ساہیوال واقعہ، پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ | حالات حاضرہ | DW | 23.01.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ساہیوال واقعہ، پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ

پاکستانی صوبے پنجاب کے علاقے ساہیوال میں چند روز قبل ایک مبینہ ’پولیس مقابلے‘ میں ایک خاندان کے تین افراد کو قتل کرنے کے الزامات کے تحت پانچ پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

گزشتہ ہفتے پیش آنے والے اس واقعے کے بعد الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔ اس واقعے میں ایک گاڑی سے بچوں کو باہر نکال کر باقی افراد پر سکیورٹی اہلکاروں نے براہ راست فائرنگ کی۔ اس واقعے میں چار افراد ہلاک ہو گئے تھے، جس میں ایک خاندان کے تین افراد کے علاوہ گاڑی کا ڈرائیور بھی شامل تھا۔

ساہیوال سانحے کے ذمہ داران کو سخت سزا دی جائے گی، عمران خان

’لاٹھی گولی کی سرکار ہے تو پھر عدالتوں کو تالے لگوا دیں‘

ہفتے کے روز پیش آنے والے اس واقعے میں پرچون کی دکان کا مالک محمد خلیل، اس کی اہلیہ اور ایک 12 سالہ بچی موقع پر ہی ہلاک ہو گئے تھے۔ انسداد دہشت گردی حکام کی جانب سے ابتدا میں کہا گیا تھا کہ اس گاڑی کا ڈرائیور داعش کا صوبائی سربراہ ذیشان جاوید تھا۔

اس واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر سامنے آنے اور واقعے میں بچ جانے والے تین دیگر بچوں کے بیانات کے بعد پاکستان میں مرکز اور صوبے پنجاب میں حکمران پی ٹی آئی حکومت اور پولیس پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ اس واقعے کے بعد بعض مقامات پر پولیس مخالف مظاہرے بھی ہوئے۔

بدھ کے روز صوبائی وزیرقانون راجہ بشارت نے بتایا کہ واقعے کے تناظر میں انسداد دہشت گردی کے محکمے (CTD) کے صوبائی سربراہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے، جب کہ دیگر تین پولیس اہلکاروں کے خلاف انضباطی کارروائی کی جائے گی۔

راجہ بشارت کا مزید کہنا تھا، ’’جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیم کی جانب سے ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ساہیوال پولیس مقابلے میں انسدادِ دہشت گردی حکام، خلیل اور ان کے خاندان کے قتل کے ذمہ دار ہیں۔‘‘

بتایا گیا ہے کہ پانچ پولیس اہلکار، جو اس اس گاڑی میں سوار افراد پر فائرنگ میں ملوث تھے، ان کے خلاف قتل کا مقدمہ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں چلایا جائے گا۔

ع ت، ش ح (روئٹرز، اے ایف پی)

DW.COM