سعودی خواتین کے لیے سفر کی آزادی؟ | معاشرہ | DW | 16.07.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

سعودی خواتین کے لیے سفر کی آزادی؟

بات سفر کی ہو تو سعودی خواتین تاحیات ’نابالغ‘ ہی رہتی ہیں۔ سفر کے لیے انہیں ہمیشہ کسی مرد سرپرست کی اجازت درکار ہوتی ہے لیکن یہ صورت حال جلد ہی تبدیل ہونے والی ہے۔ کیا یہ ایک حقیقی تبدیلی یا صرف علامتی سیاست ہو گی؟

میڈیا رپورٹوں کے مطابق رواں برس سعودی خواتین کسی مرد سرپرست کی اجازت کے بغیر بھی سفر کرنے کی اہل ہو جائیں گی۔ اس حوالے سے وال اسٹریٹ جنرل اور فنانشل ٹائمز نے رپورٹیں شائع کی ہیں۔ ان دونوں جریدوں نے ان سعودی اہلکاروں کا حوالہ دیا ہے، جو اس قانون سازی میں حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ ان اہلکاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جلد ہی اٹھارہ برس سے زائد عمر کے خواتین اور حضرات بغیر کسی محرم مرد کی اجازت کے تنہا سفر کرنے اور سعودی عرب چھوڑنے کی اجازت ہو گی۔ فی الحال سعودی قانون کے مطابق یہ اجازت اکیس برس سے زائد عمر کے مردوں کو حاصل ہے اور خواتین کے لیے اس عمر میں بھی کسی مرد سرپرست کی اجازت حاصل کرنا ضروری ہے۔

سعودی عرب کا یہ قانون حال ہی میں اس وقت بین الاقوامی میڈیا کی شہ سرخیوں میں آیا، جب متعدد سعودی خواتین نے ملک سے فرار ہوتے ہوئے بیرون ملک جا کر سیاسی پناہ کی درخواستیں دیں۔ 

سعودی عرب میں ہر خاتون کا کوئی مرد سرپرست ہوتا ہے، پہلے یہ والد ہوتا ہے لیکن شادی کے بعد سفر کرنے کی اجازت دینے یا نہ دینے کا اختیار شوہر کے پاس چلا جاتا ہے۔ غیر شادی شدہ خواتین کا سرپرست ان کا بھائی، چچا یا پھر کوئی اور محرم مرد بھی ہو سکتا ہے۔  اسی طرح بیوہ خواتین اپنی بیٹے کو بھی اپنا سرپرست بنا سکتی ہیں۔

اگر سفر کے لیے کسی مرد سرپرست کی اجازت ختم بھی کر دی جاتی ہے، تو بھی دیگر پابندیاں بالکل پہلے کی طرح ہی قائم رہیں گی۔ کسی بھی خاتون کے لیے گھر چھوڑنے اور شادی سے پہلے کسی مرد سرپرست سے اجازت لینا لازمی ہو گا۔

حکومت کی طرف سے اس خبر کی ابھی تک نہ تو تردید کی گئی ہے اور نہ ہی تصدیق لیکن سعودی حکومت کے حامی سیاستدان محمد الزلفیٰ کا کہنا ہے کہ ایسا عین ممکن ہے۔ ان کا ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ''یہ خواتین تو خود اتنی بڑی ہو چکی ہوتی ہیں کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کا خیال رکھتی ہیں۔ یہ خود کام کرتی ہیں اور ذمہ داریاں اٹھاتی ہیں۔‘‘ ان کے مطابق سعودی خاتون نہ تو کمزور ہے اور نہ ہی اسے کسی محافظ کی ضرورت ہے۔

اس سعودی سیاستدان نے بھی اس خبر کی تصدیق تو نہیں کی لیکن ولی عہد محمد بن سلمان کی اصلاحات کے پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ اس کے حق میں ہیں اور اگر اس فیصلے سے خواتین کی بہتری ہو گی تو اس کا خیر مقدم بھی کیا جائے گا۔

دوسری جانب ناقدین کے مطابق سعودی ولی عہد بس وہی اصلاحات چاہتے ہیں، جو ان کی سیاست کے لیے فائدہ مند ہیں اور وہ ملک میں سیاسی لبرلائزیشن کے حق میں نہیں ہیں۔ یہ ناقدین خواتین کے حقوق کے لیے کوشاں ان کارکنوں کا حوالہ دیتے ہیں، جو سعودی عرب کی جیلوں میں قید ہیں اور ان میں خواتین بھی شامل ہیں۔

اسماعیل نیرمان ا ا / ع ح