سعودی ریسکیو پیکج کے باوجود پاکستان آئی ایم ایف کے پاس | حالات حاضرہ | DW | 24.10.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

سعودی ریسکیو پیکج کے باوجود پاکستان آئی ایم ایف کے پاس

سعودی عرب کی جانب سے چھ ارب ڈالر کے ریسکیو پیکج کے اعلان کے باوجود پاکستان بین الاقوامی مالیاتی فنڈ IMF سے بیل آؤٹ کا خواہاں ہے۔

چوبیس اکتوبر بدھ کے روز پاکستانی وزارت خزانہ  نے بتایا کہ اس سعودی امدادی پیکج کے باوجود اسلام آباد حکومت آئی ایم ایف سے نئے قرضوں کے حصول کی خواہش مند ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے پاکستانی وزارت خزانہ کے ترجمان نور احمد کے حوالے سے لکھا ہے کہ پاکستان نومبر کے پہلے ہفتے میں قرضے کے پروگرام سے متعلق آئی ایم ایف سے بات چیت کرے گا۔

آئی ایم ایف سے آخری قرضہ لے رہے ہیں، وزير خزانہ

شاید آئی ایم ایف کے پاس جانا ہی نہ پڑے، وزیر اعظم عمران خان

اس سے قبل کل منگل کو پاکستانی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ سعودی عرب پاکستان کو تین ارب ڈالر ’فارن کرنسی سپورٹ‘ کی مد میں دے گا، جب کہ تین ارب ڈالر کا قرضہ سعودی عرب سے پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات پر ادائیگیوں میں چھوٹ کی صورت دیا جائے گا، تاکہ پاکستان کی تباہ حال معیشت کو کچھ سہارا مل سکے۔ سعودی مدد کے اس اعلان کے بعد پاکستانی اسٹاک مارکیٹ کے انڈکس میں تین اعشاریہ تین فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے رواں ہفتے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان ’دوست ممالک‘ سے مدد طلب کرے گا اور ساتھ ہی آئی ایم ایف سے بھی رجوع کیا جائے گا۔

نومبر کے پہلے ہفتے میں وزیر اعظم عمران خان چین کے دورے پر بھی جا رہے ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اپنے اس دورے کے دوران وہ بیجنگ حکومت سے بھی مزید تعاون طلب کریں گے۔

یہ بات اہم ہے کہ رواں برس جولائی کے عام انتخابات میں فتح یاب ہو کر حکومت قائم کرنے والے عمران خان ابتدا ہی سے پاکستان کی معیشت کی تباہ حالی کا ذکر کر رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ماضی کی حکومتیں ملکی معیشت کی اس زبوں حالی کی وجہ بنیں تاہم کئی ناقدین کا خیال ہے کہ ان کی سیاسی جماعت پی ٹی آئی ناتجربہ کار ہے اور ملکی معیشت چلانے کے لیے اس کے پاس کوئی روڈ میپ موجود ہی نہیں ہے۔

ع ت، م م (روئٹرز، اے ایف پی)

DW.COM