سعودی شہری اب فلم دیکھنے سینما گھر بھی جا سکیں گے | فن و ثقافت | DW | 11.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

سعودی شہری اب فلم دیکھنے سینما گھر بھی جا سکیں گے

سعودی عرب میں حکام نے اب سینما گھر کھول دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ گزشتہ پینتیس برس کے بعد پہلا سینما گھر اگلے برس مارچ میں شائقینِ فلم کے لیے کھول دیا جائے گا۔

سعودی عرب کے آڈیو وژول میڈیا ( Audiovisual Media) کے نگران حکومتی ادارے کے مطابق ملک میں سینما گھر چلانے کے اجازت نامے مارچ سن 2018 میں جاری کیے جائیں گے۔ ادارے کے اعلان میں یہ بھی کہا گیا کہ سینماگھروں کے کھولنے کا عمل اقتصادی ترقی اور کثیرالجہتی رجحان کو تیز کرنے کا باعث بنے گا۔ سعودی عرب میں سن 1980 کی دہائی میں سینما گھروں پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

سینما اور موسیقی ’اخلاقی زوال‘ کا باعث ہیں، سعودی مفتی اعظم

برلینالے میں مقابلے کی فلموں میں پہلی عرب فلم

پیغمبر اسلام کے بارے میں ایرانی فلم: پذیرائی بھی، تنقید بھی

سعودی فلم ’وجدہ‘ بھی آسکر کی دوڑ میں

آڈیو وژول میڈیا بورڈ نے یہ بھی کہا کہ ثقافتی شعبے کو وسعت دینے سے ایک طرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے تو دوسری جانب پیشہ ورانہ تربیتی عمل کو بھی ترقی حاصل ہو گی۔ میڈیا بورڈ کے سربراہ سعودی عرب کے وزیر اطلاعات عَود العَود ہیں اور اُن کا کہنا ہے کہ سینما گھر کھلنے سے سعودی ریاست میں عام لوگوں کے لیے تفریحی آپشنز کو بھی وسعت حاصل ہو گی۔

سعودی عرب میں سینما گھر کھولنے کی اجازت کو ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے وژن 2030 کے ساتھ نتھی کیا گیا ہے۔ شہزاہ محمد بن سلمان کو سعودی بادشاہ نے رواں برس جون میں ولی عہد کے منصب پر فائز کیا تھا۔

Dubai International Film Festival 2009 (AP)

سعودی عرب کے حلیف ملک متحدہ عرب امارات میں دو بین الاقوامی فلم فیسٹول کا انعقاد کیا جاتا ہے

سعودی میڈیا بورڈ کے مطابق سن 2030 تک کم از کم تین سو سینما کمپلیکسز کے لائسنس جاری کیے جائیں گے اور ان میں دو ہزار سے زائد فلم اسکرینیں نصب ہوں گی۔

سعودی ولی عہد نے یہ کہہ رکھا ہے کہ وہ اپنے ملک کے تشخص کو ایک اعتدال پسند مسلم ریاست میں ڈھالیں گے۔ انہوں نے اپنے ملک میں سخت عقیدے کے تحت عائد سماجی و معاشرتی پابندیوں کو نرم کرنے کا عمل جاری رکھا ہوا ہے۔

11th Dubai International Film Festival, Regisseurin Khadija Al-Salami (picture-alliance/dpa/A. Haider)

عرب دنیا کے ملک مصر میں بڑی فلم انڈسٹری قائم ہے

اُنہی کی ہدایات پر اگلے برس جون سے خواتین کو موٹرکار چلانے کے ڈرائیونگ لائسنس جاری ہونا شروع ہو جائیں گے۔ اسی طرح حال ہی خواتین کو اسٹیڈیم میں جا کر میچ دیکھنے کی بھی اجازت دی گئی ہے اور اس پر بھی اگلے برس کے شروع میں عمل کیا جائے گا۔

DW.COM

اشتہار