سستا تیل بھی کتنی بڑی مجبوری، بیلاروس روس میں مل بھی سکتا ہے | حالات حاضرہ | DW | 14.02.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

سستا تیل بھی کتنی بڑی مجبوری، بیلاروس روس میں مل بھی سکتا ہے

ماسکو نے اشارہ دیا ہے کہ سستے تیل کی فراہمی کے ایک معاہدے کے بدلے کالعدم سوویت یونین کی ریاست اور مشرقی یورپ کا خود مختار ملک بیلاروس روس کے ساتھ اپنا ریاستی ادغام کرتے ہوئے ایک نئی متحدہ ریاست میں شامل ہو سکتا ہے۔

روسی صدر پوٹن، دائیں، بیلاروس کے صدر لوکاشینکو کے ساتھ

روسی صدر پوٹن، دائیں، بیلاروس کے صدر لوکاشینکو کے ساتھ

بیلاروس کو سفید روس بھی کہا جاتا ہے اور اس کے دارالحکومت منسک سے جمعہ چودہ فروری کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق اس امکان کی تصدیق آج بیلاروس کے صدر الیکسانڈر لوکاشینکو نے بھی کر دی۔ دو مختلف ممالک کے طور پر روس اور بیلاروس کے ریاستی ادغام کی صورت میں یہ دونوں ایک نئی اور جغرافیائی طور پر مزید بڑی متحدہ ریاست کا حصہ بن جائیں گے۔

اس امکان کے حقیقت کا روپ دھار لینے میں فیصلہ کن بات سفید روس کو کم نرخوں پر توانائی کے روسی ذرائع کی فراہمی کا وہ معاہدہ ہو گا، جس کو حتمی شکل دینے کے لیے ماسکو تیار ہے۔

جدید عالمی تاریخ میں اپنی نوعیت کا منفرد واقعہ

اگر ایسا ہو گیا تو جدید عالمی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد واقعہ ہو گا، جس میں کوئی ملک اپنے لیے توانائی کے سستے ذرائع کے حصول کو یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہوئے اپنے علیحدہ ریاستی وجود اور خود مختاری کو ہی ترک کر دینے پر تیار ہو جائے گا۔

ماسکو اور منسک کے مابین اس بارے میں مذاکرات کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ یہ دونوں ملک گزشتہ تقریباﹰ 20 برسوں سے ان امکانات کا جائزہ لیتے چلے آ رہے ہیں کہ وہ آپس میں مل کر اور وسیع تر ریاستی انضام کے نتیجے میں ایک نئی متحدہ ریاست قائم کر لیں۔ اب تک ماسکو اور منسک کے مابین اس سلسلے میں جن چند کلیدی نکات پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا، ان میں ممکنہ کرنسی اتحاد بھی شامل ہے۔

اسی سلسلے میں گزشتہ ہفتے روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور بیلاروس کے صدر الیکسانڈر لوکاشینکو کے مابین ایک اور ملاقات بھی ہوئی تھی۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں کے مابین سال رواں کے دوران روس کی طرف سے سفید روس کو تیل اور گیس کی فراہمی کے ایک نئے معاہدے پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا تھا۔

بیلاروس 'آزاد ریاستوں کی دولت مشترکہ‘ کا رکن بھی

پوٹن اور لوکاشینکو کے مابین سات فروری کو ہونے والی ملاقات کے بعد روس کے اول نائب وزیر اعظم دیمیتری کرُوٹوئے کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بیلاروس کے سرکاری خبر رداں ادارے بَیلٹا نے بتایا تھا کہ بیلاروس کی تیل صاف کرنے والی تنصیبات کو روسی خام تیل آئندہ عالمی منڈیوں میں ادا کی جانے والی قیمتوں پر ہی مہیا کیا جائے گا۔

اب لیکن سستی قیمت پر بیلاروس کے لیے روسی تیل کی فراہمی کے معاہدے کے بدلے روس اور سفید روس کے ممکنہ ریاستی ادغام سے متعلق رپورٹیں اس بات کا اشارہ ہیں کہ اس موضوع پر پس پردہ کوئی نئی اور بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔

سرکاری طور پر جمہوریہ بیلاروس کہلانے والا یہ ملک سابق سوویت یونین کے خاتمے کے بعد وجود میں آنے والی ریاستوں کی ماسکو کے زیر اثر قائم کردہ 'آزاد ریاستوں کی دولت مشترکہ‘ یا سی آئی ایس کا ایک مکمل رکن بھی ہے۔

م م / ع ح (روئٹرز)

DW.COM