سری لنکن کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان مکمل، کیا کھویا کیا پایا | کھیل | DW | 10.10.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

کھیل

سری لنکن کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان مکمل، کیا کھویا کیا پایا

اپنی سرزمین پر پہلی بار ٹونٹی ٹونٹی سیریز ہارنے والی پاکستانی ٹیم کے نئے کوچ مصباح الحق اور پرانے کپتان سرفراز احمد کو سخت نکتہ چینی کا سامنا ہے۔

سری لنکا کی کرکٹ ٹیم اپنا 13 روزہ دورہ پاکستان مکمل کرکے آج جمعرات 10 اکتوبر کو لاہور سے وطن واپس روانہ ہوگئی۔ اپنی سرزمین پر پہلی بار ٹونٹی ٹونٹی سیریز ہارنے والی پاکستانی ٹیم کے نئے کوچ مصباح الحق اور پرانے کپتان سرفراز احمد کو سخت نکتہ چینی کا سامنا ہے۔ میزبان پاکستان کے خلاف ون ڈے سیریز دو صفر سے ہارنے کے بعد نوجوان مہمان کرکٹرز نے حیرت انگیز طور پر ٹی ٹونٹی سیریز میں عالمی نمبر ایک پاکستان کو کلین سویپ کردیا۔

خوف کا راج

پاکستانی کوچ مصباح الحق کو اس بات کا اعتراف ہے کہ سری لنکا کی کامیابی کا راز مہمان کھلاڑیوں کا بے خوف خطر اور دباؤ سے آزاد ہوکر کھیلنا تھا لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستانی ٹیم کیوں سہمی سہمی دکھائی دی۔ بظاہراس کی بڑی وجہ بیٹنگ لائن اپ میں اُتھل پَتھل تھی۔ ایک روزہ سیریزمیں 'میچ وننگ‘ کارکردگی دکھانے والے فخز زمان کو پہلے اورافتخار احمد کو دوسرے ٹی ٹونٹی کی پلیئنگ الیون سے باہر کردیا گیا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے بابراعظم کے سوا باقی تمام بیٹنگ کا ٹرائل ہو رہا ہو۔

Cricket Team aus Sri Lanka in Pakistan

سوا سال بعد پاکستانی جرسی پہننے کی وجہ سے احمد شہزاد ان کے ذہن پر خوف کا پہرہ تھا۔

دنیا میں ٹی ٹونٹی کو پرانے کھلاڑیوں کی ٹیم میں واپسی کے لیے غیرمناسب فارمیٹ سمجھا جاتا ہے اور باہمی سیریز میں نت نئے ڈیبیو کرانے کا چلن اس لیے عام ہے کہ نئے کھلاڑی زیادہ بے خوف ہو کر کھلیتے ہیں جو اس طرز کی کرکٹ کی ضرورت ہے۔ اس کے برعکس پرانے کھلاڑیوں کو ٹیم میں واپسی پر اپنے قدم جمانے میں وقت لگتا ہے جس کی ٹونٹی ٹونٹی میں کوئی گنجائش نہیں۔ یہ بات احمد شہزاد کی بیٹنگ سے بھی عیاں ہوگئی جو دونوں میچوں میں اپنا پہلا پہلا رن ایک پورا اوور نگلنے کے بعد ہی بنا سکے۔ احمد کو مکمل قصور وار نہیں ٹھہرایا جا سکتا کیونکہ سوا سال بعد پاکستانی جرسی پہننے کی وجہ سے ان کے ذہن پر خوف کا پہرہ تھا۔ اس سے دونوں بار پاکستان کا پاور پلے ضائع ہوا اور ٹیم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ خوف عمر اکمل کے علاوہ آصف علی کی بیٹنگ سے بھی جھلک رہا تھا جو دوسرے میچ میں چار بار فل ٹاس کا فائدہ نہ اٹھا پائے۔ سری لنکا کے سیریز میں پاکستان سے پانچ گنا زیادہ 15 چھکے بھی دونوں ٹیموں کی سوچ میں واضح فرق کی ایک اور مثال ہیں۔

نیا کوچ پرانا کپتان

سیریز میں وائٹ واش کے بعد بدھ نو اکتوبر کی شب قذافی اسٹڈیم کے نئے میڈیا سینٹر میں کوچ اور کپتان سے بعض سخت سوالات ہوئے لیکن دونوں ایک دوسرے کے دفاع کی ٹھان کر آئے تھے۔ مثال کے طور پر جب ایک صحافی نے سرفراز کی مسلسل خراب بیٹنگ فارم اور وکٹ کیپنگ میں غلطیوں پر سوال اٹھایا تو مصباح نے جوابی سوال داغ دیا، ''ہاں صرف ایک وکٹ کیپر ہی خراب ہے، تو باقی دس کیا کر رہے ہیں؟‘‘

