زمبابوے اور انگلینڈ کے خلاف سیریز، پاکستانی ٹیم کا اعلان | کھیل | DW | 16.09.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

زمبابوے اور انگلینڈ کے خلاف سیریز، پاکستانی ٹیم کا اعلان

پاکستانی قومی کرکٹ ٹیم کے دورہ زمبابوے اور انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے ٹیسٹ اور ون ڈے ٹیموں کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ ٹیم میں دو نئے کرکٹرز عامر یامین اور عمران ‌خان جونیئر کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

default

ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان شاہد آفریدی

زمبابوے کے خلاف ستائیس سمتبر سے شروع ہونے والی ٹوئنٹی ٹوئنٹی سیریز کے لیے ٹیم میں دو نئے کھلاڑی عامر یامین اور عمران خان جونیئر شامل کیے گئے ہیں جبکہ ایک روزہ اسکواڈ میں صہیب مقصود کی واپسی ہوئی ہے۔ البتہ یونس خان اور جنید خان کا ون ڈے ٹیم میں واپسی کا ارمان پورا نہ ہوسکا۔

یونس خان انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کا حصہ ہوں گے۔ مڈل آرڈر بیٹسمین فواد عالم بھی پانچ برس بعد ٹیسٹ ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ انتیس سالہ فواد کو پانچ سال پہلے سڈنی ٹیسٹ شروع ہونے سے دو روز پہلے عبدالرؤف کے ہمراہ آسٹریلیا سے وطن واپس بھیج دیا گیا تھا۔ وہ اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میں سینچری بنانے والے کرکٹرز کے کلب میں شامل ہیں۔

پاکستان کے نمبر ون ٹیسٹ بیٹسمین یونس خان نے دو روز قبل ایک ٹیلی وژن انٹرویو میں ون ڈے ٹیم میں واپسی کی شدید خواہش کا اظہار کرتے ہوئے سلیکشن کمیٹی کو دباؤ میں لینے کی کوشش کی تھی۔ تاہم چیف سلیکٹر ہارون رشید کا کہنا ہے کہ ٹیم تشکیل نو کے مرحلے میں ہے اور ہم نے سلیکشن میں تسلسل قائم رکھنے کے لیے انہی کھلاڑیوں کی اکثریت کو برقرار رکھا ہے جنہوں نے دورہء سری لنکا کے دوران ٹیم کو کامیابی دلائی تھی۔

وکٹ کیپر سرفراز احمد حج کے لیے سعودی عرب جا رہے ہیں، اس لیے وہ زمبابوے کے خلاف ٹوئنٹی ٹوئنٹی میچوں کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے۔ آل راؤنڈر انور علی بھی زخمی ہونے کی وجہ سے ٹوئنٹی ٹوئنٹی سیریز نہیں کھیل سکیں گے۔ ان کی جگہ ملتان کے نوجوان آل راؤنڈر عامر یامین کو دی گئی ہے۔

پچیس سالہ عامر یامین میڈیم فاسٹ باؤلنگ کرتے ہیں اور اچھے بیٹسمین بھی ہیں۔ منگل کو راولپنڈی میں ختم ہونے والے قومی ٹوئنٹی ٹوئنٹی کپ کے بہترین باؤلر عمران خان جونیئر بھی پہلی بار پاکستانی ٹیم میں شامل ہوئے ہیں۔

Azhar Ali

ون ڈے ٹیم کے کپتان اظہر علی

وادی سوات میں آنکھ کھولنے والے عمران خان جونیئر کو اپنی لیفٹ آرم میڈیم پیس باؤلنگ میں سلو بال ورائٹی کی وجہ سےحالیہ دنوں میں بہت شہرت ملی ہے۔ انہوں نے قومی ٹوئنٹی ٹوئنٹی کپ میں سولہ کھلاڑیوں کو اپنے دام میں لے کر پشاور کو دوسری بار چیمپئن بنوایا۔

