سردی میں بستر کیوں نہیں چھوٹتا؟ | سائنس اور ماحول | DW | 18.11.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

سائنس اور ماحول

سردی میں بستر کیوں نہیں چھوٹتا؟

جاڑے کے موسم میں آپ سبھی نے محسوس کیا ہو گا کہ نیند بہت زبردست آتی ہے اور صبح بستر چھوڑنے کا جی نہیں چاہتا۔ آئیے سائنس سے پوچھتے ہیں اس کی وجہ۔

سردی میں لمبی اور گہری نیند کی وجہ فقط سردی کا نفسیاتی اثر نہیں ہے، بلکہ سائنس دانوں کے مطابق سورج کی روشنی کی موجودگی میں ہمارے جسم میں مخصوص ہارمون میلاٹونین کم پیدا ہوتا ہے، مگر سردی میں چوں کہ سورج کی روشنی کم ہوتی ہے تو ایسے میں اس ہارمون کی جسم میں زیادہ مقدار پیدا ہوتی ہے۔ یہ ہارمون ہمیں بتاتا ہے کہ بہت کام ہو گیا اب سو جاؤ۔

خواب کیا ہیں؟ خواب کیوں ہیں؟

گولیاں کھلا کر موت کی نیند سلانے والے مسیحا

موسم گرما میں دن لمبے ہوتے ہیں۔ اس لیے جسم میں اس ہارمون کا پیدا ہونا بھی تاخیر کا شکار ہوتا ہے، جب کہ سردی میں یہ عمل جلدی شروع ہو جاتا ہے۔ اس لیے آپ جلدی بستر کی جانب کھسک جاتے ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق زمین پر وہ علاقے جہاں سردی میں سورج کی روشنی انتہائی کم ہوتی ہے، وہاں انتہائی ضروری ہےکہ واک یا دیگر سرگرمیوں کے ذریعے جسم کو روشنی مہیا کی جائے۔ دوسری صورت میں نفسیاتی مسائل پیدا ہو جانے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے، جس میں موسمی ڈپریسِو ڈس آرڈر شامل ہے۔

سردی اور کمبل

سردی میں کمبل لپیٹ لینا جیسے اس موسم کا حصہ ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق اس وجہ سے ہم جسم کے قدرتی 'تھرمواسٹیٹ‘ یا جسمانی درجہ حرارت کو درست رکھنے کے نظام کو متاثر کر دیتے ہیں۔ عمومی طور پر لیٹنے کی صورت میں جسم اپنا درجہ حرارت کم کرتا ہے، جب کہ بیدار ہونے پر یہ درجہء حرارت دوبارہ بڑھتا ہے۔ تاہم جسم کا درجہ حرارت بار بار تبدیل کرنا کوئی سود مند عمل نہیں ہے اور اس سے درجہ حرارت کی تبدیلی کا قدرتی نظام متاثر ہوتا ہے۔

درجہ حرارت کے اس نظام کی خرابی نزلے اور زکام کا باعث بن سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق سردیوں میں گھر کا درجہ حرارت بھی بار بار تبدیل کرنے کی بجائے ایک جگہ پر برقرار رکھا جائے۔

ویڈیو دیکھیے 03:36

سرد موسم بن سکتا ہے آسودگی فراہم کرنے کا ایک ذریعہ

خوراک بھی نیند سے جڑی ہے

سردی میں خوراک کی عادات میں بھی تبدیلی ایک روایتی سی بات ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ سردی میں زیادہ بھاری خوراک نیند پر منفی اثرات کی حامل ہو سکتی ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق خوراک اور نیند کے درمیان وقفہ ضروری ہے، کیوں کہ اگر کھانا کھانے کے فوری بعد سویا جائے تو ایک طرف تو آپ مسلسل تھکن محسوس کرتے رہیں گے اور دوسری طرف اکثر بار بار جاگتے بھی نظر آئیں گے۔

جدید دور کا اضافی مسئلہ

گو کہ رات دیر تک ٹی وی دیکھنے یا گھنٹوں موبائل فون پر سوشل میڈیا کی دنیا میں کھوئے رہنے کو فقط سردی سے نہیں جوڑا جا سکتا۔ تاہم سردی میں چوں کہ جلد بستر میں داخل ہونے اور پھر کمبل لپیٹ کر ٹی وی دیکھنے یا فون استعمال کرنے کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے اس کی وجہ سے دماغی دباؤ میں اضافہ ممکن ہے۔ ماہرین کے مطابق انتہائی ضروری ہے کہ دماغ کو اضافی سٹریس سے بچایا جائے۔ ذہنی دباؤ کی بلند سطح انسومینیا اور کم خوابی جیسے امراض کی جانب لے جا سکتی ہے۔