ستاون پاکستانی اب ترک پولیس کی تحویل میں | حالات حاضرہ | DW | 29.11.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ستاون پاکستانی اب ترک پولیس کی تحویل میں

ترکی میں انسانی اسمگلروں کی قید سے آزاد کرائے گئے ستاون غیرقانونی پاکستانی تارکین وطن اب ترک پولیس کی تحویل میں ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر افراد کا تعلق پاکستان کے صوبہ پنجاب کے مختلف علاقوں سے بتایا گیا ہے۔

انقرہ میں پاکستانی سفارتی ذرائع نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ فی الحال ان افراد کو پولیس نے ایک فٹبال اسٹیڈیم سے ملحق کمروں میں رکھا ہے۔ پولیس کی چھان بین مکمل ہونے کے بعد ان افراد کو پاکستانی قونصلر تک رسائی دی جائے گی۔ استنبول میں پاکستانی قونصلیٹ کا عملہ ان افراد کے کوائف کی تصدیق کرے گا، جس کے بعد انہیں پاکستان واپس بھجوایا جا ئے گا۔

 اس بارے میں وضاحت کرتے ہوئے ایک پاکستانی اہلکار کا کہنا تھا کہ پاکستانی امیگریشن قانون کے مطابق کوئی بھی ایسا شخص جو اپنی پاکستانی شہریت ثابت نہ کر سکے وہ غیر قانونی طور پر ملک میں داخل نہیں ہو سکتا۔ غیر قانونی تارکین وطن کی اکثریت پاکستانی پاسپورٹ اور دیگر شناختی دستاویزات اپنے ہمراہ نہیں رکھتی، اس لیے ان کی شہریت کی تصدیق کا عمل ان کی فراہم کی گئی معلومات کے مطابق کیا جاتا ہے، جو بعض مرتبہ خاصہ وقت طلب ہوتا ہے۔

ترکی: زنجیروں میں جکڑے 57 پاکستانی تارکین وطن بازیاب

سن دو ہزار پندرہ کے دوران غیرقانونی تارکین وطن کی ملک واپسی میں یکدم اضافے کے بعد سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار نے پاکستانی شہریت کی تصدیق کے قانون پر سختی سے عملدرآمد کا حکم جاری کیا تھا۔ پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے ) نے اس کے بعد یونان سے واپس بھجوائے جانیوالے طیاروں میں سے بہت سے افراد کی شہریت کی تصدیق نہ ہونے کے سبب انہیں واپس یونان بھجوا دیا تھا۔

منگل کے روز استنبول شہر کے یورپی حصے میں واقع ایک مکان کے تہہ خانے سے بازیاب کرائے گئے ان ستاون پاکستانیوں کی حالت خاصی خراب بتائی جاتی ہے اور بعض کو طبی امداد کے لیے ہسپتالوں میں بھی داخل کرایا گیا ہے۔ ان بازیاب کرائے گئے افراد میں گجرات کا رہائشی محمد امین(فرضی نام) بھی شامل ہے۔ اس کے استنبول میں پہلے سے موجود ماموں زاد عبدالرحمان نے(فرضی نام) ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس کا کزن کسی بڑی مصیبت میں گرفتار ہو چکا ہے۔ عبدالرحمان خود بھی غیر قانونی طریقے سے ڈیڑھ سال قبل یورپ جانے کے لئے ایک ایجنٹ کو ایک لاکھ روپے ادا کر کے ایران کے راستے استنبول پہنچا تھا۔

منڈی بہاؤ الدین سے بون تک: ایک پاکستانی پناہ گزین کا سفر

تاہم یورپی یونین اور ترکی کے درمیان مہاجرین کے بارے میں کیے گئے معاہدے کے سبب اسے سمندری راستے سے یونان پہنچنے میں دشواریوں کا سامنا رہا اور پھر اس نے ترکی میں ہی محنت مزدوری شروع کر دی۔ اپنے ماموں زاد کی ترکی آمد کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ ’’میں نے اسے صاف بتا دیا تھا کہ یہاں حالات اچھے نہیں اور ابھی پار (یورپ) جانے کا کوئی طریقہ نہیں۔‘‘ تاہم عبدالرحمان کا کہنا تھا کہ اسے نہیں معلوم کے اس کا کزن کب اور کن حالات میں ترکی پہنچا۔ اس کے بقول اسے صرف اسی وقت معلوم ہو سکا جب اس کے ایک دوست کے جاننے والے نے بتایا کہ بازیات ہونیوالوں میں اس کا ماموں زاد بھی شامل ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ گزشتہ تین ماہ سے اس کا اپنے کزن سے کوئی رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا اور امین کے گھر والے کہہ رہے تھے کہ وہ مزدوری کے لئے کراچی گیا ہوا ہے۔

عبدالرحمان نے کہا کہ وہ اب امین سے ملنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کے لیے یہ بات قابل اطمینان ہے کہ وہ کم ازکم زیر علاج افراد میں نہیں۔

عبدالرحمان کا مزید کہنا تھا کہ خود بھی غیر قانونی ہونے کی وجہ سے وہ اس کا پتہ کرنے پولیس یا سفارت خانے سے بھی رابطہ نہیں کر سکتا، ’’اب یہی ہو سکتا ہے کہ اسے فون ملے تو وہ خود رابطہ کرے یا مجھے اس کا فون نمبر مل جائے تو اس سے رابطہ ہو سکے۔‘‘

DW.COM