پشاور کے اوپننگ بیٹسمین رفعت اللہ مہمند عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر بھی سلیکٹرز کا اعتماد حاصل نہ کر سکے۔ البتہ تینوں فارمیٹس کے لیے منتخب ٹیموں میں صوبہ خیبر پختونخوا کے پہلی بارچھ کھلاڑی یونس خان، محمد رضوان، یاسر شاہ، جنید خان، عمران خان اور عمران خان جونیئر شامل کیے گئے ہیں۔

پاکستانی قومی ٹیم کے سابق کپتان عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے اس صوبے میں برسر اقتدار آنے کی وجہ سے علاقے میں کرکٹ میں عام لوگوں کی دلچسپی بڑھی ہے جبکہ پشاور کرکٹ ٹیم اور کرکٹرز کی کامیابیوں میں ایک گمنام کوچ عبدالرحمان کا بھی اہم ہاتھ ہے۔ عبدالرحمان کے پشاور کا کوچ بننے کے بعد ان کی ٹیم نے ایک سال میں تیسرا ڈومیسٹک ٹائٹل جیتا ہے اور پشاور کے اکثر کھلاڑی کوچ کی پس منظر میں رہ کر حکمت عملی بنانے اور سرتوڑ محنت کو سراہتے ہیں۔

دوسری طرف ملک کے سب سے تیز باؤلر وہاب ریاض بھی ہاتھ کا زخم مندمل ہونے کے بعد تینوں فارمیٹس میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

شاہد آفریدی کو ٹوئنٹی ٹوئنٹی، اظہرعلی کو ون ڈے اور مصباح الحق کو ٹیسٹ ٹیم کے کپتان برقرار رکھا گیا ہے۔

Cricket Spiel Pakistan vs Australien in Abu Dhabi Misbah-ul Haq

ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق

سلیکٹرز نے انگلینڈ کے خلاف تیرہ اکتوبر سے شروع ہونے والے پہلے ٹیسٹ سے قبل دو پریکٹس میچوں کے لیے پاکستان کی اے ٹیم کا بھی انتخاب کیا ہے، جس کا کپتان جنید خان کو مقررکیا گیا ہے۔ ہارون رشید کے مطابق پریکٹس میچوں میں عمدہ کارکردگی لیفٹ آرم اسپنر محمد اصغر اور ظفر گوہر کو بھی ٹیم میں لا سکتی ہے کیونکہ ہم نے ٹیسٹ سیریز کے لیے سولہویں کھلاڑی کا آپشن ابھی تک کھلا رکھا ہوا ہے۔

کھلاڑیوں کے نام:

ٹوئنٹی ٹوئنٹی ٹیم: شاہد آفریدی کپتان، محمد حفیظ، احمد شہزاد، مختار احمد، عمر اکمل ، صہیب مقصود، شعیب ملک، عامر یامین، بلال آصف، محمد رضوان، محمد عرفان، وہاب ریاض، عماد وسیم، سہیل تنویر اور عمران خان جونیئر۔

ون ڈے ٹیم: اظہرعلی کپتان، سرفراز احمد نائب کپتان، محمد حفیظ، احمد شہزاد، بابر اعظم ، صہیب مقصود، شعیب ملک، اسد شفیق، انور علی، محمد رضوان، یاسر شاہ، محمد عرفان، وہاب ریاض، عماد وسیم اور راحت علی۔

ٹیسٹ ٹیم: مصباح الحق کپتان، اظہرعلی نائب کپتان، شان مسعود، محمد حفیظ، احمد شہزاد، فواد عالم، اسد شفیق، یونس خان، سرفراز احمد، یاسر شاہ، ذوالفقار بابر، وہاب ریاض، جنید خان، راحت علی اور عمران خان۔

DW.COM

  • تاریخ 16.09.2015
  • مصنف طارق سعید، لاہور