سعودی شہزادے کی آمد: تیاریوں کے اخراجات زیرِ بحث آئیں گے؟ | حالات حاضرہ | DW | 14.02.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

سعودی شہزادے کی آمد: تیاریوں کے اخراجات زیرِ بحث آئیں گے؟

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی پاکستان آمد پر غیر معمولی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ اے کو ملنے والے پروٹوکول اور ان تیاریوں پر کئی حلقے حیران بھی ہیں۔ ان پر اٹھنے والے اخراجات کو بھی کچھ حلقے حیرانی سے دیکھ رہے ہیں۔

یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوگا کہ کوئی غیر ملکی سربراہِ حکومت وزیرِ اعظم ہاؤس میں قیام کرے گا، جب کہ ان کے ذاتی محافظ پاکستانی سکیورٹی حکام کے ساتھ مل کر وزیرِ اعظم ہاؤس کی حفاظت پر مامور ہوں گے۔ اس سے پہلے دو امریکی صدور جارج ڈبلیو بش اور بل کلنٹن نے اپنے ہی سفارتخانے میں قیام کیا تھا جب کہ دوہزار پندرہ میں آنے والے چینی صدر اسلام آباد کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں رکے تھے۔

ان انتظامات پر اٹھنے والے اخراجات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف تین سو گاڑیوں کا تین دن کا کرایہ تقریباً بیس کروڑ روپے ہے۔ یہ ٹھیکہ اسلام آباد کی ایک ٹرانسپورٹ کمپنی کو دیا گیا ہے۔ حکومت کی طرف سے جن گاڑیوں کا مطالبہ کیا گیا ہے ان میں پراڈو، بی ایم ڈبلیو، مرسیڈیز اور لیکسس شامل ہیں۔

Hotel Islamabad Marriott Hotel (IMPORT)


کرائے پر کاریں دینے والے بابر سلیم جاوید نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ انہوں نے اتنی بڑی تعداد میں کبھی حکومت کو گاڑیاں کرائے پر لیتے ہوئے نہیں دیکھا، ’’دوہزار پندرہ میں جب چینی صدر آئے تھے، تو ہمارے خیال میں وہ سب سے بڑی تقریب تھی، جس میں سو ڈیڑھ سو کے قریب گاڑیاں لی گئی تھیں۔ آخری جو سارک کانفرنس ہوئی تھی، اس میں سب سے زیادہ یعنی چار سو کے قریب گاڑیاں کرائے پر لی گئیں لیکن اس موقع پر کئی حکومتوں کے سربراہان بھی پاکستان میں موجود تھے۔ کسی ایک ملک کے سربراہ کے لیے کرائے پر لی جانے والی گاڑیوں کی یہ تعداد سب سے زیادہ ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ سعودی بہت بڑی سرمایہ کاری ساتھ لارہے ہیں اور ملک کو معاشی بحران کا سامنا ہے۔ تو میرا خیال ہے کہ ہمارے ملک کے لیے یہ اچھا ہے۔‘‘
لیکن ایک ریٹائرڈ وفاقی سکریٹری نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’یہ تصور غلط ہے کہ سعودی شہزادہ ہمارے پاس آرہا ہے۔ وہ یہاں سے بھارت اور ملائیشیا بھی جائے گا۔ بھارت میں ریاض کی طرف سے چالیس بلین ڈالرز کی سرمایہ کاری کا امکان ہے جب کہ سعودی عرب نے حال ہی میں نریندر مودی کو بھائی بھی کہا ہے۔‘‘


ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس طرح کا پروٹوکول اس سے قبل کبھی نہیں دیکھا، ’’میرے خیال میں یہ پروٹوکول چینی صدر کو دیے جانے والے پروٹوکول سے دس گناہ زیادہ ہے۔ صرف دو سی ون تھرٹی ذاتی استعمال کی اشیاء لائے ہیں۔ اس کے علاوہ سات سو کے قریب کمرے بک گئے ہیں۔ لیکن یہ دیکھنا ہوگا کہ یہ سارے اخراجات کون اٹھارہا ہے۔ سرکاری دورے میں زیادہ تر اخراجات دعوت دینے والا ملک اٹھاتا ہے لیکن ممکن ہے کہ دفترِ خارجہ نے سعودی دفترِ خارجہ سے طے کیا ہو کہ فلاں فلاں اخراجات پاکستان اٹھائے گا اور بقیہ دوسرے اخراجات سعودی عرب کو برداشت کرنا ہوں گے۔ بہرحال بہت پیسہ خرچ ہو رہا ہے۔‘‘
اسلام آباد میں ہوٹل ذرائع کے مطابق سکیورٹی کے پیشِ نظر ہوٹل کے عملےکو بھی خصوصی اجازت نامے دیے جارہے ہیں۔ اسلام آباد کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں کام کرنے والی ایک خاتون باورچی نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’دو سال پہلے ترکی کے صدر آئے تھے۔ اس سے پہلے چینی صدر آئے تھے۔ اس وقت بھی اجازت نامے جاری کئے گئے تھے لیکن اس مرتبہ کچھ زیادہ ہی سختی ہے۔ پورا ہوٹل چھاؤنی کا منظر پیش کر رہا ہے۔‘‘

