سعودی عرب: خواتین کو مزید حقوق مل گئے | معاشرہ | DW | 02.08.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

سعودی عرب: خواتین کو مزید حقوق مل گئے

سعودی عرب نے اپنے قوانین میں ترامیم کا اعلان کیا ہے جس کے بعد خواتین نہ صرف اکیلے سفر کر سکتی ہیں بلکہ اب کوئی بھی اہل شہری اپنے طور پر پاسپورٹ کے لیے بھی درخواست دے سکتا ہے۔

سعودی عرب کی حکومت کی طرف سے ملکی قوانین میں ترمیم کا اعلان آج جمعہ دو اگست کو کیا گیا ہے۔ نئی ترامیم کے مطابق اب سعودی خواتین 'مرد سرپرست‘ کے بغیر پاسپورٹ بھی حاصل کر سکتی ہیں اور انہیں اکیلے سفر کرنے کی اجازت بھی دے دی گئی ہے۔

یہ ترامیم سرکاری گزٹ میں شائع کی گئی ہیں اور ان کی رو سے کوئی بھی سعودی شہری جس کی عمر 21 برس یا اس سے زائد ہو اور وہ پاسپورٹ کے لیے درخواست دیتا ہے تو اسے پاسپورٹ جاری کیا جانا چاہیے اور اسے سفر کے لیے کسی سے اجازت لینے کی بھی ضرورت نہیں ہو گی۔

ان ترامیم میں کسی صنف کا ذکر نہیں کیا گیا لیکن ساتھ ہی ان میں خصوصی طور پر خواتین کا ذکر بھی نہیں کیا گیا۔ سعودی عرب کے سرکاری گزٹ ام القریٰ پر شائع ہونے والی ترامیم کے مطابق، ''کسی بھی سعودی شہری کو جو پاسپورٹ کے حصول کے لیے درخواست دے گا، اسے پاسپورٹ جاری کیا جائے گا۔‘‘

Saudi-Arabien 1. Tag Fahrerlaubnis für Frauen

نئے قوائد کے تحت خواتین بچے کی پیدائش، شادی یا طلاق کو رجسٹر کرا سکتی ہیں اور اس کے علاوہ انہیں خاندان سے متعلق دستاویزات جاری کی جا سکتی ہیں۔

نئے قوائد کے تحت خواتین بچے کی پیدائش، شادی یا طلاق کو رجسٹر کرا سکتی ہیں اور اس کے علاوہ انہیں خاندان سے متعلق دستاویزات جاری کی جا سکتی ہیں۔ ساتھ ہی وہ کم عمر بچوں کی سرپرست بھی بن سکتی ہیں۔ وہ خواتین کے لیے ملازمتوں کے مواقع بھی پیدا کر سکتی ہیں۔

قدامت پسند اور بادشاہت کا نظام رکھنے والا ملک سعودی عرب خواتین کے حقوق کے حوالے سے دنیا بھر کی نظروں میں رہا ہے۔ یہ ایک برس قبل تک دنیا کا واحد ایسا ملک تھا جہاں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت نہیں تھی۔ اس کے علاوہ خواتین نہ تو کسی مرد ساتھی کے بغیر کہیں سفر کر سکتی تھیں اور نہ ہی انہیں اسٹیڈیم وغیرہ میں داخل ہونے کی اجازت تھی۔

تاہم سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان جو دنیا کے سامنے ایک آزاد خیال اصلاح پسند کے طور اپنی ساکھ بنانے کے متمنی ہیں، خواتین کے حوالے سے ملک کے سخت قوانین میں بتدریج نرمی لانے کے لیے کوشاں ہیں۔

عالمی برادری کی طرف سے سعودی عرب پر سخت تنقید رہی ہے کہ وہاں خواتین کو شادی، سفر اور کئی دیگر بنیادی حقوق کے حصول کے لیے انہیں اپنے مرد سرپرست (والد، شوہر یا مرد رشتہ دار) کی اجازت لینا لازمی ہے۔

ویڈیو دیکھیے 01:50

سعودی عرب: گھریلو تشدد سے پریشان دو بہنیں فرار

ڈی ڈبلیو کے ایڈیٹرز ہر صبح اپنی تازہ ترین خبریں اور چنیدہ رپورٹس اپنے پڑھنے والوں کو بھیجتے ہیں۔ آپ بھی یہاں کلک کر کے یہ نیوز لیٹر موصول کر سکتے ہیں۔

ا ب ا / ع ب (اے ایف پی، روئٹرز)

DW.COM