سری لنکا کے متاثرینِ سیلاب کے لیے بھارتی امداد | حالات حاضرہ | DW | 21.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سری لنکا کے متاثرینِ سیلاب کے لیے بھارتی امداد

سری لنکا کو شدید بارشوں کے بعد سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا سامنا ہے۔ اِن آفتوں سے پانچ لاکھ کے قریب افراد متاثر ہوئے ہیں۔ سری لنکا کے لیے اولین غیر ملکی امداد بھارت نے فراہم کی ہے۔

سری لنکا میں شدید بارشوں کے بعد آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ لاکھوں افراد کے لیے غیر ملکی امداد کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ کولمبو میں وزارت خارجہ نے بتایا کہ ہنگامی امدادی سامان سے لدا بھارتی ایئر فورس کا ایک بڑا ہوائی جہاز سری لنکا پہنچ گیا ہے اور دو مال بردار بحری جہاز بھی امدادی سامان لے کر آج ہی کولمبو پہنچ رہے ہیں۔ بھارتی حکومت نے ربر کی کشتیوں کے علاوہ پانی نکالنے والی موٹریں، غوطہ خوری کا سامان، ادویات، بجلی کے جنریٹرز، برساتیاں اور چھتریاں وغیرہ روانہ کی ہیں۔

شدید بارشوں کے بعد سری لنکا کے دریا کیلانی نے تباہی مچا دی تھی۔ دارالحکومت کولمبو کے اندر سے گزرنے والے دیگر موسمی دریاؤں اور ندی نالوں میں سیلابی پانی کا زور کم ہونا شروع ہو گیا ہے، حالانکہ گزشتہ رات بھی بارش ہوئی ہے۔ قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے نے کہا ہے کہ سیلاب کی صورت حال قدرے بہتر ضرور ہوئی ہے لیکن اتنی بھی نہیں کہ محفوظ علاقوں میں منتقل ہونے والے واپس اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جائیں۔ گزشتہ پچیس برسوں میں ان بارشوں کو شدید ترین قرار دیا گیا ہے۔

Sri Lanka Überschwemmungen in Colombo

سری لنکا کو شدید بارشوں کے بعد سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا سامنا ہے

حکام کے مطابق ان بارشوں، سیلابوں اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے اب تک 60 افراد ہلاک ہوئے ہے۔ سری لنکا کے دارالحکومت کے شمال میں ایک سو کلومیٹر کی مسافت پر واقع ضلع کیگالے میں سب سے زیادہ چونتیس ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ اب تک اِس قدرتی آفت کی لپیٹ میں آ کر 144 افراد بھی لاپتہ ہیں۔ ان میں 37 بچے شامل ہیں۔ حکام ان لاپتہ افراد کی تلاش کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ لاپتہ افراد کی تلاش گزشتہ منگل سے شروع ہے۔ بعض طبی اور انتظامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اِن لاپتہ افراد کے زندہ بچ جانے امکانات محدود ہیں۔

سری لنکن ڈیزاسٹر مینیجمنٹ سینٹر کے ترجمان پردیپ کوڈپ پلی نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ سری لنکا کے پہاڑی علاقوں میں دوبارہ بارش ہوئی ہے اور خدشہ ہے کہ ایک اور سیلابی ریلا دارالحکومت اور دوسرے علاقوں کے دریاؤں اور ندی نالوں سے گزرنے والے برساتی پانی کی سطح مزید بلند کر سکتا ہے۔ کوڈپ پلی کے مطابق شدید بارشوں کے بعد تین لاکھ افراد کو عارضی رہائش فراہم کی گئی ہے جب کہ دو لاکھ افراد اپنے عزیز و اقارب کے ہاں قیام پذیر ہیں۔

امدادی سرگرمیوں میں سری لنکا کی نیوی، ایئر فورس اور آرمی کے دستے شریک ہیں۔ مختلف علاقوں میں محصور افراد تک خوراک فراہم کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ سری لنکا کے صدر میتھریپالا سری سینا نے ملکی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سیلاب سے متاثرہ افراد کی بھرپور مدد کرنے کے لیے مالی امداد کے ساتھ ساتھ ضروری سامان بھی فراہم کرنے میں پہل کریں۔ حکومت کی نگرانی میں متاثرین کی بحالی کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

DW.COM

اشتہار