″زندگی اور موت خدا کے ہاتھ میں ہے″ | حالات حاضرہ | DW | 11.05.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

"زندگی اور موت خدا کے ہاتھ میں ہے"

پاکستان میں گھر کے بجائے مساجد میں نماز پڑھنے والوں کی اکثریت کا اصرار ہے کہ زندگی اور موت خدا کے ہاتھ میں ہے اور مساجد میں نماز پڑھنا زیادہ افضل ہے۔

رمضان کے پہلے دو ہفتوں کے دوران حکومت اور علما کے بیس نکاتی ہدایات کو مساجد میں بڑے پیمانے پر ظرانداز کردیا گیا ہے۔ ایک تازہ سروے میں مساجد کے امام اور نمازیوں کی اکثریت نے کہا ہے کہ وہ حفاظتی ایس او پیز کے بارے میں جانتے ہیں تاہم پچاسی فیصد نمازیوں اور چونسٹھ فیصد آئمہ نے مانا کہ ان پر کوئی خاص عمل نہیں ہوا۔ 

یہ سروے اسلام آباد سمیت پنجاب اور سندھ کے سولہ شہروں میں غیرسرکاری تنظیم "پتن" نے انتیس اپریل سے سات مئی کے دوران کرایا۔ سروے میں شامل سندھ کی نوے فیصد مساجد میں بیس نکاتی قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی نوٹ کی گئی۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ سروے کے ذریعے حفاظتی اقدامات کے حوالے سے لوگوں کے رویوں کا اندازہ لگانا اور یہ دیکھنا تھا کہ اس سے کیا سبق سیکھا جا سکتا ہے۔

سروے میں شاید سب سے تشویش ناک بات یہ سامنے آئی کہ چوہتر فیصد نمازیوں نے کہا ان سب باتوں کے باوجود وہ گھر پر عبادت کرنے کی بجائے مسجد میں باجماعت نماز اور تراویح کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ ان کے بقول، "زندگی اور موت کو خدا کے ہاتھ میں ہے۔" آئمہ میں صرف سینتالیس فیصد نے ایک مہلک وبا کے دوران اس طرح کے رویے کی حمایت کی۔

سروے میں شامل ایک تہائی نمازیوں نے کہا کہ ایس او پیز پر عملدرآمد میں کوتاہی کے ذمہ دار امام اور مساجد کمیٹیاں ہیں۔ ساٹھ فیصد نمازیوں نے بتایا کہ مساجد کے آئمہ کی طرف سے لوگوں کو حفاظتی ہدایات کے حوالے سے کوئی خاص تلقین نہیں کی جاتی لیکن جب آئمہ سے اس بارے میں پوچھا گیا تو سبھی نے کہا کہ وہ اپنی پوری کوشش کرتے ہیں۔ اڑتالیس فیصد نمازیوں نے عملدرآمد میں ناکامی پر پولیس کو مورود الزام ٹہرایا۔

پتن کے مطابق اس سروے میں پچانوے مساجد کے ایک سو بتیس آئمہ اور مساجد کمیٹیوں نے حصہ لیا جبکہ تیئس مساجد کے آئمہ نے اس میں حصہ لینے سے انکار کیا۔

ش ج، ب ج