سانحہ مری، ذمہ داری کا تعین وزراء کی حس مزاح کر رہی ہے | دستک | DW | 10.01.2022

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

بلاگ

سانحہ مری، ذمہ داری کا تعین وزراء کی حس مزاح کر رہی ہے

ہم نے اپنی حس ظرافت کا مظاہرہ کس مقام اور موقع پر کرنا ہے، اس کے لیے غیر معمولی نہیں بلکہ واجبی سی ذہانت درکار ہے لیکن کیا یہ واجبی ذہانت بھی ہمارے حکمرانوں کو میسر نہیں؟

اس واجبی ذہانت کے نہ ہونے سے صرف سانحہ مری کے ذمہ داروں کا ہی تعین نہیں ہو رہا بلکہ بحثیت شہری میری بدقسمتی کا انکشاف بھی ہو رہا ہے اور ایسا پہلی دفعہ نہیں ہوا۔ ہم نے اے پی ایس جیسے بڑے سانحے پر سیاستدانوں کو پریس کانفرنس کے دوران اپنی حس مزاح کا مظاہرہ کرتے دیکھا۔ یہ وہ سانحہ تھا، جس نے پاکستان نہیں بلکہ پوری دنیا کے عوام کو نفسیاتی حوالے سے ہلا کر رکھ دیا تھا لیکن داد دیجیے اپنے حکمرانوں کو، جو ایسے کڑے وقت میں بھی لائیو کوریج کے دوران ہنس رہے تھے۔

 ہم نے زینب کیس کے حوالے سے قصور میں کی گئی پریس کانفرنس میں بتیسیاں نکلتی دیکھیں۔ آج سانحہ مری کے حوالے سے فواد چودھری نے اپنی جگت فہمی کی اپنے جیسوں سے اُس وقت داد لی جب کہا کہ ''لوگوں کو یہی کہوں گا کہ برف دیکھنے کا زیادہ شوق ہے تو سنو سپرے منگوا کر سروں میں ڈال لیں۔‘‘ صاحب سروں میں تو ہم مٹی ڈالیں کہ آپ جیسے ہمارے وزیر ہیں۔ ہم دلی کا ایسا فقدان کیا کسی اور ملک کے حکمران طبقے میں بھی نظر آتا ہے یا یہ ہیرے صرف ہمارا ہی مقدر ہیں؟ سانحات پر ان کی یہ پھلجڑیاں کس ذہنیت کی عکاس ہیں اور اس کی نفسیاتی وجوہات کیا ہیں، اس پر بات کرتے ہیں لیکن پہلے ذرا ذمہ داروں کے تعین کے حوالے سے بحث کو سمیٹ لیں۔

سب سے پہلے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کسی بھی معاملے کو دیکھنے کے لیے وسائل کس کے پاس ہیں؟ موسم کی صورتحال سے لے کر  کسی شہر میں داخل اور خارج ہوتی ٹریفک تک کی تمام اور مصدقہ معلومات کس کے پاس ہوتی ہیں؟ کس سیاحتی مقام پر کتنے ہوٹلز ہیں اور ان تمام ہوٹلوں میں کتنے کمرے ہیں یہ علم کس کو ہوتا ہے؟ 

وقار ملک ڈی ڈبلیو اردو بلاگ / مصنف

مصنف: وقار ملک

کسی سیاحتی مقام پر بجلی اور گیس کی کتنی طلب ہے اور کس قدر رسد پہنچ رہی ہے یہ شماریات کس کے پاس ہیں؟ سڑکوں پر کس قدر ٹریفک کی گنجائش ہے اور کسی بھی لمحے کہاں اور کتنی ٹریفک پھنسی ہوئی ہے یہ کس کو معلوم ہوتا ہے؟ کس جگہ برفانی تودہ گرا ہے یا کہاں اس کے گرنے کے امکانات ہیں اس کی معلومات کس کے پاس ہوتی ہیں؟

یہ تمام معلومات ایک غیر مرئی شے حکومت، جو مرئی اشیا یعنی افراد پر مشتمل ہوتی ہے،کے پاس ہوتی ہیں۔ وہ یہ تمام معلومات حاصل کرنے کے لیےایک نظام بناتی ہے، جو ٹیکنالوجی پر مشتمل ہوتا ہے اور یہ ٹیکنالوجی خریدنے اور نظام بنانے کے لیے عوام سے ٹیکس لیا جاتا ہے۔

اب آئیے عوام کی جانب! ہمارا ملک اظہار آزادی رائے اور  عام آدمی کو میسر تفریح کے مواقع وغیرہ کے حوالے سے پوری دنیا کے ممالک پر مبنی فہرست میں کس مقام پر کھڑا ہے؟ یہ بات ہم بخوبی جانتے ہیں۔ ہمیں یہ بھی علم ہے کہ اس ملک میں دو کروڑ سے زائد بچے سرے سے سکول ہی نہیں جاتے اور شرح خواندگی کے کمزور ترین پیمانے پر نصف آبادی بھی پورا نہیں اترتی۔

