زیکا وائرس کی وجہ سے چھوٹے سر کے بچے کی پیدائش، یورپ میں پہلا کیس | صحت | DW | 25.07.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

زیکا وائرس کی وجہ سے چھوٹے سر کے بچے کی پیدائش، یورپ میں پہلا کیس

اسپین میں زیکا وائرس سے متاثرہ ایک خاتون نے کم حجم کے سر کے حامل ایک بچے کو جنم دیا ہے۔ یورپ میں اس نوعیت کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

اس خاتون کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے، تاہم بتایا گیا ہے کہ اس خاتون نے بیرون ملک سفر کیا تھا۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق یہ خاتون لاطینی امریکا میں اس وائرس سے متاثر ہوئیں۔ پیدا ہونے والے بچے کی جنس بھی نہیں بتائی گئی ہے۔ ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ خاتون کی صحت ٹھیک ہے، تاہم یہ بچے پیدائشی طور پر سر کے چھوٹے حجم کا شکار ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ زیکا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک برازیل ہے، جب کہ یہ وائرس دیگر ممالک میں بھی پہنچ رہا ہے۔

زیکا وائرس کے خطرات ایشیا کو بھی

لاطینی امریکا میں وبائی شکل اختیار کرجانے والے اس پھیلاؤ کے خطرات ایشیا میں بھی ہیں۔ ایشیا کے متعدد ممالک میں خراب طبی سہولیات اور غربت کی وجہ سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر اس وائرس نے ایشیا کا رخ کیا، تو انتہائی تباہی کا باعث ہو گا۔

زیکا وائرس سے متاثر ہونے والی حاملہ خواتین کے ہاں چھوٹے سر والے بچے کی پیدائش کا امکان ہوتا ہے

زیکا وائرس سے متاثر ہونے والی حاملہ خواتین کے ہاں چھوٹے سر والے بچے کی پیدائش کا امکان ہوتا ہے

اگرچہ ابھی تک ایشیا میں زیکا کے مریض کی تشخیص نہیں ہوئی ہے لیکن اس براعظم کے ممالک نے ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کر لی ہیں۔ مخصوص قسم کے مچھر کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہونے والا زیکا وائرس زکام کا باعث بنتا ہے، تاہم اس وائرس کے شکار نوزائیدہ بچوں میں یہ وائرس سر کے حجم میں غیرمعمولی کمی کا باعث دیکھا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے صحت کے مطابق اس وائرس سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی برادری کی مشترکہ کوششیں نہایت ضروری ہیں۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک برازیل رواں برس گرمائی اولمپکس کی میزبانی کرنے جا رہا ہے اور خطرات ہیں کہ دنیا بھر سے ان مقابلوں کو دیکھنے والے لاکھوں افراد اس وائرس کے دنیا کے دیگر حصوں تک پھیلاؤ کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔

اس وائرس سے تحفظ کی فی الحال کوئی دوا یا علاج موجود نہیں ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق چونکہ یہ وائرس حاملہ خواتین کو متاثر کر سکتا ہے، اس لیے جنوبی کوریا کی حکومت نے ایسی خواتین کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے، جو وسطی یا جنوبی امریکا سے واپس لوٹ رہی ہیں۔ وہاں ایسی حاملہ خواتین کے باقاعدہ طبی معائنے بھی کیے جا رہے ہیں، جو حالیہ دنوں میں وطن واپس لوٹی ہیں یا لوٹنے والی ہیں۔