سابقہ مشرقی جرمن باشندے مہاجرین سے متعلق برداشت دکھائیں، میرکل | حالات حاضرہ | DW | 29.09.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

سابقہ مشرقی جرمن باشندے مہاجرین سے متعلق برداشت دکھائیں، میرکل

چانسلر انگیلا میرکل نے جرمنی کے اتحاد کی سال گرہ سے قبل اپنے ایک اخباری بیان میں سابقہ مشرقی جرمنی کے باشندوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مہاجرین کے معاملے میں کھلے دل کا مظاہرہ کریں۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے اخبار آؤگس برگر الگمائنے میں ہفتے کے روز شائع ہونے والے اپنے ایک بیان میں کہا، ’’گو کہ سابقہ مشرقی اور مغربی جرمنی کا اتحاد مجموعی طور پر ایک کامیابی تھی، تاہم اب بھی سابقہ کمیونسٹ حصے میں بسنے والی متعدد برادریاں یہ سمجھتی ہیں کہ ان کے ساتھ غیرمنصفانہ رویہ روا رکھا جا رہا ہے۔‘‘

جرمنی، افغان تارک وطن نے چاقو سے تین افراد کو زخمی کر دیا

جرمن چانسلر میرکل نے برطانیہ کی بریگزٹ تجاویز رد کر دیں

میرکل نے تین اکتوبر 1990 کو مشرقی اور مغربی جرمنی کے دوبارہ اتحاد کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا، ’’جو کچھ نوے کی دہائی کے آغاز میں ہوا، اب ایک مرتبہ پھر لوگ اسی کا سامنا کر رہے ہیں۔‘‘

میرکل نے کہا کہ تب بہت سے افراد کی ملازمتیں ختم ہو گئی تھیں۔ صحت کے نظام سے پینشن کے نظام تک سب کچھ تبدیل ہو گیا تھا۔ ’’مشرقی اور مغربی جرمنی کے مالیاتی اتحاد کے روز تک مشرق میں 13 فیصد لوگ تھے، جو زراعت کے شعبے سے وابستہ تھے، مگر اگلے ہی روز یہ تعداد فقط ایک اعشاریہ پانچ فیصد تھی۔‘‘

میرکل نے زور دے کر کہا کہ نفرت اور تشدد کسی بھی صورت قابل برداشت نہیں۔

جرمنی میں سن 2017ء میں عام انتخابات کے بعد سے ایک خاص قسم کی پریشانی دیکھی جا سکتی ہے، جس کی وجہ سے میرکل کی سیاسی طاقت میں کمی ہوئی ہے اور ملک میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت الٹرنیٹیو فار جرمنی تیسری سب سے بڑی سیاسی قوت کے طور پر ابھری ہے۔ چانسلر میرکل نے کہا کہ مہاجرین کا بحران ملک میں تقسیم کی راہ پیدا کرنے کا موجب بنا ہے۔

حالیہ کچھ عرصے میں مشرقی جرمن شہر کیمنِٹس میں ایک چاقو حملے میں ایک جرمن شہری کی ہلاکت کا الزام سیاسی پناہ کے متلاشی افراد پر لگائے جانے کے بعد پرتشدد مظاہرے بھی دیکھے گئے تھے، جس سے جرمن عوام کے درمیان مہاجرین کے موضوع پر موجود تقسیم بھی واضح ہوتی ہے۔

میرکل نے کہا کہ یہ ایک بنیادی وجہ ہے کہ وہ تمام اقدامات کیے جائیں، جن کے ذریعے مہاجرین مخالف جماعت اے ایف ڈی کو ’چھوٹی جماعت‘ میں تبدیل کیا جا سکے۔ میرکل نے کہا کہ اس کے لیے جرمن عوام کو لاحق تشویش اور مسائل کا حل تلاش کرنا ہو گا۔

نتالی آلیکس میولر، ع ت، م م (روئٹرز، اے ایف پی، ڈی پی اے)

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات