سعودی تیل تنصیبات پرحملوں میں ایران ملوث ہے: یورپی ممالک | حالات حاضرہ | DW | 24.09.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

سعودی تیل تنصیبات پرحملوں میں ایران ملوث ہے: یورپی ممالک

فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے مشترکہ بیان میں ایران کو سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ایران نے یورپی الزام مسترد کر دیا ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے ایک بیان میں کہا کہ یورپی ممالک امریکا کے 'مضحکہ خیز دعوے' دہرا رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس کے موقع پر نیو یارک سے جاری ہونے والے اپنے بیان میں یورپی ممالک نے کہا کہ ان حملوں کی کوئی وجوہات سامنے نہیں آئیں اور یہ 'واضح' ہے کہ  اس کے پیچھے ایران کا ہاتھ تھا۔

تاہم انگيلا ميرکل، ایمانوئل ماکروں اور بورس جانسن نے کہا کہ وہ اب بھی ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر قائم ہیں۔ انہوں نے ایران کو مزید اشتعال انگیزی سے گریز کرنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ تمام تنازعات کا حل سفارتکاری میں ہے۔

بعد میں برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر کوئی شخص ایران کے ساتھ بہتر جوہری معاہدہ کرا سکتا ہے تو وہ امریکی صدر ٹرمپ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ٹرمپ یہ کر دکھائیں گے۔

تاہم ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے جوہری معاہدے پر ازسر نو مذاکرات کو خارج از امکان قرار دیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک نے موجودہ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں، اس لیے ایران کسی نئے معاہدے پر بات چیت کے لیے تیار نہیں۔   

ادھر امریکا نے یورپی ممالک کے بیان کا خیر مقدم کیا ہے۔  وزیر خارجہ مائیک پامپیو نے کہا کہ یورپی ممالک کی طرف سے ایران کے خلاف واضح موقف اختیار کرنے سے خطے میں قیام امن کی سفارتی کوششوں کو فروغ ملے گا۔

اس ماہ سعودی عرب کی دو تنصیبات پر درجنوں ڈرونز اور میزائلوں سے حملے کیے گئے تھے،جس کے بعد وہاں تیل کی پیداوار میں کمی آئی ہے اور خام تيل کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔

امریکا نے ان حملوں کے بعد وہاں مزید فوجی دستے تعینات کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

DW.COM