ستّتر افراد کے سزا یافتہ قاتل کو فکر اپنے انسانی حقوق کی | حالات حاضرہ | DW | 12.03.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ستّتر افراد کے سزا یافتہ قاتل کو فکر اپنے انسانی حقوق کی

ناروے میں آندرس بریوک کے ہاتھوں پانچ سال قبل قتل ہونے والے ستّتر افراد کے لواحقین کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ اس سزایافتہ مجرم نے اب خود ایک مقدمہ دائر کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے انسانی حقوق پامال کیے جا رہے ہیں۔

Anders Behring Breivik Prozess Tag 2

بریوک جس جیل میں قید ہے، وہ ایک چھوٹی سے جیل ہے، جس کا واحد قیدی وہی ہے

اس مجرم نے، جس کا پورا نام آندرس بیہرنگ بریوک ہے، 2011ء میں ایک بم دھماکے اور پھر خود کار ہتھیاروں سے کی جانے والی اندھا دھند فائرنگ میں 77 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ لیکن اب اس نے خود ایک مقدمہ دائر کر دیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ناروے کی ریاست اس کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مرتکب ہو رہی ہے۔

اس نئے مقدمے کے بارے میں معلومات سامنے آنے سے پہلے تک صورت حال یہ تھی کہ ناروے میں بریوک کا پچھلے چار برسوں کے دوران عوامی سطح پر شاید ہی کبھی کوئی تفصیلی ذکر ہوا ہو۔ غیر ملکیوں اور تارکین وطن سے شدید نفرت کرنے والا ناروے کا یہ شہری اپنے ملک کا سب سے بدنام اجتماعی قاتل ہے، جس نے اپنی جنونی سوچ کی وجہ سے چند ہی گھنٹوں میں 77 افراد کی جان لے لی تھی۔

اب لیکن آندرس بریوک نے اوسلو حکومت کے خلاف یہ کہتے ہوئے مقدمہ دائر کر دیا ہے کہ اسے جیل میں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے، جو ایک ’غیر انسانی‘ رویہ ہے۔ اس مقدمے کی سماعت منگل 15 مارچ کو شروع ہو کر چار دن تک جاری رہے گی۔ سماعت کے لیے ایک عبوری عدالت ناروے کی Skien جیل میں قائم کی گئی ہے، جہاں یہ مجرم اپنی سزا کاٹ رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک فٹنس روم کو عارضی طور پر کمرہ عدالت میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

آندرس بیہرنگ بریوک خود کو ایک ’محب وطن‘ اور ’عسکریت پسند قوم پرست‘ قرار دیتا ہے، جس نے 22 جولائی 2011ء کے دن پہلے اوسلو شہر میں حکومتی دفاتر والے ایک علاقے میں ایک کار بم دھماکا کیا تھا اور پھر یوٹویا نامی ایک قریبی جزیرے پر جا کر وہاں بائیں بازو کے نوجوان سیاسی کارکنوں کے ایک سمر کیمپ پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی تھی۔ کار بم دھماکے میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے اور یوتھ کیمپ پر فائرنگ میں 69 افراد مارے گئے تھے، جن میں اکثریت نوجوانوں کی تھی۔

2012ء میں بریوک کو ایک عدالت نے دہشت گردی اور قتل عام کے جرم میں 21 برس قید کی سزا سنائی تھی اور اس انتہائی دائین بازو کے قوم پسند جنونی نے عدالتی کارروائی کے دوران ایک بار پھی اپنے کیے پر شرمندگی ظاہر نہیں کی تھی۔ اس کے برعکس اس کا کہنا تھا کہ اس نے جن افراد کو قتل کیا، وہ ایسے ’غدار‘ تھے جو ناروے میں ’تارکین وطن کی آمد کے حامی‘ تھے۔

بریوک کے بارے میں یہ بات بھی اہم ہے کہ اس نے اپنے خلاف سزائے قید کے عدالتی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا تھا اور اس کی سزائے قید میں ممکنہ طور پر تب تک عدالتی سطح پر اضافہ کیا جاتا رہے گا، جب تک کہ وہ معاشرے کے لیے خطرہ تصور کیا جاتا رہے گا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس نے لکھا ہے کہ بریوک نے میڈیا کے نام ایک خط میں الزام لگایا ہے کہ جیل حکام اس کی ’بار بار تلاشی‘ لیتے ہیں، جسے ’معمولی تشدد‘ کا نام بھی دیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اسے قید تنہائی میں رکھا گیا ہے اور دائیں بازو کے دوسرے انتہا پسندوں کے ساتھ رابطوں کی اجازت بھی نہیں دی جاتی۔ ناروے کے نظام انصاف میں اپنی نوعیت کے اس واحد قیدی کا کہنا ہے کہ جس طرح اسے جیل میں رکھا جا رہا ہے، وہ یورپی ہیومن رائٹس کنوینشن کے تحت اس کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

Anders Behring Breivik

آندرس بریوک نے مقدمہ دائر کیا ہے کہ اسے جیل میں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے، جو ایک ’غیر انسانی‘ رویہ ہے

اس مقدمے کے دائر کیے جانے کے بعد اوسلو میں دفتر استغاثہ کی طرف سے بتایا گیا کہ فیصلہ عدالت کو کرنا ہے لیکن مجرم بریوک کی شکایت اس لیے غلط ہے کہ وہ جیل میں جن حالات میں قید کاٹ رہا ہے، ان کے نتیجے میں اسے کسی بھی طرح کے جسمانی یا ذہنی مسائل کا سامنا نہیں ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس نے یہ بھی لکھا ہے کہ مجرم بریوک جس جیل میں قید ہے، وہ ایک چھوٹی سے جیل ہے، جس کا واحد قیدی وہی ہے۔ اس کے پاس تین کمرے ہیں اور ایک ٹیلی وژن کے علاوہ ویڈیو گیمز کھیلنے کے لیے ایک ’کنسول‘ بھی۔ وہ اس ’جیل‘ میں، جو ایک پرآسائش گھر کی طرح ہے، ہر جگہ آسانی سے گھوم پھر سکتا ہے اور اس کے پاس جسمانی ورزش کے لیے ایک فٹنس روم بھی ہے۔

DW.COM