زندگی کے دن چار ہیں تو کیا منصوبہ بندی ہی نہ کی جائے؟ | دستک | DW | 12.04.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

دستک

زندگی کے دن چار ہیں تو کیا منصوبہ بندی ہی نہ کی جائے؟

پاکستان ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے کی جاری کردہ 2018 کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اڑتالیس فیصد خواتین جبکہ بیس فیصد مردوں کی اٹھارہ سال سے پہلے ہی شادی کر دی جاتی ہے۔

ہمارے معاشی اشاریے پست ترین سطح پر ہی کیوں نہ ہوں لیکن آبادی کی شرح بلند ترین سطحوں پر ہوتی ہے۔ پاکستان ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے کی جاری کردہ 2018 کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اڑتالیس فیصد خواتین جبکہ بیس فیصد مردوں کی اٹھارہ سال سے پہلے ہی شادی کر دی جاتی ہے۔

نوجوان شادی شدہ خواتین میں حمل ٹھہرنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں اور دوسری طرف کم شعور اور خاندانی منصوبی بندی جیسے موضوع پر کھل کر بات نہ کرنے کی وجہ سے انہیں مانع حمل کی سہولیات بھی میسر نہیں ہوتیں یا انہیں اس کے بارے میں مکمل علم نہیں ہوتا کہ یہ کس طرح استعمال میں لائی جا سکتی ہیں۔

پدر شاہی نظام والے ہمارتے معاشرے میں مردوں کو اولاد نرینہ ہی چاہیے ہوتی ہے۔ ساتھ ہی انہیں اولاد کی صحت کا خیال بھی ہوتا ہے جبکہ یہ خواہش بھی شدید ہوتی ہے کہ عورت پیداواری لحاظ سے بہتر حالت میں ہو۔  تاہم اس تمام معاملے میں انہیں ماں کی صحت کا خیال نہیں آتا، کیونکہ ان کے خیال میں یہ ایک قدرتی عمل ہے اور دنیا بھر کی سبھی خواتین ہی بچے پیدا کرتی ہیں اور یہ کوئی انوکھی بات نہیں۔ لیکن اگر بنیادی طبی تقاضے ملحوظ نا رکھے جائیں تو سب سے زیادہ نقصان ماں کو ہی ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:  کورونا اور اسقاط حمل: بلا خواہش حاملہ خواتین کے مصائب

پاکستان میں اس وقت شادی شدہ جوڑوں میں سے صرف ایک تہائی خاندان خاندانی منصوبہ بندی کے لیے جدید یا روایتی طریقہ کار استعمال کرتے ہیں، جس میں خواتین کی نس بندی کو سب سے زیادہ ترجیح دی جاتی ہے۔
خواتین کی نس بندی دنیا بھر میں خاندانی منصوبہ بندی کے لیے استعمال ہونے والا  سب سے عام طریقہ ہے۔ یورپ اور امریکا میں اب بھی گولیوں اور دوسری اشیاء کا استعمال زیادہ عام ہے لیکن دوسری طرف جنوبی ایشیا اور لاطینی امریکہ سمیت بیشتر ممالک میں خواتین کی نس بندی ہی ایک ترجیحی طریقہ ہے۔ نس بندی کو ترجیح دینے کے لیے خواتین کے پاس متعدد وجوہات ہیں۔

اگر بھارت کی بات کی جائے تو وہاں ریاستی پالیسی کے تحت خواتین کی نس بندی کے ذریعے خاندانی منصوبہ بندی کو فروغ دیا گیا۔ 1980 کی دہائی میں اس پالیسی کو تبدیل کیا گیا مگر اس کے باوجود اس طریقہ کار کی ترجیحی حیثیت برقرار ہے۔ اس کے برعکس لاطینی امریکا میں خواتین کی نس بندی کی ترجیحات کی سب سے بڑی وجہ مضبوط ثقافتی اصولوں کی بنا پر جلد شادی کا ہونا ہے۔ اس کے بعد ظاہر ہے جلد بچے پیدا ہو جاتے ہیں اور خواتین اس کے بعد خاندانوں کو محدود کرنے کے لیے نس بندی کی طرف جاتی ہیں۔

اب اگر پاکستان کی بات کی جائے تو دیگر معاملات کی طرح خاندانی منصوبہ بندی کا معاملہ بھی کئی پیچیدگیوں کا شکار ہے۔  کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں چیزیں کرنا نہیں پڑتیں اپنے آپ ہو جاتی ہیں۔ خاندانی منصوبہ بندی کو بھی یہاں کسی فعال پالیسی نے فروغ نہیں دیا۔

یہ بھی پڑھیے: فیملی پلاننگ اسلامی روایات کے منافی ہے، ترک صدر ایردوآن

خواتین کی نس بندی پاکستان میں خاندانی منصوبہ بندی کا سب سے عام اور سب سے لازم جزو بن گیا ہے۔ اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ایک بڑی وجہ عوامی سہولت کے لیے مانع حمل اشیاء کی غیر مستقل فراہمی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ خواتین جو خاندانی منصوبہ بندی کی طرف جانے کی خواہش رکھتی ہیں، ان کو یا تو نجی ذرائع سے اشیاء کی تلاش کرنا ہوں  گی یا پھر  سہولیات کی عدم موجودگی کے باعث نس بندی کروانا ہوگی۔ 

دوسری وجہ یہ ہے ، چونکہ یہ ایک مستقل طریقہ ہے ایک بار نس بندی کے بعد خواتین اس وقت تک مانع حمل استعمال کرنے والوں میں شمار کی جاتی رہیں گی جب تک کہ وہ 49 سال کی عمر سے کم ہوں۔
پاکستان کے زیادہ تر ہسپتالوں اور کلینکوں میں اگر کوئی عورت نس بندی کے لیے اکیلی جاتی ہے تو ڈاکٹر اسے انکار کر دیتے ہیں کیونکہ انہیں ڈر ہوتا کہ بعد میں ان کے شوہر کوئی پریشانی پیدا کریں گے جس کا خمیازہ انہیں بھگتنا ہو گا۔

یہ بھی پڑھیے: نس بندی سانحہ: ’سنگین جرم اور افسوس ناک معاملہ‘

اس کے برعکس اگر کوئی مرد نس بندی کروانا چاہتا ہے تو اس کو اپنی بیوی کی رضامندی کی کوئی ضرورت نہیں پڑتی لیکن ایسا کم ہی دیکھنے کو ملا ہے کہ مرد کی طرف سے نس بندی کا سوچا جائے۔ حالانکہ میڈیکل سائنس میں  خاندانی منصوبہ بندی کی خاطر مرد کی نس بندی زیادہ آسان اور محفوظ طریقہ سمجھی جاتی ہے لیکن فرسودہ سماجی تصورات کا کیا کریں؟ جس میں مرد کی نس بندی کا مطلب مردانگی کا خاتمہ ہے۔

ان سب جوڑ توڑ کے بعد خاندان خاندانی منصوبہ بندی یا خواتین کی نس بندی کی طرف تب جاتی ہیں جب بچوں کا پہلے ہی ڈھیر لگ چکا ہوتا ہے۔ اوپر سے عورتیں اپنی طبعی عمر گزار چکی ہوتی ہیں۔ 

پاکستان ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے کے مطابق پاکستان میں خواتین کی نس بندی کی عموماً عمر 39 سال ہے۔ اس ڈھلتی عمر میں نس بندی  کا صاف مطلب یہ ہے کہ اس فیملی نے جو کرنا تھا وہ پہلے ہی کرچکی ہے۔ کرنے کو اب کچھ رہا نہیں تو سوچا کہ فارغ بیٹھ کر کیا کریں گے، نس بندی ہی کرا لیتے ہیں۔ اگر کسی نے کہہ دیا کہ ماشااللہ ماشااللہ کافی بچے ہیں آپ کے تو آگے سے کہہ دیں گی، بس جی وہ تو میں نے نس بندی کرالی ورنہ ۔۔۔

جہاں خاندانی منصوبہ بندی کے لیے وسائل بڑھانے کی ضرورت ہے وہیں مختلف ذرائع سے بیداری کی بھی بہت ضرورت ہے۔ اور معاشرے میں اس بنیادی شعور کا ہونا بھی لازمی ہے کہ ماں کی صحت یابی کے بغیر آپ صحت مند خواب نہیں دیکھ سکتے۔

 

DW.COM