ہوٹل ذرائع کا کہنا ہے کہ دو ہزار پندرہ میں چینی صدر کی آمد پر ایک سو کے قریب کمرے بک کیے گئے تھے جب کہ دو ہزار سولہ میں ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کی آمد پر اس سے بھی کم کمرے بک کیے گئے تھے۔ جب کہ سعودی شہزادے کی آمد پر سات سو کمرے بک گئے ہیں۔


اسلام آباد کے مہنگے ہوٹلوں میں کرایہ اوسطً دو سو اسی امریکی ڈالر ہے۔ یہ کرایہ سب سے نچلے درجے یعنی ڈیلیکس روم کا ہے۔ اس طرح سے اگر چینی صدرکے دو ہزار پندرہ کے دورے کے دوران ایک سو روم بک کیے گئے تھے توان کا ایک دن کا کرایہ اٹھائیس ہزار امریکی ڈالرز بنتا تھا۔ جب کہ محمد بن سلمان کے دورے کے موقع پر بک ہونے والے سات سو کمروں کا ایک دن کا کرایہ تقریباً $210,000 بنتا ہے۔

اسی طرح چینی صدر کے لیے کرائے پر لی جانے والی گاڑیوں کی تعداد اگر ڈیڑھ سو کے قریب تھی تو ان کا ایک دن  اوسط کرایہ تقریباً تیس لاکھ روپے بنتا ہے لیکن سعودی شہزادے کے لیے تین سو گاڑیوں کا ایک دن کا کرایہ ساٹھ لاکھ بنتا ہے۔

بالکل اسی طرح اسلام آباد کے کسی فائیو اسٹار ہوٹل میں ٹیکس لگا کر ایک شخص کے کھانے کا خرچہ تقریباً ستائیس سو روپے ہوتا ہے۔ اگر چینی صدر کے ساتھ دو سو افراد تھے تو ان کے ایک وقت کا کھانا تقریباً پانچ لاکھ چالیس ہزار روپے بنا تھا جب کہ اگر محمد بن سلمان کے ساتھ سات سو افراد ہیں تو ان کا ایک وقت کا کھانا تقریباً اٹھارہ لاکھ نوے ہزار روپے بنتا ہے۔ ہزاروں سکیورٹی اہلکاروں کا تین وقت کا کھانا، ان کے اضافی پیسے، ان کے پیٹرول اور ڈیزل کا خرچے اس کے علاوہ ہے۔


پاکستان میں وی آئی پی شخصیات کے دوروں پر اٹھنے والے اخراجات پر بڑی بحث ہوئی ہے۔ پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ سابق وزیرِ اعظم نواز شریف نے دوہزار تیرہ سے دو ہزار سترہ کے دوران  65 غیر ملکی دورے کیے، جس پر ایک ارب روپے سے زیادہ خرچہ آیا۔ وہ مجموعی طور پر ایک سو پچاسی دن ملک سے باہر رہے۔ اس دوران مجموعی طور پرچھ سو اکتیس افسران بھی ان کے ساتھ تھے۔ ناقدین کا خیال ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کی طرف سے سعودی ولی عہد کی آمد پر اٹھائے جانے والے اخراجات بھی آنے والے دنوں میں زیرِ بحث آسکتے ہیں۔

محمد بن سلمان کی آمد کے موقع پر ہوائی اڈےسے لے کر وزیرِ اعظم ہاؤس تک مختلف بینرز اور تصویریں آویزاں کی جارہی ہیں، جن پر پاک سعودی دوستی کے حوالے سے نعرے درج ہیں۔ اس کے علاوہ خوش آمدید کے بینرز بھی لگائے جائیں گے۔ اسلام آباد کی شہری انتظامیہ نے برسوں سے نظر انداز کیے گئے کئی علاقوں کی صفائی کرنی شروع کر دی ہے، جو ایئرپورٹ سے وزیرِ اعظم ہاؤس کے راستے میں آتے ہیں۔ پولیس اور سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی آمد کے موقع پر ایئر اسپیس کو بند کیا جائے گا۔ جڑوں شہروں میں ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند ہوگا جب کہ کئی علاقوں میں موبائل فون سروس بھی جزوی طور پر بند ہو گی۔ رینجرز اور پولیس کے ہزاروں اہلکار سکیورٹی پر مامور ہوں گے۔

ویڈیو دیکھیے 00:44

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کا سعودی تلوار رقص

DW.COM

Audios and videos on the topic