زچگی کے باعث شہریت: حاملہ خواتین کے لیے امریکی ویزا مشکل تر | معاشرہ | DW | 23.01.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

زچگی کے باعث شہریت: حاملہ خواتین کے لیے امریکی ویزا مشکل تر

ٹرمپ انتظامیہ نے امریکا میں پیدائش کے باعث ملکی شہریت کے حق سے متعلق قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے مزید سخت اقدامات کا اعلان کر دیا ہے۔ حاملہ غیر ملکی خواتین کے لیے امریکی ویزے کا حصول اب اور بھی مشکل ہو گیا ہے۔

واشنگٹن سے جمعرات تیئیس جنوری کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق دنیا بھر سے ہر سال لاکھوں کی تعداد میں حاملہ خواتین یہ کوشش کرتی ہیں کہ وہ زچگی سے قبل سیاحتی ویزے لے کر امریکا چلی جائیں اور ان کی بچوں کی پیدائش امریکا میں ہو۔

اس خواہش کی وجہ یہ امریکی قانون ہے کہ اس ملک میں پیدا ہونے والے ہر بچے کو خود بخود امریکی شہریت کے حصول کا حق حاصل ہو جاتا ہے۔ امریکی حکام ملکی قوانین کے اس دانستہ غلط استعمال کو 'برتھ ٹورازم‘ کا نام دیتے ہیں۔

ویزا افسران کے اختیارات

اس سلسلے میں ٹرمپ انتطامیہ نے اب غیر ملکی خواتین کے لیے امریکی ویزے کے حصول کی شرائط اس لیے مزید سخت کر دی ہیں تاکہ امریکا میں پیدائش کی وجہ سے شہری حقوق کا احاطہ کرنے والے قانون کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔

امریکا کے فیڈرل رجسٹر میں شامل کردہ نئی قانونی ترامیم کے مطابق کسی بھی ملک میں امریکی سفارت خانے یا قونصل خانے کا کوئی بھی ویزا افسر اس وقت کسی بھی ایسی حاملہ خاتون کو ویزا دینے سے انکار کر سکے گا، جب یہ بات طے ہو جائے کہ کوئی بھی درخواست دہندہ حاملہ خاتون صرف اس لیے امریکا جانا چاہتی ہے کہ وہاں زچگی کے بعد اپنے نومولود بچے یا بچوں کے لیے امریکی شہریت کے حصول کو یقینی بنا سکے۔

قانونی امکان کا غلط استعمال

امریکا میں مروجہ قوانین کے مطابق یہ عمل بالکل جائز ہے کہ کوئی بھی غیر ملکی خاتون امریکا میں قانونی قیام کے دوران اگر کسی بچے یا ایک سے زائد بچوں کو جنم دے تو اس کی اولاد کو امریکی سرزمین پر پیدائش کی وجہ سے مقامی شہریت کا حق حاصل ہو جائے گا۔

لیکن دنیا کی سب سے بڑی معیشت امریکا میں حکام اس رجحان کے خلاف کافی سرگرم ہیں۔ مختلف امریکی ریاستوں میں حکام ایسی کارروائیاں کرتے رہتے ہیں، جن کے تحت ایسے افراد یا اداروں کے نمائندوں کو گرفتار کر لیا جاتا ہے، جو محض 'برتھ ٹورازم‘ کو فروغ دیتے ہوئے حاملہ غیر ملکی خواتین کو امریکا لانے کی کوششیں کرتے اور یوں اپنے لیے مالی منافع یقینی بناتے ہیں۔ ایسے ملزمان کو اپنے خلاف زیادہ تر ویزا فراڈ یا ٹیکس چوری کے قانونی الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

نئی ویزا شرائط چوبیس جنوری سے مؤثر

'زچگی کے ذریعے امریکی شہریت‘ کے اس رجحان کے خلاف حاملہ غیر ملکی خواتین کے لیے سیاحتی ویزے کے حوالے سے یہ نئی شرائط کل جمعہ چوبیس جنوری سے عملی طور پر امریکا کے فیڈرل رجسٹر کا حصہ بن جائیں گی۔

نیوز ایجنسی اے پی نے لکھا ہے کہ 'برتھ ٹورازم‘ کے لیے امریکا کا سفر اور اس کے لیے جملہ سہولیات کی فراہمی ایک بہت ہی منافع بخش کاروبار ہے۔ یہ کام کرنے والے ادارے اکثر 80 ہزار امریکی ڈالر تک کے عوض غیر ملکیوں کو اپنی خدمات مہیا کرتے ہیں۔ اس رقم کے بدلے کسی بھی حاملہ خاتون کے لیے ویزے کے ابتدائی انتظامات، طبی دیکھ بھال کی ضمانت حتیٰ کہ رہائش کے لیے ہوٹل تک کا بندوبست بھی کیا جاتا ہے۔

اس بارے میں امریکا میں سرکاری طور پر کوئی حتمی اعداد و شمار موجود نہیں کہ ہر سال بیرونی دنیا سے کتنی خواتین صرف زچگی اور اپنے بچوں کے لیے امریکی شہریت کے حصول کی خاطر وہاں جاتی ہیں۔ تاہم امریکا میں امیگریشن کے شعبے میں زیادہ سخت قوانین کے حامی سینٹر فار امیگریشن اسٹڈیز کے مطابق 2012ء میں ایسی خواتین کی تعداد 36 ہزار رہی تھی، جو غیر ملکی تھیں اور امریکا میں اپنے بچوں کو جنم دینے کے بعد واپس اپنے آبائی ممالک چلی گئی تھیں۔

م م / ا ا (اے پی)

DW.COM