سعودی عرب کا تیل پر انحصار، پرانی عادتیں مشکل سے ہی جاتی ہیں | حالات حاضرہ | DW | 25.07.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

سعودی عرب کا تیل پر انحصار، پرانی عادتیں مشکل سے ہی جاتی ہیں

گزشتہ برس جب سعودی آئل کمپنی ارامکو بھارتی آئل ریفائنری میں شراکت داری کے معاہدے کے قریب تھی تو اس سعودی کمپنی کے سربراہ خبر ملتے ہی پیرس سے ایک خصوصی طیارے کے ذریعے نئی دہلی پہنچ گئے تھے۔

ارامکو کے چیف ایگزیکٹیو امین ناصر ولی عہد محمد بن سلمان کے ہمراہ ایک تجارتی دورے پر فرانس میں موجود تھے، جب انہوں نے کمپنی کا جیٹ لیا اور سیدھا نئی دہلی پہنچ گئے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ ہونے والے اس معاہدے کو کس قدر اہمیت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

چوالیس بلین ڈالر کی سرمایہ کاری سے یہ آئل ریفائنری بھارت کے مغربی ساحلی علاقے میں لگائی جائے گی۔ اس ایک مثال سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ارامکو کمپنی سعودی سرحدوں کے باہر تیزی سے ترقی کرتے ہوئے ایشیا میں اپنے پاؤں جمانے کی کس قدر خواہش مند ہے۔ حالیہ کچھ عرصے کے دوران یہ کمپنی سعودی عرب، امریکا اور کئی ایشیائی ممالک میں پچاس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کر چکی ہے۔

دوسری جانب سعودی عرب کے سامنے یہ چیلنج بھی موجود ہے کہ وہ  اپنا اقتصادی انحصار خام تیل پرکم سے کم کرنا چاہتا ہے۔ ریاض حکومت نے اس حوالے سے کئی منصوبے شروع کر رکھے ہیں لیکن اپنی اقتصادیات کو متنوع بنانے کے ان منصوبوں کے نتائج ملے جلے ہیں۔ معاشی اور توانائی کے ماہرین کے مطابق ان میں سے کئی منصوبے تو انتہائی سست رفتاری کا شکار ہیں جبکہ کچھ بہت ہی تیزی سے آگے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

ولی عہد محمد بن سلمان کا ایک ہدف یہ تھا کہ سن 2020ء تک ملک کا 'خام تیل پر انحصار ختم‘ کر دیا جائے گا لیکن فی الحال یہ ہدف پورا ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔

رائس یونیورسٹی کے بیکر انسٹی ٹیوٹ کے انرجی فیلو جم کرین کا نیوز ایجنسی روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ''معاشی حوالے سے آج بھی سعودی عرب کا تیل پر انحصار اُتنا ہی زیادہ ہے، جتنا پہلے تھا۔ ظاہر ہے سعودی معیشت تیل پر ہی چل رہی ہے۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا،''سعودی عرب کا تیل کے ساتھ تعلق تبدیل ہو رہا ہے۔ سعودی سلطنت تیل کی قدر آخری حدوں تک نچوڑ کر اس سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔‘‘ دوسرے لفظوں میں دیگر شروع کیے گئے منصوبوں میں سست روی کا مطلب ہے کہ سعودی معیشت تیل کی قیمتوں کی یرغمال ہی رہے گی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق سرمایہ کاری کے دیگر منصوں میں تاخیر ولی عہد محمد بن سلمان کے اصلاحات پسند ہونے کے امیج کو بھی داغدار کر دے گی۔

محمد بن سلمان نے تین برس پہلے اپنا معاشی اصلاحاتی ایجنڈا پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی عرب کو اپنی 'تیل کی لت‘ ختم کرنا ہو گی۔ لیکن ان کے اس اعلان کے برعکس ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا۔ 

    

ا ا / ب ج (روئٹرز)

ملتے جلتے مندرجات