سعودی بلاگر بدوی کی اہلیہ نے ڈی ڈبلیو کا ایوارڈ وصول کر لیا | حالات حاضرہ | DW | 11.09.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سعودی بلاگر بدوی کی اہلیہ نے ڈی ڈبلیو کا ایوارڈ وصول کر لیا

سعودی عرب میں قید بلاگر رائف بدوی کی اہلیہ انصاف حیدر نے برلن منعقدہ ایک تقریب میں ڈی ڈبلیو کا ’آزادی اظہار ایوارڈ‘ وصول کر لیا ہے۔ انصاف نے اس موقع پر ایک نئی فاؤنڈیشن بنانے کا اعلان بھی کیا۔

default

رائف بدوی کی اہلیہ انصاف حیدر کے بقول ان کے شوہر مذاہب کا احترام کرتے ہیں

جمعہ گیارہ ستمبر کے دن جرمن دارالحکومت برلن میں واقع ڈی ڈبلیو کے ہیڈ کوارٹرز میں منعقدہ ایک تقریب کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رائف بدوی کی اہلیہ انصاف حیدر نے کہا کہ وہ ایک نئی فاؤنڈیشن بنانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

DW.COM

انصاف نے کہا کہ ’رائف بدوی فاؤنڈیشن فار فریڈم‘ کا مقصد آزادی اظہار اور انسانی حقوق کے تحفظ کا فروغ ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا، ’’ہم کسی ملک کی حکومت کے خلاف نہیں ہیں، نہ تو سعودی حکومت کے اور نہ ہی کسی اور ملک کی حکومت کے خلاف۔‘‘

اس موقع پر ڈی ڈبلیو کے ڈائریکٹر جنرل پیٹر لمبورگ سے بیسٹ آف بلاگز یا BOB ایوارڈ وصول کرتے وقت انصاف حیدر نے جرمن حکومت اور عوام کا شکریہ بھی ادا کیا۔ ڈی ڈبلیو کی جیوری نے فروری میں بدوی کو اس ایوارڈ کا حقدار قرار دیا تھا۔

اپنے شوہر کے لیے اس ایوارڈ کو وصول کرتے ہوئے انصاف حیدر نے کہا کہ جرمن عوام اور حکومت نے ہمیشہ بدوی کی حمایت کی ہے۔ اپنی تین بچیوں کے ہمراہ کینیڈا میں مقیم انصاف حیدر نے اس فورم پر بھی عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ ان کے شوہر کو رہائی دلانے کے لیے کوشش کرے۔

رائف بدوی سن 2012ء سے سعودی عرب میں قید ہیں۔ انہیں مبینہ طور پر اسلام سے متعلق متنازعہ تحریروں کی وجہ سے دس برس کی سزائے قید کے علاوہ ایک ہزار کوڑوں کی سزا بھی سنائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ انہیں بھاری جرمانے ادا کرنے کا حکم بھی سنایا گیا تھا۔ بدوی کو پچاس کوڑے مارے جا چکے ہیں۔ انہوں نے اپنے ’سعودی فری لبرلز فورم‘ نامی بلاگ میں سعودی عرب کی مذہبی اتھارٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

بدوی اپنے بلاگز میں بالخصوص ’پولیٹیکل اسلام‘ کو تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔ سن 2010ء میں اپنے ایک بلاگ میں انہوں نے مذہب اور سیاست کے ملاپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا تھا، ’’ دیکھو کیا ہوا، جب یورپی لوگ مذہب کو عوام کی روزمرہ کی زندگی سے الگ کر کے اسے صرف کلیساؤں تک محدود کرنے میں کامیاب ہو گئے۔‘‘

Startbild Video Raif Badawi

رائف بدوی سن 2012ء سے سعودی عرب میں قید ہیں

بدوی نے ایک دوسرے بلاگ میں لکھا تھا، ’’ایسی ریاستیں جن کی بنیاد مذہب پر ہوتی ہے، وہ اپنے لوگوں کو عقائد اور خوف کے چکر میں پھنسا دیتی ہیں۔‘‘

بدوی کی اہلیہ انصاف حیدر کے بقول ان کے شوہر مذہب کا احترام کرتے ہیں اور انہوں نے کوئی حد عبور نہیں کی۔ انصاف حیدر نے مزید کہا، ’’اسی لیے میں اپنے شوہر کی حمایت کرتی ہوں۔‘‘ ان کے مطابق سعودی عرب میں قید میں تنہائی کی زندگی بسر کرنے والے بدوی کو علم نہیں ہے کہ انہوں (انصاف حیدر) نے نئی فاؤنڈیشن قائم کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ تاہم انصاف نے امید ظاہر کی کہ ان کے شوہر جلد ہی آزادی پائیں گے اور اس نئی فاؤنڈیشن کا حصہ بن جائیں گے۔