ساٹھ سال سے زائد عمر میں’ آئی وی ایف ٹریٹمنٹ ‘ نقصان دہ ہے | صحت | DW | 12.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

ساٹھ سال سے زائد عمر میں’ آئی وی ایف ٹریٹمنٹ ‘ نقصان دہ ہے

بھارتی ڈاکٹر ایک ستر سالہ بھارتی خاتون کی ’آئی وی ایف‘ ٹریٹمنٹ کیے جانے پر تنقید کر رہے ہیں۔ اس علاج کے ذریعے یہ معمر بھارتی خاتون پہلی بار ماں بن پائی تھی۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی پنجاب کے شہر امرتسر کی رہائشی ستر سالہ دالجندر کور نے گزشتہ ماہ ایک صحت مند بچے کو جنم دیا تھا، کور کے خاوند کی عمر 79 سال ہے۔ بچے کی پیدائش کے لیے دالجندر کور کا دو سال تک ہریانہ کے ایک ہسپتال میں ’آئی وی ایف‘ طریقہ کار سے علاج کیا گیا تھا۔

دالجندر کور کے ہاں یہ اولاد اس کی شادی کے 46 برس بعد ہوئی ہے اور دونوں میاں بیوی اپنے ہاں اولاد ہونے سے انتہائی خوش ہیں۔ اس حوالے سے دالجندر نے اے ایف پی کو بتایا، ’’اپنی اولاد کو گود میں اٹھانے پر میں بے حد خوش ہوں مجھے امید نہیں تھی کہ میں بھی کبھی ماں بن سکوں گی۔‘‘ دالجندر اپنی عمر 70 سال بتاتی ہیں تاہم ہسپتال کی جانب سے ان کی عمر 72 سال بتائی گئی ہے۔

دوسری جانب افزائش نسل کے امور کے ماہر سنیل جندال نے ایک عمر رسیدہ جوڑے کے ہاں اولاد ہونے اور بڑھاپے میں ماں بننے کے عمل کے حوالے سے کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’اس معاملے کے کئی اخلاقی پہلو ہیں، میری رائے میں 60 سال سے زائد عمر کی خواتین میں یہ عمل نہیں کرنا چاہیے۔‘‘ سنیل کے مطابق یہی بہت مشکل عمل ہے کہ ایک 70 سالہ عورت کو اپنی کوکھ میں 9 ماہ تک ایک انسانی وجود کو سنبھالنا ہوتا ہے اور یہ بات بھی ہے کہ عمر رسیدہ والدین ایک بچے کو کیسے سنبھال سکتے ہیں؟

دالجندر کور کا علاج کرنے والے ہسپتال کی جانب سے کہا گیا ہے کہ آئی وی ایف کی دو ناکام کوششوں کے بعد تیسری مرتبہ ہمیں کامیابی حاصل ہوئی اور دالجندر کور ماں بننے میں کامیاب ہوئیں۔

ممبئی کے قریب میرٹھ میں ایک گائنیکولوجسٹ انشو جندال کا کہنا ہے کہ وہ ’ماں اور اولاد دونوں کی زندگیوں کو لاحق خطرات کے باعث 60 سال سے زائد عمر کی خواتین کوآئی وی ایف علاج کرانے سے گریز کرنے‘ کی رائے دیتی ہیں۔ دوسری جانب دالجندر کے ہسپتال کے ڈاکڑوں کا کہنا ہے کہ میڈیکل ٹیسٹ سے ثابت ہوا تھا کہ دالجندر ماں بن سکتی ہیں۔ بھارت میں ایسا واقعہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا سن 2008 میں ایک 72 سالہ عورت نے جڑواں بچوں کو جنم دیا تھا۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات