ساڑھے تین سو سے زائد افراد کی سمندر میں موت: عراقی شہری گرفتار | حالات حاضرہ | DW | 19.10.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ساڑھے تین سو سے زائد افراد کی سمندر میں موت: عراقی شہری گرفتار

آسٹریلیا میں مبینہ طور پر انسانوں کی اسمگلنگ میں ملوث ایک ایسے عراقی شہری پر گرفتاری کے بعد فرد جرم عائد کر دی گئی ہے، جس کی وجہ سے پناہ کے متلاشی ساڑھے تین سو سے زائد افراد سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے تھے۔

سڈنی سے ہفتہ انیس اکتوبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق پولیس نے بتایا کہ اس ملزم کا نام میثم راضی ہے اور اس کی عمر 43 برس ہے۔ اسے جمعہ اٹھارہ اکتوبر کو رات گئے برسبین ایئر پورٹ سے اس وقت حراست میں لیا گیا، جب وہ نیوزی لینڈ سے ملک بدر کیے جانے کے بعد اس آسٹریلوی شہر کے ہوائی اڈے پر اترا تھا۔

پولیس نے بتایا کہ ملزم راضی پر الزام ہے کہ وہ انسانوں کی اسمگلنگ کرنے والے ایک گروہ کے رکن کے طور پر ایسے افراد کی آسٹریلیا آمد کا انتظام کرتا تھا، جو آسٹریلوی شہری نہیں تھے۔ اس الزام کے تحت ملزم پر اس کی گرفتاری کے فوراﹰ بعد باقاعدہ فرد جرم بھی عائد کر دی گئی۔

سمندر میں 353 انسانی ہلاکتیں

فرد جرم کے مطابق یہ عراقی باشندہ مجرموں کے ایک منظم گروہ کا ایسا رکن تھا، جس نے زیادہ تر عراقی اور افغان شہریوں پر مشتمل پناہ کے متلاشی تارکین وطن کے ایک بہت بڑے گروپ کو انڈونیشیا کی ماہی گیروں کے استعمال میں آنے والی ایک بڑی کشتی پر سوار کرایا تھا۔ یہ واقعہ تقریباﹰ اٹھارہ برس قبل 2001ء میں پیش آیا تھا۔

آسٹریلوی حکام کے مطابق ان سینکڑوں تارکین وطن کا غیر محفوظ سفر اس وقت ایک بہت بڑے انسانی المیے میں بدل گیا تھا، جب SIEV-X کہلانے والی یہ انڈونیشی کشتی آسٹریلیا کے جزیرے کرسمس آئی لینڈ کے قریب سمندر میں ڈوب گئی تھی۔ اس سانحے میں کم از کم بھی 353 انسان سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے تھے، جن میں سے 146 بچے تھے۔

دس سال تک سزائے قید ممکن

اس ملزم کو اس کا جرم ثابت ہو جانے پر دس سال تک قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ اس سانحے کے ٹھیک 18 برس بعد آج ہفتہ انیس اکتوبر کو آسٹریلیا کی وفاقی پولیس کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا، ''اس ملزم کے خلاف عدالت میں استغاثہ کا موقف یہ ہو گا کہ میثم راضی نے، جس کی عمر اس سانحے کے وقت 24 برس تھی، ڈوب جانے والی انڈونیشی کشتی پر سوار کرانے کے لیے اس کے مسافروں سے رقوم وصول کی تھیں۔‘‘

اس کے علاوہ اس ملزم پر عائد کردہ فرد جرم میں  یہ بھی کہا گہا ہے کہ اس نے پناہ کے متلاشی غیر ملکیوں کو آسٹریلیا لانے سے قبل اور ان کے سفر کی تیاریوں کے دوران انہیں انڈونیشیا پہنچانے اور وہاں ان کے لیے رہائش کا انتظام کرنے میں بھی مدد فراہم کی تھی۔ میثم راضی اس بہت بڑے انسانی سانحے میں اپنے کردار کی وجہ سے گرفتار کیا جانے والا مجموعی طور پر تیسرا ملزم ہے۔

ابو قاصی نامی مصری سرغنہ

عراقی شہری میثم راضی کی حالیہ گرفتاری سے قبل انسانوں کی اسمگلنگ میں ملوث اسی گروہ کے ایک اور ملزم خالد داؤد کو اس وقت گرفتار کر لیا گیا تھا، جب اسے 2003ء میں سویڈن سے ملک بدر کر کے آسٹریلیا بھیجا گیا تھا۔ اس کے دو سال بعد آسٹریلیا میں اسے نو سال قید کی سزا سنا دی گئی تھی۔

تب آسٹریلوی ماہرین استغاثہ نے عدالت میں یہ ثابت کر دیا تھا کہ اس وقت 36 سالہ یہی ملزم خالد داؤد دراصل ابو قاصی نامی وہ سرغنہ تھا، جو مصری باشندوں کو اسمگل کر کے مغربی ممالک میں پہنچاتا تھا۔

اس کے علاوہ ابو قاصی کو اس کے اپنے ملک مصر میں بھی دسمبر 2003ء میں اس کی غیر حاضری میں اس لیے سات سال قید کی سزا سنا دی گئی تھی کہ اس پر اپنی غفلت کی وجہ سے کئی انسانوں کی موت کا سبب بننے کا الزام ثابت ہو گیا تھا۔

آسٹریلوی پولیس کے مطابق میثم راضی کو اس کے خلاف کارروائی کے لیے اسی مہینے عدالت میں پیش کر دیا جائے گا۔

م م / ش ح (اے ایف پی)

DW.COM