گا۔ یہ صرف یمن کا ہی مسئلہ نہیں تھا بلکہ قطر کے مسئلے پر بھی پاکستان نے سعودی عرب کی وجہ سے اپنے تعلقات دوہا سے خراب نہیں کیے تھے۔‘‘

یہ بھی پڑھیے:جنرل باجوہ کا دورہ سعودی عرب

ڈاکٹر ظفر نواز کے بقول ریاض ممکنہ طور پر پاکستان سے یہ کہہ سکتا ہے کہ وہ ایران سے بات چیت کرکے حوثی باغیوں کو مذاکرات پر راضی کرے۔ تاہم پاکستان کسی طور بھی طور پر بھی عسکری طور پر ملوث نہیں ہوگا۔ ہاں سعودی عرب کی داخلی سلامتی کے حوالے سے پاکستان کردار ادا کرے گا۔‘‘

برصغیر میں القاعدہ کی شاخ

ڈاکٹر ظفر نواز کا کہنا ہے کہ یمن کے علاوہ بھی پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان کئی ایسے معاملات ہیں جس پر اتفاق ہو سکتا ہے، ''حال ہی میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ آئی ہے، جس میں برصغیر میں القاعدہ کی شاخ کے حوالے سے بہت کچھ لکھا گیا ہے، یقیناً اس پر سعودی عرب پریشان ہے کیونکہ یہاں سے نکل کر القاعدہ عرب ممالک میں ہی جائے گی۔ تو القاعدہ کی موجودگی دونوں ممالک کے لیے تشویشناک ہے دونوں ممالک اس حوالے سے کسی مشترکہ لائحہ عمل میں پہنچ سکتے ہیں اور اس دورے کا ایک نقطہ وہ بھی ہوسکتا ہے۔‘‘

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات