سابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم خالدہ ضیا کی گرفتاری کے وارنٹ جاری | حالات حاضرہ | DW | 02.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم خالدہ ضیا کی گرفتاری کے وارنٹ جاری

بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے ملک کی سابق وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف خالدہ ضیا کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیے ہیں۔ ان پر دو سال قبل ہوئے ایک حکومت مخالف مظاہرے کے دوران آتش زنی کے واقعے میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔

ميجسٹریٹ زینب بیگم نے یہ فیصلہ خالدہ ضیا سمیت 48 حزب مخالف کارکنان کے خلاف پولیس حکام کی جانب سے دائر کردہ کیس کی سماعت کے بعد دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ خالدہ ضیا اور ان کے 48 ساتھیوں کو ایک بس پر حملے کا ذمہ دار پایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں آٹھ افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔

قیاس آرائی کی جا رہی ہے کہ خالدہ ضیا کو گرفتار نہیں کیا جائے گا کیونکہ وہ اکثر و بیشتر سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے گرفتاری سے بچنے کے لیے قانونی تحفظ کا سہارا  لیتی ہیں۔

خالدہ ضیا کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی جانب سے اس فیصلے کے بعد فوری طور پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ 

خالدہ ضیا کو پُر تشدد واقعات میں ملوث ہونے کے کئی مقدمات کا سامنا ہے جن کے بارے میں ان کی پارٹی کا موقف ہے کہ ان کے پیچھے سیاسی مقاصد کارفرما ہیں۔

Berlin Merkel mit Bangladeschs Ministerpräsidentin Sheikh Hasina (Getty Images/K. Koall)

خالدہ ضیا کے بیٹے پر وزیر اعظم حسینہ واجد کی ریلیوں پر حملے کا الزام ہے

’ملک دشمن کاغذات‘: بنگلہ دیشی اپوزیشن لیڈر کے دفتر پر چھاپہ

خالدہ ضیاء کے خلاف قانونی کارروائی کا راستہ کھل گیا

دوسری جانب بنگلہ دیشی استغاثہ کی جانب سے خالدہ ضیا کے بیٹے کو 2004 میں ہونے والے گرینیڈ بم حملوں میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ خالدہ ضیا کے بیٹے پراس وقت کی قائد حزب اختلاف شیخ حسینہ واجد کی ریلیوں پر حملے کرنے کا الزام ہے۔ ان حملوں میں 20 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

DW.COM

اشتہار