اسی طرح جب مکی آرتھر اور مصباح کی منصوبہ بندی میں فرق کی بات ہوئی تو سرفراز کہتے ہوئے سنائی دیے کہ نئی انتظامیہ کا منصوبہ اور پیغام بھی پرانی انتظامیہ کی طرح بڑا واضح تھا، لیکن کھلاڑی میدان پر اس کو پراون نہ چڑھا سکے۔

Cricket Team aus Sri Lanka in Pakistan

آئی سی سی نے بھی پہلی بار پاکستانی سکیورٹی پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اپنے آسٹریلوی میچ ریفری ڈیوڈ بون اور انگلش امپائر مائیکل گف سمیت اپنے تین اہم آفیشلز کو کراچی اور لاہور بھجوایا تھا۔

کپتان اور کوچ کچھ بھی کہہ لیں مگر یہ بات واضح ہے کہ سرفراز احمد کو نمبر چار پر کھلانا غلطی تھی اس سے جہاں باقی بیٹنگ لائن ڈسٹرب ہوئی وہیں خود سرفراز اس اہم بیٹنگ پوزیشن سے بھی انصاف نہ کرپائے۔ دراصل سرفراز کی مشکل یہ ہے کہ وہ غیر روایتی شاٹس کھیلنے والے بیٹسمین رہے ہیں تاہم بڑھتی ہوئی عمر میں جب ان کے 'ریفلیکسس‘ پہلے جیسے مضبوط نہیں رہے تو اس عالم میں غیر روایتی اسٹروک کھیلنا اور بھی مشکل ہو رہا ہے۔ سرفراز کی خراب بیٹنگ کا اثر اب ان کی وکٹ کیپنگ اور کپتانی میں بھی نظرآنے لگا ہے۔


قذافی اسٹیڈیم کی پچ اور بابر اعظم

قذافی اسٹیڈیم کی پچ تینوں میچوں میں تھکی تھکی نظر آئی جس پر دوسری اننگز میں بیٹنگ کرنا آسان نہ تھا۔ ایک زمانے میں یہ پاکستان کی بہترین بیٹنگ پچ کہلاتی تھی لیکن اس سال یہاں گیند رک رک کر آ رہی ہے۔ قائد اعظم ٹرافی کے اوپننگ میچ میں بھی قذافی اسٹیڈیم کی پچ کو اچھی ریٹنگ نہیں ملی تھی۔ دنیا کے نمبر ون بیٹسمین بابر اعظم اپنے ہوم گراونڈ پر تین میچوں میں صرف 43 رنز بنا سکے۔ اس سے پہلے ستمبر میں قائد اعظم ٹرافی کے اس گراؤنڈ پر کھیلے گئے سدرن پنجاب کے خلاف میچ میں بھی بابر صرف چار رنز بنا سکے تھے۔ کوچ مصباح الحق کا خیال ہے کہ لاہور کی پچ کی سست روی سے اسٹروک پلیئر بابر اعظم کو مشکل کا سامنا کرنا پڑا جو ناکامی کی بڑی وجہ بنا۔


دورے کی کامیابی اورسکیورٹی

کراچی کے بعد لاہور میں بھی میچوں کے موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ ایک اندازے کے مطابق سات ہزار سکیورٹی اہلکاروں نے ان میچوں کا کامیاب انعقاد ممکن بنایا۔ لاہور کے شہریوں کو قذافی اسٹیڈیم سے ملحقہ سڑکوں کی بندش سے بھی سخت پریشانی کا سامنا رہا۔ تاہم سری لنکن ٹیم کا یہ دورہ پاکستان میں دس برس بعد ٹیسٹ کرکٹ کی واپسی میں اہم سنگ میل ہوگا۔

آئی سی سی نے بھی پہلی بار پاکستانی سکیورٹی پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اپنے آسٹریلوی میچ ریفری ڈیوڈ بون اور انگلش امپائر مائیکل گف سمیت اپنے تین اہم آفیشلز کو کراچی اور لاہور بھجوایا تھا۔ اس کے علاوہ آخری ٹونٹی ٹونٹی کے موقع پر انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو ٹام ہیریسن اور آئرلینڈ کرکٹ بورڈ کے چیئرمین راس میکولم اور چیف ایگزیکٹو وارن ڈیوٹرم کی لاہور میں موجودگی بھی آنے والے دنوں میں پاکستان میں مزید بین الاقوامی کرکٹ ہونے کا اشارہ دیتی ہے۔

لاہور آنے والے سری لنکا کے مشہور کمنٹیٹر اریک گاوڈر کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ون ڈے ٹیم کی میزبانی کا حق ادا کر دیا۔ اب سری لنکا کی ٹیسٹ ٹیم کو بھی دسمبر میں پاکستان آکر کھیلنا چاہیے۔

ڈی ڈبلیو کے ایڈیٹرز ہر صبح اپنی تازہ ترین خبریں اور چنیدہ رپورٹس اپنے پڑھنے والوں کو بھیجتے ہیں۔ آپ بھی یہاں کلک کر کے یہ نیوز لیٹر موصول کر سکتے ہیں۔

DW.COM