سرحدی تنازعہ: کیا بھارت امریکا کی مدد چاہتا ہے؟ | حالات حاضرہ | DW | 03.06.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

سرحدی تنازعہ: کیا بھارت امریکا کی مدد چاہتا ہے؟

بھارت اور چین کے درمیان سرحد پر جاری تعطل کے درمیان کشیدگی ختم کرنے کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں اور دونوں ملک سینیئر کمانڈروں کی سطح پرچھ جون کو بات چیت کریں گے۔

اس درمیان ایک اہم پیش رفت میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ’بھارت چین سرحد پر صورت حال‘ کے حوالے سے فون پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ایک بھارتی نیوز چینل سے بات چیت کرتے ہوئے اس کی تصدیق کی اور پہلی مرتبہ تسلیم کیا کہ بھارت اورچین کے درمیان حقیقی کنٹرول لائن پر صورت حال تشویش ناک ہے۔ بھارتی وزیر دفاع کا کہنا تھا”چینی فوجی اچھی خاصی تعداد میں حقیقی کنٹرول لائن پر موجود ہیں۔ لیکن بھارت نے بھی اپنی طرف سے جوکچھ کرنا چاہیے وہ کیا ہے۔“

مشرقی لداخ کے حساس علاقوں کی موجودہ پوزیشن کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کا کہنا تھاکہ چینی وہاں تک آگئے ہیں جس کو وہ اپنا علاقہ ہونے کا دعوی کرتے ہیں جبکہ بھارت کا ماننا ہے کہ یہ اس کا علاقہ ہے۔

بھارتی وزیر دفاع نے امید ظاہر کی کہ موجودہ تنازعے کو بھی اسی طرح حل کرلیا جائے گا جیسے کہ ڈوکلام تنازعے کو حل کرلیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا”ڈوکلام تنازعہ کا حل سفارتی اور فوجی بات چیت کے ذریعہ ہواتھا۔ ہم نے اس طرح کے حالات کو ماضی میں بھی حل کیا ہے۔ موجودہ مسئلے کے حل کے لیے فوجی اور سفارتی سطح پر بات چیت جاری ہے۔“  راج ناتھ سنگھ کا کہنا تھا”بھارت کسی ملک کے وقار کو نقصان نہیں پہنچاتا اور ساتھ ہی وہ اپنے وقار کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کرتا ہے۔“

فوجی ذرائع کے مطابق چھ جون کو حقیقی کنٹرول لائن کے چھوشول  مولڈو کے مقام پر دونوں ملکوں کی آرمی کے لفٹننٹ جنرلوں کی سطح پر بات چیت ہوگی۔ بھارتی وفد کی قیادت لیہہ سے سرگرم انڈین آرمی کی چودہویں کور کے کور کمانڈر کریں گے۔

Indien Treffen zwischen Narendra Modi und Xi Jingping

وزیر اعظم مودی اور چین صدر شی جن پنگ 2019 میں جنوبی بھارت کے شہر ملاپورم میں

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اپنی اپنی افواج کے جنرلوں کو مذاکرات کی میز پر لاکر بھارت او رچین یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ وہ اس سرحدی تنازع اور فوجی تعطل کو بات چیت کے ذریعہ حل کرنے کے خواہش مند ہیں۔ لیکن ڈوکلام کے مقابلے میں لداخ کی صورت حال قدرے مختلف ہے اور بہت کچھ اس بات پر منحصر کرے گا کہ بھارتی جنرل گراونڈ پر اور سفارت کار مذاکرات کی میز پر چین کو تعطل ختم کرنے کے لیے کس طرح آمادہ کرتے ہیں۔

دریں اثنا ایک اور اہم پیش رفت میں وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت او رچین کے درمیان جاری سرحدی تنازعے کو حل کرنے کے حوالے سے بات چیت کی ہے۔ گوکہ صدر ٹرمپ نے ایک ہفتہ قبل بھی اس تنازعہ میں ثالثی کا رول ادا کرنے کی تجویز پیش کی تھی تاہم چین نے براہ راست اور بھارت نے بالواسطہ طورپر یہ تجویز مسترد کردی تھی۔

بھارتی وزیر اعظم کے دفتر(پی ایم او) کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم مودی اور صدر ٹرمپ کے درمیان دو جون کو کئی امور پر بات چیت ہوئی، جس میں بھار ت چین سرحد پر موجودہ صورت حال کا معاملہ بھی شامل تھا۔

اس پیش رفت کو اس لحاظ سے کافی اہم قراردیا جارہا ہے کہ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بھارت نے چین کے ساتھ سرحدی تنازعہ کے حل کے لیے دوسرے ملکوں کے ساتھ بات چیت شروع کردی ہے۔

Indien Treffen zwischen Narendra Modi und Xi Jingping

2017 میں ڈوکلام کا فوجی تعطل 70 دنوں سے زیادہ وقت تک برقرار رہا تھا۔

خیال رہے کہ دو روز قبل امریکی کانگریس کی خارجہ امور سے متعلق کمیٹی نے بھارت اورچین کے درمیان جاری سرحدی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ کمیٹی کے سربراہ ایلیئٹ اینجیل نے ایک بیان میں کہا تھا ”بھارت اور چین کی درمیان لداخ میں حقیقی کنٹرول لائن پر چینی جارحیت پر مجھے شدید تشویش ہے۔ چین ایک بار پھر اس بات کا مظاہرہ کر رہا ہے کہ وہ عالمی قوانین کے تحت تنازعات کو حل کرنے کے بجائے اپنے پڑوسیوں پر دھونس جما سکتا ہے۔“دوسری طرف امریکی وزیر خارجہ مائیک پامپیو نے بھی چین پر اس سرحدی تنازعہ کے حوالے سے نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا تھا کہ چین کا رویہ درست نہیں ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ گزشتہ تقریبا ًایک ماہ سے بھارت اور چین کی فوجیں شمال مشرقی ریاست سکّم اور لداخ کے سرحدی علاقوں میں آمنے سامنے کھڑی ہیں۔ دونوں طرف سے فوجیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور ہاتھا پائی جیسے بعض واقعات میں متعدد فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔ 2017 میں بھی دونوں ملکوں کے درمیان ڈوکلام میں اسی طرح کا فوجی تعطل پیدا ہوگیا تھا جو 70 دنوں سے زیادہ وقت تک برقرار رہا تھا۔

DW.COM