 آبادی میں اضافے کی شرح کے اعتبار سے ہم صف اول میں کھڑے ہیں۔ ان تمام تلخ حقائق کو ذہن میں رکھتے ہوئے عوام کو دوش دینا اپنے سر سے زبردستی ذمہ داری کا بوجھ اٹھا پھینکنے کے مترادف ہے۔ اس گھٹن زدہ معاشرے میں، جہاں ایک عام گھر کے بچے خطرے کے پیش نظر گھر کے پورچ سے باہر نکلنے سے قاصر ہوں، وہاں اگر کوئی خاندان سیر کے لیے نکل پڑتا ہے تو یہ کوئی قیامت نہیں ہے۔

یہ بھی جان لیجیے کہ کوئی فرد اگر یہ جانتا ہو کہ سیاحتی مقام پر اس قدر رش ہے یا مجھے بچوں کے ساتھ شدید خواری اٹھانا پڑے گی تو وہ فرد کسی قیمت پر اس مقام کی جانب نہیں جائے گا۔ افراد کی اس لاعلمی سے ہم خوب واقف ہیں۔ لاعلمی کے محرکات اور درست فیصلہ نہ کر سکنے کی صلاحیت کے نہ ہونے کے جو اسباب ہیں، وہ ستر برسوں کی تاریخ ہے اور یہ سب کچھ کسی ایک دن میں تو ٹھیک نہیں ہو سکتا۔ یہ لاعلمی ہمیشہ کیوس یا افراتفری کو جنم دیتی ہے۔ اس افراتفری کو نظم میں لانے کے لیے قانون اور انتظامیہ جیسی اصطلاحات ہمارے علم میں ہیں۔

سانحہ مری کی پیش گوئی وہی کر سکتا ہے، جس کے پاس متذکرہ بالا سوالات کے جوابات ہیں۔ اور یہ جوابات ہم جانتے ہیں حکومت کے پاس ہوتے ہیں۔ وہ ان معلومات سے افراتفری کا پیشگی علم حاصل کر سکتی ہے اور وہی معاملات کو نظم میں رکھنے کے اقدامات کر سکتی ہے۔ اس میں عام آدمی کو دوش نہیں دیا جا سکتا۔ کوئی خاندان اگر بچوں کے اصرار پر برف باری دیکھنے چلا گیا ہے تو کوئی قیامت نہیں برپا ہو گئی۔

قیامت تب برپا ہوتی ہے، جب آپ عوام کے ٹیکسز سے بنائے گئے نظام کی مدد سے معلومات حاصل کرنے کے قابل ہوتے ہیں لیکن بروقت فیصلہ کرنے کی قوت سے محروم ہوتے ہیں۔ ناران میں ہر سال یہ تماشا ہوتا ہے۔ مری میں ہر سال یہ بد انتظامی دیکھنے کو ملتی ہے۔ ہم ان تمام سیاحتی مقامات کو، جن کو بین الاقوامی پذیرائی حاصل ہوئی، برباد کر چکے ہیں۔ لوگ فیری میڈوز جائیں گے اور ہزاروں کی تعداد میں جائیں گے لیکن اس افراتفری کو کنٹرول وہی کر سکتا ہے، جس کے پاس طاقت ہے۔ اسی طاقت کو استعمال کر کے وہ افراتفری کے عناصر میں آگہی مہم  بھی چلا سکتا ہے اور مناسب پابندیاں بھی لگا سکتا ہے۔ نصاب کو سائنسی بنیادوں پر مرتب کر کے آنے والی نسلوں کو سدھارنے کی بنیادیں رکھ سکتا ہے۔

رہا وزراء کی حس مزاح کا معاملہ تو یہ سب ہم دلی کا فقدان ہے۔ یہ فقدان ذہنی حالت پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ جذباتی ذہانت کا نہ ہونا اس بات کی بھی قوی دلیل ثابت ہوتا ہے کہ یہ افراد کسی طور عوام کے مسائل کو سمجھنے کی تکنیکی اعتبار سے صلاحیت ہی نہیں رکھتے۔ نظام اس قدر فرسودہ ہو چکا ہے کہ اس کے دروازے ایسے ہی افراد کے لیے کُھلتے ہیں۔

 ایسا لگتا ہے کہ اس نظام کے دروازوں پر کوئی ایسا چیک ہے کہ واجبی ذہانت سے اوپر کا کوئی فرد اندر نہ آ جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ان تمام افراد میں کچھ مشترک علامات دہائیوں سے دیکھ رہے ہیں۔ تنگ نظری، مسائل کو ان کے حقیقی تناظر میں سمجھنے کی صلاحیت کا نہ ہونا، جھوٹ، مالی بدعنوانی، علم کے نتیجے میں پیدا ہونے والے جدید دنیاوی تقاضوں کو سرے سے نہ سمجھنا، ضمیر فروشی، ڈھٹائی، ہم دلی کا فقدان، ذاتی زندگی اور سیاسی دعوؤں کے مابین شدید منافقت اور پھر اسی منافقت کے ساتھ چہرے کو پر اعتماد رکھنے کی صلاحیت۔

اگر آپ ان کی ان تمام علامات سے واقف ہیں تو پھر اس ملک میں، جو بھی ہوتا ہے، وہ آپ کے لیے غیر متوقع نہیں ہو سکتا۔ سب کچھ سائنسی اعتبار سے علت و معلول کے عین مطابق ہو رہا ہے۔ ہاں! اس دن دانتوں میں انگلیاں دبایے گا، جس دن متذکرہ بالا علامات کے برعکس کوئی علامت آپ کو دیکھنے کو مل جائے۔  

 

نوٹ: ڈی ڈبلیو اُردو کے کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