سابق بنگلہ دیشی فوجی آمر حسین محمد ارشاد انتقال کر گئے | حالات حاضرہ | DW | 14.07.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

سابق بنگلہ دیشی فوجی آمر حسین محمد ارشاد انتقال کر گئے

بنگلہ دیش کے سابق فوجی ڈکٹیٹر حسین محمد ارشاد نوے برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ حسین محمد ارشاد کا دور صدارت اسلامی اقدار کو فروغ دینے کی وجہ سے متنازعہ خیال کیا جاتا ہے۔

بنگلہ دیش کی موجودہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے لیڈر اور سابق ڈکٹیٹر حسین محمد ارشاد کی رحلت اتوار چودہ جولائی کو ہوئی۔ ان کے ایک مشیر کا کہنا ہے کہ حسین محمد ارشاد گزشتہ تین ہفتوں سے شدید علیل تھے۔ انہیں زندگی بچانے والے آلات پر انتہائی نگہداشت میں دارالحکومت ڈھاکا کے فوجی ہسپتال میں رکھا گیا تھا۔

سابق فوجی حکمران کو جگر اور گردوں کے عوارض کی پیچیدگیوں کا سامنا تھا۔ ان عوارض کی شدت کی وجہ سے انہیں ستائیس جون کو ڈھاکا کے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

حسین محمد ارشاد نے ملکی فوج کے سربراہ کے طور پر چوبیس اپریل سن 1982 کو اُس وقت کے صدر احسن الدین چوہدری کی حکومت کا تختہ الٹ کر حکومت پر قبضہ کر لیا تھا۔ انہوں نے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد ملکی دستور کو بھی معطل کر دیا تھا۔ وہ سن 1983 تک اپنے ملک کے چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بھی رہے تھے۔

Unruhen in Bangladesch 05.01.2015 (picture-alliance/epa/A. Abdullah)

حسین محمد ارشاد کو سن 1990 میں شدید عوامی تحریک کا سامنا رہا تھا

حسین محمد ارشاد کا دور صدارت اسلامی اقدار کو فروغ دینے سے منسلک خیال کیا جاتا ہے۔ بعض سیاسی تجزیہ کار ان کے دور صدارت کا موزانہ پاکستانی فوجی ڈکٹیٹر ضیا الحق سے بھی کرتے ہیں۔ ارشاد کے دور میں ریاست کا مذہب اسلام قرار دیا گیا تھا۔ اس سے قبل بنگلہ دیش ایک سیکولر مسلمان ملک تھا۔ انہوں نے اپنے اقتدار کے دوران ایک صوفی پیر کی قربت میں بھی خاصا وقت گزارا تھا۔

حسین محمد ارشاد سن 1990 تک برسراقتدار رہے تھے۔ اس دوران سن 1986 میں انہوں نے متنازعہ صدارتی انتخابات میں کامیابی بھی حاصل کی تھی۔ انہیں شدید عوامی تحریک کا سامنا رہا تھا اور اس کے باعث وہ حکومت سے علیحدگی پر راضی ہوئے تھے۔ اس عوامی تحریک کی قیادت شیخ حسینہ اور خالدہ ضیا کر رہی تھیں۔

ارشاد کے اقتدار سے علیحدہ ہونے کے بعد بنگلہ دیش کی سیاست دو خواتین کے گرد گھومتی رہی۔ ان میں ایک موجودہ وزیراعظم شیخ حسینہ اور دوسری مقید رہنما خالدہ ضیا ہیں۔ خالدہ ضیا مقتول صدر ضیا الرحمان کی بیوہ ہیں۔ ضیا الرحمان تیس مئی سن 1981 کو فوجی افسروں کی بغاوت کے دوران چٹاگانگ میں میں قتل کر دیے گئے تھے۔

ع ح، ا ا، نیوز ایجنسیاں

DW.COM