سعد حسین رضوی کون ہیں؟ | حالات حاضرہ | DW | 21.04.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

سعد حسین رضوی کون ہیں؟

تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ کو ان کے حامی پاکستان کی سیاست کا ابھرتا ہوا ستارہ کہتے ہیں لیکن ناقدین انہیں مذہب کی آڑ میں خوف اور تشدد کا پرچار کرنے والا نوجوان قرار دیتے ہیں۔

تحریک لبیک کے شعلہ بیاں سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کے انتقال کے بعد یہ خیال تھا کہ یہ جماعت شاید ٹوٹ پھوٹ اور اختلافات کا شکار ہوجائے گی۔ لیکن حالیہ مظاہروں سے ثابت ہوا کہ ٹی ایل پی اس وقت بھی ایک مضبوط قوت ہے۔

اس ہفتے کے مظاہروں سے پہلے شاید بعض لوگ سعد حسین رضوی کو زیادہ نہ جانتے تھے لیکن ان کی گرفتاری سے بظاہر ان کے سیاسی قد میں اضافہ ہوا ہے۔

ابتدائی زندگی

سعد رضوی کی پیدائیش اکیس ستمبر انیس سو بانوے کی ہے۔ وہ اٹک کے گاوں نکہ، جسے نکہ توت بھی کہا جاتا ہے، میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ لاہور کے علاقے یتیم خانہ چوک میں گزارا، جہاں مسجد رحمت اللعلمین میں ان کے والد خادم حسین رضوی خطیب تھے۔

سعد رضوی نے اپنی پرائمری تعلیم رائل گرائمر اسکول لاہور سے حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے والدکے مدرسے ابوذرغفاری میں داخلہ لیا۔

کہا جاتا ہے کہ انہوں نے وہاں سے دو سال کے عرصے میں قرآن حفظ کیا اور پھر ایک سال تک قرات و تجوید کا کورس کیا۔ تاہم وہ اپنے والد کی طرح شیخ الحدیث نہیں ہیں۔

خادم رضوی کا نعم البدل؟

تاہم کئی مذہبی ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ خادم رضوی کا نعم البدل نہیں ہو سکتے۔ لاہور کی مشہور دارالعلوم جامعہ نعیمیہ کے مہتمم ڈاکٹر راغب حسین نعیمی کا کہنا ہے علمی حوالے سے سعد حسین رضوی کا قد کاٹھ بڑا نہیں۔

''میری اطلاع کے مطابق انہوں نے صرف میٹرک کیا ہے اور انہوں نے درس نظامی بھی اُس وقت جامعہ نعمانیہ اور جامعہ نظامیہ سے کیا جب ان کے والد جامعہ نظامیہ میں پڑھاتے تھے۔ انہوں نے ساری زندگی پڑھایا اس لیے ان کا مطالعہ نسبتا زیادہ تھا لیکن سعد حسین رضوی مطالعے کے حوالے سے اتنے مضبوط نہیں ہیں۔‘‘

موروثی سیاست

گو کہ خادم حسین رضوی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ جماعت کی شوریٰ نے انہیں امیر منتخب کیا ہے، ناقدین کا خیال ہے کہ قیادت کی منتقلی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اس جماعت میں بھی وراثتی قیادت کا اصول چل رہا ہے۔

تاہم اس سے بھی سخت تنقید سعد حسین رضوی کے خلاف ان حلقوں کی طرف سے آئی، جو ماضی میں تحریک لبیک پاکستان سے وابستہ رہے۔ کچھ عرصے پہلے جماعت کے سابق سرپرست اعلی اور بانی پیر افضل قادری نے ایک ویڈیو جاری میں دعوی کیا کہ سعد حسین رضوی حافظ نہیں ہیں۔ افضل قادری نے اس کے علاوہ بھی ان پر سنگین الزامات لگائے۔

الزامات کا جواب

تاہم  تحریک لبیک سے وابستہ ابن اسماعیل شامی کا کہنا ہے کہ پیر افضل قادری کی باتوں پر بھروسہ نہیں کیا جانا چاہییے کیونکہ انہوں نے پارٹی کو ایک ایسے وقت میں چھوڑا جب ان کے بیانات کی وجہ سے پارٹی بہت سخت کریک ڈاؤن سے گزر رہی تھی۔ ''پارٹی ان کے بیانات کے ساتھ کھڑی رہی لیکن انہوں نے چھ مہینے میں پارٹی سے لاتعلق ہونے کی ویڈیو جاری کر دی۔ تو میرے خیال میں ان کے بیانات میں کوئی سچائی نہیں ہے اور ن کے دعوے بے بنیاد ہیں۔‘‘

جانشینی اور قابلیت پر سوال

تحریک لبیک کے حامیوں کا کہنا ہے کہ سعد رضوی علامہ خادم حسین رضوی کے ساتھ ساتھ رہے۔ وہ فیض آباد کے دھرنے میں بھی متحرک تھے۔ خادم حسین رضوی نے اپنی وفات سے کچھ عرصے پہلے انہیں مختلف تنظیمی دوروں پر بھیجا تھا اور انہوں نے کراچی میں ایک بہت بڑے اجتماع میں خطابت کے جوہر بھی دکھائے تھے۔

ابن اسماعیل شامی کا مزید کہنا ہے کہ سعد حسین رضوی فارسی اور عربی کی گرامر پرعبوررکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں حافظ شیرازی مولانا رومی، شیخ سعدی اور اکبر الہ آبادی کے بہت سارے اشعار ازبر ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ سعد حسین رضوی کی تعلیم ان کے والد کی ایک حادثے میں دونوں ٹانگیں ضائع ہو جانے کی وجہ سے متاثر ہوئی۔ لہذا انہوں نے بعد میں بیرونی امیدوار کے طور پر میٹرک کا امتحان دیا۔  اس کے بعد انہوں نے درس نظامی دارالعلوم نعمانیہ لاہور سے کیا۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ سعد رضوی کو اردو، عربی فارسی اور پنجابی پر عبور حاصل ہے۔

تنظیمی صلاحیتیں

ابن اسماعیل نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ حافظ سعد حسین رضوی اچانک جماعت میں آکر اعلیٰ عہدے پر پہنچ گئے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ وہ پہلے پارٹی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل کے عہدے پر تھے۔ ''سعد حسین رضوی نے پورے تنظیمی ڈھانچے کو بدلہ اور جب پارٹی پر برا وقت آیا تو وہ کارکنان کے ساتھ کھڑے رہے۔ انہوں نے ہر سطح پراپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا، جس کی وجہ سے شوریٰ اس بات پر قائل ہوئی کہ انہیں امیر منتخب کرے۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ بہت کم لوگوں کو پتہ ہے کہ تنظیم کا جو نعرہ لبیک تھا، اس میں یا رسول اللہ کا اضافہ بھی سعد رضوی نے کیا۔‘‘