سعودی عرب اور ایران کے درمیان ثالثی کی کاوشیں | حالات حاضرہ | DW | 06.05.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

سعودی عرب اور ایران کے درمیان ثالثی کی کاوشیں

عراق کے صدر برہم صالح نے تصدیق کی ہے کہ عراق کی میزبانی میں دونوں حریف ممالک کے اہلکاروں کے درمیان ملاقاتیں جاری ہیں۔

بیروت انسٹیٹوٹ نامی تھنک ٹینک کے ساتھ ایک انٹرویو میں عراقی صدر نے کہا کہ تہران اور ریاض کے اہلکاروں کے درمیان بات چیت کا پہلا دور اپریل میں ہوا۔ انہوں نے اس بارے میں کچھ نہیں کہا کہ یہ بات چیت مفید رہی یا نہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ رابطے "ضروری، اہم" اور ابھی جاری ہیں۔

یہ پہلی بار ہے کہ عراق کی اعلیٰ ترین حکومتی شخصیت کی طرف سے سعودی۔ایران رابطوں کی تصدیق کی گئی ہے۔ 

اے ایف پی نیوز ایجنسی کے مطابق یہ ملاقات نو اپریل کو ہوئی، جس میں سعودی انٹیلیجنس چیف خالد بن علی الحمیدان کے ایران کے سینئر اہلکاروں سے مذا کرات ہوئے۔ عراق میں متعدد ذرائع سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق اس بات چیت کا بڑا محور یمن میں جاری لڑائی بند کرانا ہے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق امریکا میں صدر جو بائیڈن کی حکومت آنے کے بعد سعودی عرب پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ خطے کے مختلف ممالک میں ایران کے ساتھ جاری لڑائی بند کرنے کے لیے واضح اقدامات کریں۔

اس میں سعودی عرب کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یمن میں چھ سال سے جاری جنگ ہے، جہاں دسیوں ہزار لوگ مارے جا چکے ہیں اورجو بچے یتیم ہوئے ہیں انہیں شدید بھوک اور افلاس کا سامنا ہے۔ تاہم یمن میں ایران کے پشت پناہی میں برسرپیکار حوثی باغی کمزور ہونے کی بجائے مزید عسکری کامیابیاں حاصل کرنے کے دعوے کر رہے ہیں اور آئے دن سعودی عرب کے اندر میزائل اور راکٹ داغ رہے ہیں۔

ادھر مسقت سے بھی اطلاعات ہیں کہ یمن کا تنازع رکوانے کے لیے پچھلے ہفتے سینیئر امریکی حکام نے وہاں یمن سے متعلق اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب مارٹن گرفتھس سے ملاقات کی اور جنگ بندی کی کوششوں پر زور دیا۔

واشنگٹن میں کارنیگی مڈل ایسٹ سینٹر سے وابستہ تجزیہ نگار احمد ناگی کے مطابق مسقت میں ہونے والی ملاقاتوں کا براہ راست تعلق سعودی۔ ایران کشیدگی میں کمی سے ہے۔ تاہم ان کے مطابق یہ واضح نہیں کہ "آیا اس بات چیت کا مقصد یمن کا جنگ کا خاتمہ ہے یا محض ایک عارضی سیز فائر ہے؟"

مبصرین کے مطابق واشنگٹن میں صدر ٹرمپ کی شکست کے بعد سعودی عرب کو احساس ہے کہ خطے میں اسے اب پہلے والی کھلی چھوٹ حاصل نہیں رہی۔ اس لیے سعودی حکومت دل سے نا بھی چاہے لیکن اسے امریکا کو اور دنیا کو یہ دکھانا ضروری ہے کہ وہ ایران کے ساتھ بات چیت کے ذریعے تنازعیات حل کرنے کے لیے تیار ہے۔

ادھر مبصرین ایران کے بارے میں بھی اسی قسم کے تحٖفظات رکھتے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے معاشی حالات کافی خراب ہیں اور اس کی خواہش ہے کہ ایٹمی معاہدے میں امریکا کی واپسی کے بدلے واشنگٹن کو ترغیب دے کہ وہ سعودی عرب پر اپنا دباؤ بڑھائے۔ 

یورپین کونسل آف فارن ریلیشن نامی تھنک ٹینک کے ایک تجزیہ کار کے مطابق ایران کے ایٹمی پروگرام اور یمن کی صورتحال کا آپس میں براہ راست تعلق ہے۔ ان کے مطابق امریکا مشرق وسطی کی گتھی سلجھانے کے لیے تہران اور ریاض دونوں پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ کشیدگی میں کمی لائیں اور خطے میں جاری خونی تنازعیات کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ اپنائیں۔

(اے پی، اے ایف پی) ش ج، ک م